مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے 5 اگست کو کیے گے غاصبانہ اقدامات

hjrat786@gmail.com
سردار محمد حلیم خان
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے 5 اگست 19 کو کیے گے غاصبانہ اقدامات کو ایک سال ہو گیا ہے۔اس دوران اس نے کشمیر کو اپنی کالونی میں بدلنے اور کشمیریوں کو اپنی ہی سرزمین میں ان کی جائدادوں سے بے دخل کرنے اور اونے پونے بھارتی شہریوں کے حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ تیس ہزار بھارتی جرائم پیشہ افراد کو ریاست میں جائداد اور ڈومیسائل دینے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ریاست سے لداخ ریجن کو عملی طور پر کاٹ دیا گیا ہے۔سو فیصد اسرائیلی ماڈل پر عمل کر کے ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی منظم مہم شروع کر دی گئی ہے۔ایک سالہ لاک ڈاون میں کشمیریوں پہ کیا بیتی یہ الگ روح فرسا داستان ہے۔قتل و غارت دارو گیر عزتوں اور عصمتوں کی پامالی کے ایسے ایسے واقعات ہیں کہ قیامت کے دن ان مظلوموں کے ہاتھ ہوں گے اور ایٹمی پاکستان کے حکمرانوں کے گریبان.

کشمیریوں نے ظالم بھارتی فوج کی اہنی گرفتار کمزور کرنے کے لئے اپنے پاس موجود واحد اثاثہ اپنی جانوں کو بھی قربان کیا اور معصوم تین سالہ عیاد کی شکل میں پتھر لے کر بھی نکلے لیکن مقابلے میں ایک ریگولر فوج یے جو کسی بھی قسم کی اخلاقیات کی کوئی تاریخ نہیں رکھتی۔ان معصوم ہاتھوں کو جدید شارٹ رینج میزائلوں کی ضرورت ہے۔سمارٹ گننز درکار ہیں۔یہ ضرورت پوری نہیں کی گئی۔کنٹرول لائن پر دباو بڑھانے کی بجائے حکمران طبقہ سارا سال ڈراتا رہا کہ اب بھارت نے آپریشن کیا کہ تب کیاواحد کام جو ہوا وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کی جاندار تقریر تھی لیکن اس کا بھی فالو آپ نہیں رکھا گیا۔وزیر خارجہ کسی ملک کے دورے پر نہیں گے۔کشمیریوں کے وفود بیرون ملک نہیں بھیجے گے۔بھارت کی اتنی بڑی جارحیت کے باوجود شملہ تاشقند جیسے معاہدے اور کئی میمورنڈم جو تحریک آزادی کو نقصان پہنچانے والے ہیں ان کو بھارت کے منہ پر نہیں مارا گیا۔یاد رکھیں جب آپ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لئے مرے جا رہے ہوں تو دنیا آپ کا ساتھ نہیں دے گی۔جن عربوں سے آپ کو شکایات ہیں انھوں نے 55 سال تک آپ سے وفاداری نبھائی لیکن مشرف نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر اورڈالروں کے عوض عربوں کی پکڑ دھکڑ کی تو انھوں نے بھی متبادل راستوں کی طرف دیکھنا شروع کیا۔

ان سطور کے ذریعے پاکستان کے حکمرانوں کو کچھ عملی تجاویز دینا چاہتا ہوں

1۔بھارت سے تمام معاہدے ختم کیے جائیں چونکہ اس نے کشمیر کے معاملے میں اپنے بین القوامی یقین دہانیوں سے راہ فرار اختیار کیا ہے
2۔کشمیریوں کو بھارتی فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے موثر مادہ امداد دی جائے
3۔پاکستان بھارت کی دھمکیاں برداشت نہیں کر پاتا ال آوٹ وار کے خوف سے حکمران طبقہ کے ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں اس لئے تحریک آزادی کشمیر میں عسکری شعبے کو منظم کرنے کا اختیار آزاد حکومت کو دیا جائے
4۔بین الاقوامی محاذ پر تحریک آزادی کودنیا میں پیش کرنے کا کام آزاد حکومت کے حوالے کیا جائے۔پاکستان کے سیاستدانوں کی بے خبری کا عالم یہ ہے کہ ایک وفاقی وزیر جو سابق وزیر اطلاعات ہیں سید علی گیلانی کے نام تک سے ناواقف نکلے ۔وہ ایکسپوز ہو گے ورنہ حالت سب کی ایک جیسی ہے۔ایسے لوگ دنیا کو تحریک آزادی کشمیر کے بارے میں کیا بریفنگ دیں گے۔
اگر حکومت سنجیدہ ہے تو پانچ اگست کو ان اقدامات کا اعلان کرے۔ورنہ تقریریں کرنے اور قراردادیں پاس کرنے سے آزادی نہیں مل سکتی۔عوام میں شدید لاوا پک رہا ہے۔بیس کیمپ کی حکومت بھی بے عملی کی تصویر ہے۔یہی حال سیاسی جماعتوں کا ہے۔بیس کیمپ کی حکومت اور سیاسی جماعتوں کے طرز عمل سے کہیں نہیں لگتا کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات تحریک آزادی کے لئے کتنے خوفناک ہیں۔
لیکن عوام تو عوام ہیں عملی کام پاکستان کے حکمرانوں نے کرنا ہے یا بیس کیمپ کی حکومت نے.