پی ڈی ایم کے جلسے میں مجبور خواتین کا رقص انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی

عمران خان کے جلسوں میں خواتین کا رقص اور کل رات متحدہ اپوزیشن کے جلسوں میں خواتین کے رقص میں کچھ فرق ہے۔

عمران خان کے جلسوں میں اکثر آپ نے دیکھا ہو گا خواتین ڈانس کر رہی ہیں جس پر بہت سارے لوگوں نے تنقید بھی کی آج تک کر رہے ہیں۔ ان ڈانس کرنے والی خواتین کی اکثریت کا تعلق ہائی سوسائٹی سے تھا جنہیں سیاست میں کوئی خاص انٹرسٹ بھی نہیں تھی۔ صرف عمران خان کی وجہ سے وہ جلسوں میں آتیں اور ابرارالحق، عطاء اللہ، سلمان احمد کے گانوں پر ڈانس کرتیں، پکننک بناتی اور واپس چلی جاتیں۔ ان خواتین کے مسائل تو کوئی تھے نہیں، انجوائے کرنے جلسوں میں آتی تھیں اور ڈانس کرکے چلی جاتی تھیں۔ ایسا ایک اسلامی ملک میں ہونا نہیں چائیے تھا۔

لیکن

کل پی ڈی ایم کے جلسے میں جو خواتین ڈانس کر رہی تھیں ان میں سے اکثریت مانگنے والی غریب خواتین کی تھیں صاف لگ رہا تھا کہ انھیں پیسے دے کر لایا گیا ہے اور گائیڈ لائن دی گئی ہے کہ ڈانس کرنا ناچنا۔

یہ مجبور، بے کس خواتین کہیں سے بھی سیاسی کارکن نہیں لگ رہی تھیں جو لیڈروں کے لئے ایکسائٹڈ ہو کر ناچتیں۔ یہ حکومت سے تنگ آ کر بھی جلسے میں نہیں آئی تھیں کیوں کہ اگر حکومت سے تنگ آ کر یہ بیچاری خواتین جلسے میں آتیں تو آ کر جشن نہ بناتیں بلکہ اپنا دکھڑا سناتیں، یا چپ ہو کر سنتی کہ شاید کوئی لیڈر ان کے بھلے کی بات کرے یا ہو سکتا ہے اپوزیشن ان کے حالات بدلنے میں مدد کرے۔

لیکن ان ان کے بے سرو پا ڈانس سے ایک اندھے کو بھی لگ رہا تھا کہ انھیں پیسے دے کر اس مقصد کے لئے لایا گیا ہے۔

آئین اور قانون کی حکمرانی کی بات کرنے والے مولانا فضل الرحمن صاحب،
مولانا اویس احمد نورانی صاحب،
خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے بلاول بھٹو صاحب
اور محترمہ مریم نواز صاحبہ کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ان کے جلسوں میں یہ غیر اخلاقی، غیر شرعی کام تو ہوا ہے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی سنگیں خلاف ورزی بھی ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں