تھوراڑ کی تاریخی شخصیت محروم الحاج مولانا عبدالعزیز۔۔۔تحریر : سردار مصطفی خان تحصیل تھوراڑ خاص

قسط نمبر 2 کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ حقیقت ہے
تھوراڑ کی تاریخی شخصیت
محروم الحاج مولانا عبدالعزیز تھوراڑ وی کے تاریخی کارناموں پر محروم سردار مختیار خان ایڈوکیٹ صاحب نے اپنی کتاب آزادی کا خواب پریشاں میں کچھ روشنی ڈالی ہے اُس کتاب سے کچھ الفاظ چھوڑ کر چند واقعات اور تاریخی کارنامے آپ لوگوں کے ساتھ شئیر کر رہا ہوں میں نے اس سے پہلی پوسٹو ں پر تحریر کیا تھا تھوراڑ مرکز بنانے والوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا یہ اسی سلسلے کا ایک تسلسل ہے اور میں نے مولانا عبدالعزیز تھوراڑوی سے شروع کیا ہے اصل میں یہ پوسٹ پہلی ہونی چاہیے تھی اور جو پہلے لکھ چکا ہوں وہ دوسری ہونی چاہیے تھی آپ سب حضرات پڑھنے والے اس پوسٹ کو پہلی پوسٹ سمجھیں اور جو پہلے لکھ چکا ہوں اُس کو دوسری پوسٹ سمجھیں اب آتے ہیں اصل موضوع پر محروم سردار مختیار خان ایڈوکیٹ مولانا صاحب کے لئے لکھتے ہیں پونچھ کی ممتاز سیاسی و دینی شخصیت الحاج مولانا عبدالعزیز تھوراڑوی فاضل دیوبند ان بزرگان دین میں سے تھے جو اپنی زندگی ملک و ملت پر نچھاور کرنے میں سبقت لے جانے کے لیے ہمیشہ سینہ سپر رہے ہیں مولانا کی پیدائش علاقہ کا ہنڈی کے مردم خیز خطے کے ایک گاؤں موضع تھوراڑ میں ہوئی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی جو ایک دیانتدار بزرگ تھے اس گھر یلو دینی ماحول نے ان میں دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا کیا اور 13 14 سال کی عمر میں گھر سے حصول علم کی تلاش میں نکل گئے پنجاب کی مختلف دینی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند ہند میں دین کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خاطر داخل ہوئے اور وہاں امتیازی حیثیت سے دو سال میں پورا کورس مکمل کرلیا انہوں نے دینی تعلیم مکمل کر لی جس میں دیوبند کی دو سالہ محنت شاقہ بھی شامل ہے برسوں کی محنت شاقہ اور حصول علم کے بعد جب وطن واپس پہنچے تو یہاں غلامی اور جہالت کا دور دورہ تھا یہ غلامی تہری غلامی تھی یہاں براہ راست راجہ پونچھ کا راج تھا جس پر مہاراجہ کشمیر کا کنٹرول تھا اور مہاراجہ کشمیر انگریزی راج کے تحت تھا یہاں کے لوگ غلامی در غلامی جہالت اور غربت کے علاوہ آپس کے اختلافات اور باہمی مقدمہ بازی میں بھی مبتلا تھے ڈوگرہ حکومت ظلم و ستم اور خونریزی کے بعد یہاں کے حریت پسندوں کو شکست دینے اور یہاں کی آبادی کو لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بنانے کے بعد قائم ہوئی تھی اور اس کا سلسلہ مظالم جاری تھا ہندوؤں اور سکھوں کو ہر طرح کی سہولتیں اور مراعات حاصل تھیں مگر مسلمانوں کو تمام سہولتوں سے محروم کرکے انہیں امتیازی سلوک کا ہدف بنا کر سیاسی و اقتصادی طور پر مفلوج کر دیا گیا تھا گائے بیل بھینس کے ذبح پراس قدر پابند تھی کہ اگر ان میں سے کسی جانور کو ذبح کیا جاتا تو یہ جرم قابل دست اندازی پولیس ہونے کی وجہ سے ذبح کرنے اور اس میں اعانت کرنے کا جرم ثابت ہونے پر برسوں قید بھگتنا پڑتی مسلمانوں کو بھینس رکھنے پر سالانہ ٹیکس دینا لازم تھا ہندوؤں اور سکھوں کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا اس ٹیکس کا نام ترنی ٹیکس تھا اگر کوئی ہندو یا سکھ مسلمان ہو جاتا تو اس سے اس کی جائیداد سے محروم کر دیا جاتا تھا جس کے لیے باقاعدہ قانون بنایا گیا تھا مسلمانوں پر روزگار کے دروازے بند تھے اور انہیں تعلیمی و طبی سہولتوں سے محروم رکھا جاتا تھا اور لوگوں سے بلا اجرت کام لیا جاتا تھا جسےبیگار کہا جاتا تھا لوگوں کو کئی کئی روز بلکہ ہفتوں بطور بیگار پونچھ شہر میں لے جاکر فیصل اور گھاس کے مواقع پر پابند کردیا جاتا تھا فصل کی بجائی فصل اور گھاس کی کٹائی کے دوران ان لوگوں کو اپنے اہل خانہ کی کوئی خبر نہ ہوتی تھی کہ ان پر کیا گزر ی یا وہ کس حال میں ہیں ان کو اپنی زمین سے درخت کاٹ کر جلانے اور مکان بنانے پر بھی پابندی تھی مولانا محروم جب تحصیل علم کے بعد واپس آئے تو بابائے پونچھ خان صاحب کرنل خان محمد خان اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد کے نتیجہ میں بیگار معاف ہو چکی تھی اور اپنی مزروعہ زمین سے درخت کاٹ کر استعمال کرنے کی اجازت بھی ہوچکی تھی مگر بیگار کی معافی اور مزروعہ زمینوں سے درختان کی واگزاری کے سوا دیگر پابندیاں اور جابرانہ قوانین جن کی تفصیل درج کرنے کی گنجائش نہیں بدستور موجود تھے اگرچہ سیاسی بیداری اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا آغاز بابائے پونچھ اور ان کے ساتھیوں کی مہرون منت ہے مگر اسے تقویت دینے اور اسلام کے آفاقی اصولوں کے مطابق منظم کرنے کے لئے کسی ایسے علم دین کی ضرورت تھی جو دینی تعلیمات ہونے کے علاوہ جرات اور ہمت مردانہ کا بھی پیکر ہو مولانا کی آمد پر یہ ضرورت پوری ہوگی دیو بند کی فضا اور اس کے ماحول نے ان کی دینی و سیاسی تربیت کچھ اس طرح کی تھی . یہاں تک میں نے اس پوسٹ کا آخری لفظ لکھا اسی لفظ سے اگر میری پہلی والی پوسٹ سے اگر آپ دوبارہ پڑھنا شروع کریں گے تو آپ کو بالکل اس پوسٹ اور اس پوسٹ کا آپس میں تسلسل آپ قارئین گرام کو نظر آئے گا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے
تحریر : سردار مصطفی خان تحصیل تھوراڑ خاص
2020۔12۔3

اپنا تبصرہ بھیجیں