محروم الحاج مولانا عبدالعزیز تھوراڑ وی : تحریر: سردار مصطفی خان تھوراڑ خاص

قسط نمبر 4
کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ حقیقت ہے
پونچھ کی ممتاز دینی و سیاسی شخصیت
محروم الحاج مولانا عبدالعزیز تھوراڑ وی

قسط نمبر 3 سے جہاں سلسلہ رکا تھا وہاں ہی سے قسط نمبر 4 کا آغاز کیا جا رہا ہے یہاں کی سیرت کانفرنسوں اورتبلیغی جلسوں میں پاکستان کے اکثر علماء کو دعوت دی جاتی تھی وہ جب یہاں اگر مولانا کی تقریریں سنتے تو اس سے آزاد کشمیر کے لوگوں کی خوش قسمتی قرار دیتے تھے کہ مولانا جیسا شخص یہاں موجود ہے مولانا کی سادگی اور اخلاص کی یہ عالم تھا کہ کھانے کے بارے میں کبھی یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ ان کی پسندیدہ غذا کیا ہے جو کچھ بھی سامنے آجائے بلا تکلف تناول فرما لیتے کبھی ان کی طبیعت میں ناگواری کے آثار نظر نہیں آئے خواہ سوکھی روٹی ہی ان کے سامنے رکھی جائے یہی حال ان کے ساتھ سفر میں رہائش کے بارے میں محسوس ہوتا اگرچہ صفائی پسند تھے مگر ملیے کچیلے بستر میں بھی سونا گوارا کرلیتے تھے ایسے حالات میں اپنا طالب علمی کا زمانہ یاد کرتے رہتے تھے لباس کے بارے میں بھی ان کی بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ ایک عزیز نے شیروانی کے لئے ایک اعلیٰ قسم کا کپڑا مولانا کو تحفے کے طور پر دیا محروم سردار مختیار خان ایڈوکیٹ راولاکوٹ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں میں نے شیروانی بنوانے پر انہیں آمادہ کیا اور ساتھ لے جا کر ایک اچھے سے ٹیلر کے ہاں ما پ دے دیا کچھ عرصے بعد شیروانی سلی ہوئی مولانا کے پاس آئی مگر میرے اصرار پر مجبور اً چند ایک بار جمعۃ المبارک کو زیب تن کی اس کے بعد یہ پہنے کی نوبت ہی نہ آئی اور کئی سال بعد ان کی وفات 30 دسمبر 1987 کو ہوئی تو اس شیروانی کا کچھ پتہ نہ چلا کہ ان کے ترکہ میں موجود بھی ہے یا کسی کو تحفہ کے طور پر دے دی تھی یہ تو تھے مولانا کی زندگی کے مختصر کوائف اب تعمیر مسجد اور قیا م دینی مدا رس کے سلسلے میں مولانا کی ساعی جمیلہ کا مختصر تذکرہ بالخصوص جامع مسجد تھوراڑ مرکزی جامعہ اسلامیہ مسجد راولاکوٹ جامع مسجد کس بازار موجودہ عزیزآباد اور ان ہی مسجدوں میں مدرسوں کا قیام مولانا نے اپنی تبلیغ اور وعظ و نصیحت کے ذریعے مختلف مقامات پر درجنوں دینی مرکز قائم کرکے تعلیم اور درس و تدریس کا کام شروع کرایا جو ان کا فیض اور صدقہ جاریہ ہے خصوصاً جامع مسجد تھوراڑ جامعہ اسلامیہ راولاکوٹ ان کی توجیہات میں سر فہرست تھیں آخر میں محروم سردار مختیار خان ایڈوکیٹ لکھتے ہیں جامعہ اسلامیہ راولاکوٹ کے لیے حکومت سے پیش قیمت اراضی کا حصول مولانا کا منفرد اور یادگار کارنامہ ہے جو ان کی طرف سے اہل راولاکوٹ کو یادگار تحفہ ہے یہ سب جو کچھ لکھا قسط نمبر 1 سے قسط نمبر 4 تک محروم سردار مختیار خان ایڈوکیٹ کی کتاب آزادی کا خواب پریشاں میں سے آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کی ہیں آئندہ آنے والی پوسٹوں میں محروم مولانا عبدالعزیز کے تاریخی کارناموں اور تھوراڑ مرکز کے لیے جو انکی اور دوسرے لوگوں کی تھوراڑ مرکز بنانےاور ادارے لانے والو کی جو خدمات ہیں وہ بھی آپ لوگوں کے ساتھ اسی طرح قسط وار شئیر کی جائیں گی آگے آنے والی قسط انشاءاللہ نمبر5 ہوگی آخر میں دعا ہے محروم مولانا عبدالعزیز اور محروم سردار مختیار خان ایڈوکیٹ کی اللہ تعالی مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے
تحریر سردار مصطفی خان تعصیل تھوراڑ خاص
2020۔12۔11

اپنا تبصرہ بھیجیں