مرحوم الحاج مولانا عبدالعزیز تھوراڑوی ۔۔۔۔ تحریر: سردار مصطفی خان تحصیل تھوراڑ خاص

قسط نمبر 3
کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ حقیقت ہے
پونچھ کی ممتاز سیاسی و دینی شخصیت
مرحوم الحاج مولانا عبدالعزیز تھوراڑوی
پہلی قسط میں جہاں سے سلسلہ ایک لطیفہ پر رکا تھا وہاں ہی سے آغاز کرتے ہیں لطیفہ یہ تھا کہ ایک ہندو جو ہمیشہ بت کی پوجا کرتا تھا اس بت پر صبح و شام پانی ڈالا کرتا تھا جبکہ اس کا دوسرا بھائی مسلمان تھا اور وہ اسے بت پرستی چھوڑنے کی ترغیب دیتا تھا مگر ہندو اپنے معمول میں کوئی فرق نہ آنے دیتا اور بت کی پوجا اور اس بت پر پانی ڈالنے کا عمل جاری رکھا ایک دن ایک کتا آیا اور دونوں بھائیوں کے دیکھتے دیکھتے اس بت پر پیشاب کر کے چلتا بنا یہ دیکھ کر مسلمان نے اپنے بھائی سے طنزیہ پوچھا کہ اس کتے نے کیا کیا ہے اس پر ہندو نے بڑی ڈھٹا ئ سے جواب دیا کہ کتا بھی پانی ڈال کر گیا ہے مولانا نے یہ لطیفہ بیان کرنے کے بعد ہندوؤں کی تو ہم پرستی اور ہندو دھرم کی خامیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور مسلمانوں کو ایسی توہم پرست قوم سے چھٹکارا پانے کی ترغیب دی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مولانا کی اس طویل تقریر میں زندگی کا ایسا پیغام تھا جس سے سا معین نے پوری طرح محسوس کیا اور ایک ولولہ تازہ سے مہعمور ہوئے پونچھ کے اُس وقت کے مسلمان آفیسر جو اس وقت اجلاس میں موجود تھے مولانا کی اس تقریر کی تاثیر کا آج بھی بڑے ذوق و شوق سے ذکر کرتے ہیں اور مولانا کی جرات اور بے باکی کی تعریف کرتے ہیں جلسے کے بعد وزیر پنڈت بھیم سین جو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پونچھ بھی تھے اس خطاب کی پاداش میں چھ ماہ کے لیے کسی قسم کی تقریر کرنے سے باز رکھنے کے لیے زبان بندی کا حکم جاری کردیا یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اس حکم کی پابندی نہیں کی علاقہ میں پہنچ کر آزادی کی تحریک میں عملی طور پر شامل ہوکر جہاد کے موضوع پر تقاریر سے عوام میں جوش و ولولہ پیدا کیا عوام کے دل سے حکمت کا خوف دور کیا اور نہ صرف عوام کو منظم کر کے جہاد پر آمادہ کیا بلکہ خود بھی عملی طور پر جہاد میں حصہ لیتے ہوئے اسلحہ امنیشن ٹھنڈے پانی میں دریائے جہلم سے تہر کر ریاست میں پہنچا یا پھر دست بدست جنگ میں شامل ہوکر ڈوگرہ فوج کو تھوراڑ کا مورچہ چھوڑنے پر مجبور کیا ایک دن میں تھو راڑ کے مقام پر 36 مجاہدین کی جنگ میں شہادت مولانا کی تبلیغ اور خود جنگ میں شمولیت کا نتیجہ ہے یہ صرف تھوراڑ کے محاذ تک ہی محدود نہیں بلکہ ٹائیں سے لے کر پونچھ کے محاذ تک کوئی بھی مقام ایسا نہیں ہے جہان انہوں نے جنگی اور تبلیغی خدمات انجام نہ دی ہو ں انہوں نے جنگ کے دوران جہاں ایک مجاہد کی حیثیت سے عملی حصہ لیا وہاں ایک عالم دین کی حیثیت سے جذبہ جہاد سے مجاہدین کو سرشار کیا اور ایک منتظم کی حیثیت سے ضروریات جہاد اور انتظامی امور کی انجام دہی میں بھی مصروف رہے انہوں نے اپنے علاقہ سے ڈوگرہ فوج کی پسپائی کے ساتھ ساتھ اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر مجاہدین کے گھروں کی اندرونی نظم ونسق اور امن امان کی بحالی کے انتظامات میں مرکزی کردار ادا کیا آزادی کے بعد تبلیغی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مولانا کی سیاسی و سماجی سرگرمیاں بھی بدستور جاری رہیں مگر دین کی تبلیغ ان کا مرکزی و بنیادی مشن تھا یہی وجہ تھی کہ آزاد کشمیر میں تبلیغی جلسہوں اور سیرت کانفرنسوں میں شرکت کے لیے منتظمین مہینوں پہلے ان سے اصرار کرتے تھے اور ان جلسوں میں ان کی شرکت سے چار چاند لگ جاتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے
تحریر: سردار مصطفی خان تحصیل تھوراڑ خاص
2020۔12۔7

اپنا تبصرہ بھیجیں