محروم الحاج مولانا عبد العزیز تھوراڑوی تحریر: سردار مصطفی خان تھوراڑ خاص

قسط نمبر 5
کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ حقیقت ہے
پونچھ کی تاریخی شخصیت کے تاریخی کارنامے
محروم الحاج مولانا عبد العزیز تھوراڑوی

ضلع پونچھ کے تمام مرکزی مقامات میں قرآن و سنت کی دعوت کو پھیلانے کے لئے بار بار جانا جامع دارلعلوم پلندری میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات اور پلندری کی تاریخی مسجد میں جمعۃ المبارک کے موقع پر وعظ و تبلیغ 1945 میں جامع مسجد مکی تھوراڑ کی بنیاد رکھی مرکزی جامع مسجد راولاکوٹ کی تعمیر میں نمایاں کردار جامع مسجد عثمانی کس بازار موجودہ مولانا صاحب کے نام عزیز آباد مدرسہ جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن راولاکوٹ کا قیام جامعہ خدیجہ الکبری للبنات تھوراڑ و مدرسہ تعلیم الاسلام مدرسہ تعلیم الاسلام للبنین و جامعہ عزیزیہ للبنات عزیز آباد 17 اگست 1947 نواب جسی خان کے مسکن جسہ پیر کے مقام پرہمراہ شیخ الحدیث مولانا یوسف اور بہت بڑی تعداد میں علاقہ کاہنڈی کی نامور شخصیات اور اپنے رفقائے کار سمیت بہت بڑی تعداد میں لوگوں سے قرآن پاک درخت کے ساتھ لٹکا کر درخت کے نیچے سے لوگوں کو گزارکر حلف لیا گیا کہ ڈوگرہ حکومت سے جہاد کرکے آزادی لیں گے 1947 میں وار کونسل کے ممبراور کئی مرتبہ رات کی تاریکی میں دریائے جہلم کو تہر کر عبور کرنا ہمراہ کیپٹن بوستان خان نڑ اور اسلحہ لے کر آنا جہاد آزادی میں معرکہ تھوراڑ وراولاکوٹ میں بنفس نفیس شرکت کی اور دشمن کے تعاقب میں محاذ چڑی کوٹ تک جانا آزاد کشمیر میں محکمہ افتاء کے قیام کی کوشش اور محکمہ افتاء میں بطور مفتی تقرر بانی و مہتمم جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن مرکزی جامع مسجد راولاکوٹ بانی و مہتمم جامع مسجد مکی تھوراڑ سرپرست اعلی جمعیت علماء اسلام آزاد کشمیر و رکن علماء مشائخ کونسل آزاد کشمیر و رکن زکوۃ کونسل مولانا کو خطیب کشمیر کا خطاب بھی ملا آزاد کشمیر تحریک ختم نبوت 1953 میں بھرپور شرکت اور گرفتاری ایک اور ناقابل فراموش کارنامہ منگ تھوراڑ راولاکوٹ روڑ یہ اس لیے ناقابل فراموش کارنامہ ہے یہ 1956 یا 1957 یا 1958 کا واقعہ ہے اس روڈ کا سر وہ جو اب موجودہ غازی اے ملت روڈ ہے یہ اس طرح کا سر وہ تھا مگر مولانا نے تھوراڑ منگ اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو ساتھ لے کر جب گوئی نالہ کے مقام پر پہنچے تو جو سروے کے نشان لگے ہوئے تھے یعنی بتیوں لگی ہوئی تھی مولانا نے اکھاڑ کر پھینک دی اور کہاں روڈ اس راستے سے جائے گی حکومت آزاد کشمیر نے مولانا کو بہت لالچ دی ہم کھڈ کے مقام سے آپ کے گھر تک پکی روڈ بنا کر دیں گے مگر مولانا نے انکار کر دیا اور کہا ایک روڈ آزاد پتن ساوہ سے پلندری جاتی ہے اور دوسری روڈ ۔ ڈھگوٹ ٹائیں سے راولاکوٹ جاتی ہےاور اس روڈ کا سنٹر منگ تھوراڑ رہا ڑہ سے راولاکوٹ تک بنتا ہے لہذا اس روڈ کا سروا چینج کیا جائے آخر حکومت نے مجبور ہو کر روڑ کا رخ منگ نکہ تھوراڑ رہاڑہ ٹوپہ کھڑک راولاکوٹ کی طرف کیا اور اس روڑ کو اس طرف کرانے میں بابو فضل داد نڑ والے نے بھی ایم کردار ادا کیا کیونکہ سنا ہے وہ اس وقت سروئیر تھے اور بعد میں بابو فضل داد کھڑک راولاکوٹ شفٹ ہو گئے تھے یہ مولانا صاحب کی بہت بڑی قربانی ہے گوئی نالہ سے لے کر کھڑک پلی تک جو بھی اس روڈ پر بازار یا مرکز بنے ہوئے ہیں یا بلڈنگ بنی ہوئی ہیں اور دیگر لوگوں کو جو اس روڑ سے فائدہ پہنچا ہے ان سب لوگوں کو مولانا عبدالعزیز تھوراڑ وی کا شکر گزار ہونا چاہیے اور مولانا کے ایسے تاریخی کارناموں پر زبردست خراج تحسین پیش کرنا چاہیے حکومت آزاد کشمیر نے مولانا عبدالعزیز تھوراڑ وی کی تحریک آزادی کشمیر کی خدمات کے اعتراف میں بعد از وفات گولڈ میڈل دیا منگ تھوراڑ راولاکوٹ روڑ کو خطیب کشمیر مولانا عبدالعزیز تھوراڑوی کے نام سے اور بوائز انٹر کالج بوائز ڈگری کالج تھوراڑ کو مولانا عبدالعزیز کے نام سے سرکاری سطح پر منسوب کیا مگر اس روڑ کے حکومتی نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود بھی محکمہ شاہرات نے ابھی تک اس روڈ پر مولانا کی نام کی تختی نہیں لگائی ہے میری گزارش ہے تھوراڑ کے سرکردہ رہنماؤں اور مولانا عبدالعزیز ویلفیئر ٹرسٹ کے ذمہ داران سے کہ جس طرف میں نے نشاندہی کی ہے اس طرف توجہ دیں یہ جو باتیں میں نے لکھی ہیں ان میں سے بعض باتیں جامع مسجد مکئ تھوراڑ کے عقب میں مولانا کی آخری آرام گاہ پر لگے ہوئے کتبے پر بھی لکھی ہوئی نظر آئیں گی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے
تحریر سردار مصطفی خان تحصیل تھوراڑ خاص
2020۔12۔13

اپنا تبصرہ بھیجیں