بے بسی۔۔۔جاگتی آنکھیں۔۔۔سردار کامران غلام

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو
میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا

ہم خوش قسمت یا بدقسمت لوگ ہیں، اس کا مجھے علم نہیں مگر ایک بات ضرور ہے کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہاہے ، اچھا نہیں ہو رہا۔ہم وہ نسل ہیں جس نے پہلے اپنے کھیتوں کی خوشبو سے محرومیاں اختیار کیں، خوبصورت خاندانی زندگی سے ٹیکنالوجی کے بڑے سمندر میں غوطہ زن ہو گئے، ڈوب رہے ہیں یا تیر رہے ہیں ، غوطہ زنوں کو کیا خبر کہ کیا ہو رہاہے؟حکومتیں یہاں کی ہوں یا پاکستان کی بلکہ دنیا کی حکومتیں کیوں نہ ہوں اس سرمایہ داری نظام میں انسان کو وہ بدحال دیکھا کہ اس سے پہلے یہ بدحالی نہ دیکھی تھی۔
پہلے تو Colonialism اور پھر Post Colonialism کی غلامی دیکھی اور اب ہمیں International Financial Colonialism کا سامنا ہے۔ ملازم ہو ، سرکار کا ہویا کہیں اور ، سر پیٹ کے بیٹھ گیا ہے ۔ معاشی حالات ہوں یا سماجی حالات ،ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ کسان تو پہلے ہی سب کو کھلانے کے باوجود غربت اور بے بسی کی تصویر تھا ، اب بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری کے باعث بھوک اور ننگ کے سفر پر ننگے پائوں ہی نکل پڑاہے، ناجانے وہ صبح کب آئے گی؟

ہم وہ نسل ہیں جن کو Pre-Earth Quack زندگی کا تجربہ بھی حاصل ہے، Post-Earth Quack زندگی کیسی گزر رہی ، یہ بھی ہمارے ہی تجربہ میں آیا ہے ، Pre-Dengue اورPost Dengue چیلنج بھی ہم نے دیکھا اور عبور کیا۔ اب دیکھ لیجیےPre-COVIDزندگی اور Post COVID بے چینی اور تنہائی بھی ہمارے حصے میں آئی ہے۔ کاش کہ اجل بھی ایک سواری ہوتی جو بقول Emily Dickinsonہمیں وہ خوبصورت معلوم ہوتی اور ہم کہتے۔Because I could not stop for death, but she kindly stopped for me اور وہ ہمیں اپنے ساتھ کوچ پر بٹھا کر دوسرے جہاں لے جاتی اور ہم بھی خوشی خوشی اُس کے ساتھ ہو لیتے۔مگر کیا کیجیے کہ ہمیں Emily Dickinson کی طرح موت پیاری نہیں اور نہ ہی وہ اس طرح آتی ہے جس طرح Emily Dickinsonخواہش رکھتی ہے ۔ وہ اچانک سے ہمارے پاس سے کسے لے جائے اور کون سے جہاں لے جائے بقول Shakespear, From where no body returns خیر اسی تذبذب اورمشکل میں جیتے جیتے کسی دوسری مشکل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اب تو گھبرا کہ یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

غالب کے نزدیک نہ تو جینا آسان اور نہ ہی مرنے کے بعد چین، پہلے زندگی کے گھیرے میں قید اور اُس کے اوپر جو پہلے لکھی گئی مشکلات ، پھر مرنے کے بعد چین کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔کچھ بھی کہیں زندگی دوستوں سے جو مزیدار رہتی ہے مگر COVID-19 کے بعد ہمارے دوست ، مہربان اور رفقائے کار موت کی کوچ میں سوار ہو کر ہمیں چھوڑ کر دائمی سفر اختیار کر گئے ۔ یہ وہ سفر ہے جو ہم سب نے بھی بالآخر طے ہی کرناہے۔ کل نفس ذائقہ الموت COVID-19اگر نہ ہوتا تو کچھ اور ہوتا.بقول غالب: بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
پروفیسر ڈاکٹر افتخار صاحب کرونا کا شکار ہوئے ، “ان کی زندگی پر تحریر تو الگ سے لکھی جائے گی” ،اور جانبر نہ ہو سکے، تعلیم سے وابستہ ، اصولوں کے پکے ، کھیل کے شیدائی ، دوستوں کے دوست ، مہمان نواز، ملن سار اور دبنگ شخصیت کو یہ وبا ہم سے چھین کے لے گئی۔ اب کہ بہاروں میں بھی وہ بہاریں کہاں سے ہوں گی جو ان دوستوں سے زندگی کے چمن میں کھلا کر تی تھیں۔ اسی طرح سردار زبیر لیکچرر گورنمنٹ انٹر کالج داتوٹ، حادثے کا شکار ہو کر ہم سے جدا ہو گئے ۔ زندگی میں مسکرانااور کھلکھلانا، ان ہی دوستوں کی صحبت سے میسر تھا، بہاریں اب بھی آئیں گی مگر وہ خوشبوویں جو ان کے مہکنے سے تھیں اُن کیلئے دل ترستا ہی رہے گا۔سردار زبیر صاحب جواں عمری میں ہزاروں اُمیدیں پس پشت ڈال کر اجل کی کوچ کے مسافر بن گئے۔ کیسے لکھوں کہ وہ ہمیں چھوڑ کر ایسی جگہ چلے گئے جہاں سے کوئی واپس لوٹ کر نہیں آتا۔

پروفیسر افتخار صاحب اور سردار زبیر صاحب کے ہزاروں شاگرد غم میں نڈھال ہیں، صبح صبح میری کلاس اگر راولاکوٹ کالج میں پہلی تھی تو سب سے پہلے افتخار صاحب کی کلاس بھی پہلی ہوا کرتی تھی، اسی طرح داتوٹ میں سردار زبیر صاحب کی اور میری کلاس پہلی پہلی ہی ہوتی تھی، صبح صبح دونوں کو دیکھ کر دن کا تعلیمی آغاز ہوا کرتا تھا ، سلام دعا اور کچھ لطائف کے ساتھ ساتھ کلاسز کی طرف اکٹھے چلتے تھے، یہ جو تھوڑی چہل قدمی تھی ، ہزاروں زمانے جیسا کہ اس گفتگو اور ہنسی مذاق میں سما جاتے تھے۔سردار زبیر صاحب کبھی کبھار ہاسٹل میں اپنے ہاتھ کا پکا ہوا پراٹھا لے آتے تھے ، کالج کینٹین میں ایک دو لقمے ذائقے کیلئے ہم بھی لے لیتے تھے۔ پروفیسر بدر منیر صاحب زور کا قہقہہ لگاکر کہتے تھے ، زبیر صاحب! پراٹھا بہت اچھا پکاتے ہیں اور میں سالن۔

اپنا تبصرہ بھیجیں