بےچارے اوورسیز پاکستانیز۔۔ تحریر: رفعت رشید عباسی

سعودی عرب میں مقیم ہم وطن ملکی معشیت کو سالانہ 20 ارب ڈالرز سے زائد کا سہارا دیتے ہیں لیکن ان بیچاروں کی اپنی زندگی مشکلات میں گھر ی رہتی ہے۔ گھروں سے دور شدید موسم میں شدید محنت سے اپنے پیاروں کی زندگیوں میں آسائش کا ساماں کرنے والے خود اپنی زندگی مشقت میں گزارتے ہیں۔

گھریلو خاندانی معاملات و الجھنیں ، اولاد کی تربیت، وسائل کے ضیاع جیسے مسائل کا تو سامنا انہیں رہتا ہی ہے
شدید جذباتی دباو کا شکار اس وقت ہوتے ہیں جب نہ اپنوں کی خوشیوں میں شریک ہو پاتے ہیں اور نہ ہی پیاروں کے جنازوں کو کندھا دینے کا موقعہ پاتے ہیں دل پر ہر لمحہ جبر کرتے یہ غریب الوطن حرمین زیارت کا موقعہ ملنے پر ہی خود کو خوش قسمت تصور کرتے ہیں۔

ان مسائل سے لڑتے ان محنت کشوں کو ہمیشہ حکومت اور ریاست کے سوتیلے پن کا سامنا رہتا ہے

سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ہر مہینے کئی ملین ریالز پاکستان بھیجتے ہیں
سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ہر مہینے کئی ملین ریالز پاکستان بھیجتے ہیں

جب کوئی پاکستانی ملک سے باہر جانے کی تیاری کرتا ہی ہے تو اسے لوٹنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے ہر ادارے میں بیٹھا فرد اسے ارب پتی سمجھ کر اس سے حصہ وصولنا اپنا حق سمجھتا ہے یوں اسے ملک سے باہر جا کر ملکی معشیت کو قیمتی زرمبادلہ کے ذریعے تقویت دینے ،اپنے خاندان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے، اپنی نسلوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے ایک اچھا پاکستانی بنانے کے لیے خود کو “قربان” کرنے کے فیصلے کی سزا ملنا شروع ہو جاتی ہے.

لوٹ مار کا سامنا کرتا جب وہ یہاں پہنچتا ہے تو اسے اپنے سفارت خانے سے مطلوبہ معیار کی خدمات نہیں ملتی ہیں۔ قابل اور مخلص افسران و اہلکاران کے باوجود اس کی ایک بڑی وجہ اس ملک میں مقیم 2.7 ملین ہم وطنوں کے لیے انتہائی ناکافی سفارتی عملہ ہوتی ہے۔ جسے اگر حکومت چاہے تو دنوں میں دور کر سکتی ہے۔

باقاعدگی سے ہر ماہ پاکستان زرمبادلہ بھیجنے والا جب اپنی جوانی مشقت میں گزار کر بڑھاپے یا بیماری کے باعث وطن واپس لوٹتا ہے تو کسی قسم کی کوئی معاشی معاونت پنشن یا کسی اور صورت میں ریاست کی جانب سے اسے میسر نہیں ہوتی ہے۔

او پی ایف کے نام پر لی گی رقم سے آج تک کسی کو کچھ نہ ملا بلکہ الٹا کروڑوں کے خریدے ہوئے پلاٹ کرپشن کی نذر ہوگے۔

قانونی طریقے سے رقم پاکستان بھیجنے کی صورت میں مختلف مراعات کے اعلانات ہوتے رہتے ہیں لیکن عملا” ائیرپورٹ پر سلوک ایسے کیا جاتا ہے جیسے یہاں آ کر کوئی جرم کیا ہو۔

کئی پاکستانیوں کی یہاں رہ کرخریدی گی جائیدادوں پر بے لگام قبضہ گروپ قابض ہوچکے ہوتےہیں اور اس جائیداد کی اصل قیمت سے زائد پولیس اور وکیل کو دے کر یہ قبضہ چھڑایا جاتا ہے کہ اس بیچارے کے پاس چند ماہ سے زائد چھٹی ہی نہیں ہوتی ہے ۔اور پاکستانی عدالتوں میں جائیداد کا کیس اگر دادا دائر کرتا ہے تو فیصلہ پوتے کو سننے کو ملتا ہے ۔ اس پر مزید اسے فائلر اور نان فائلر کے نام پر لوٹا جاتا ہے، بینکوں کا عذاب اس کے علاوہ ،بچوں کی تعلیم، علاج، روزگار، تحفظ، کسی معاملے میں اسے کوئی مدد نہیں ملتی ہے اور

ان دنوں تو ظلم کی حد ہی ہو گئی

پاکستان چھٹی پر گے ان ہم وطنوں کر کورونا کے باعث طویل عرصہ قیام کرنا پڑا اس دوران عالمی اقتصادی بحران کے باعث ویزے اور روزگار کے ختم ہو جانے کے خدشات نے انہیں مسلسل پریشان کیے رکھا اللہ اللہ کر کے کورونا کیسیز میں کمی واقع ہوئی اور سعودی عرب واپسی کی اجازت دے دی گی اس مرحلے پر حکومت کوچاہیے تھا کہ ان افراد کے روزگار کو بچانے اور قیمتی زرمبادلہ کے حصول کو جاری رکھنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان محنت کشوں کی بروقت واپسی میں ان کی بھرپورمعاونت کرتی لیکن اس کے برعکس انہیں ایک بار پھر لوٹنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیاایس او پیز کے نام پر پی آئی اے یکطرفہ ٹکٹ انتہائی مہنگے داموں فروخت کر رہا ہے لگتا ہے پی آئی اے اپنا سارا خسارہ انہی بے چاروں سے پورا کرنا چاہتا ہے۔

ان 2.7 ملین پاکستانیوں میں 95٪ محنت کش ہیں جن کی تنخواہ ایک لاکھ پاکستانی روپوں سے کم ہی ہوتی ہے
ان سے لاکھوں روپے یکطرفہ ٹکٹ کی مد میں وصول کرنا ظلم ہے

حکومت 20 ارب ڈالر بھیجنے والے اپنے شہریوں کو یوں بے آسرا نہ چھوڑے، ان کی واپسی کو ممکن بنائے اور ایک مناسب قیمت طے کرے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کروائے۔

حکومتی و ریاستی سرپرستی سےمحروم معیشت کے محاذ پر لڑنے والے ان سپاہیوں کو بھی اپنا سمجھو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں