کیا کشمیر کا سودا ہو گیا۔۔۔۔ تحریر: سردار محمد حلیم خان

5 فروری کو ایک مرتبہ پھر پاکستان و آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا۔یہ امر خوش آئند ہے کہ مختلف مکاتب فکر نے یوم یکجہتی کشمیر منایا اور بھرپور انداز میں منایا۔صدر پاکستان نے مظفرآباد وزیراعظم پاکستان نے کوٹلی چاروں گورنروں وزراء اعلی نے اپنے اپنے دارلحکومتوں میں یکہجتی مارچ میں شرکت کی۔وفاقی وزراء نے اسلام آباد میں یکجہتی مارچ اور انسانی زنجیر کے پروگرامات میں شرکت کی۔اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے مظفرآباد میں جلسہ کیا جبکہ جماعت اسلامی پاکستان نے ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات میں یوم یکجہتی کے پروگرامات منعقد کیے۔مقبوضہ کشمیر میں محبوس کشمیریوں سے تو بھرپور اظہار یکجہتی کیا گیا لیکن ملک کی سطع پر دیکھیں تو سارا یکجہتی پروگرام الزام و وشنام کا عنوان رہا۔پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے رہنما کوٹلی اور مظفرآباد میں بھی ایک دوسرے پر گھسے پٹے الزامات دہراتے نظر ائے۔ان الزامات میں ایک ایسا ہے جو ہماری توجہ کا مستحق ہے۔وہ یہ ہے کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے۔یہ غیر معمولی بات ہے۔ایسی نہیں جسے آسانی سے نظر انداز کر دیا جائے۔صدر وزیراعظم اور آرمی چیف تینوں نے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق ہو گا۔اس کے بعد محض پوائنٹس سکورنگ کی خاطر یہ بیانات تحریک انصاف پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں معلوم نہیں لیکن جن کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے نام پر یہ پروگرامات کیے گے ان میں شدید مایوسی اور بے چینی ضرور پیدا ہوئی ہے۔پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو کوتاہ اندیش لیڈرشپ محض اپنے حریف کے خلاف پوائنٹ سکورنگ کر کے اسی طرح حقیقی متاثرین کے لئے مشکلات پیدا کرتی رہی ہے۔اس مرتبہ دو مزید کام ہوے پی ڈی ایم نے عین چار فروری کو اپنا اجلاس کر کے 26 مارچ کو مارچ کا اعلان کر دیا۔سوال کیا جا سکتا ہے کہ اتنی کیا جلدی تھی کیا دو دن صبر نہیں کیا جاسکتا تھا تاکہ میڈیا میں پوری توجہ یکجہتی کشمیر کو ملے؟پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 2019میں بھی عین اس وقت مارچ شروع کر دیا تھا جب ساری قوم کا حکومت اور فوجی قیادت پر زبردست دباو تھا کہ بھارت کے اقدامات کے جواب میں کوئی بھرپور قدم اٹھایا جائے۔یا دش بخیر اس مرتبہ امن کی آشا کی وجہ سے شہرت پانے والے حامد میر نے بھی عین یکجہتی سے ایک دن قبل یہ دعوی کر دیا کہ 5 اگست کے اقدامات پاکستان اور بھارت کی رضامندی سے ہوے دلیل یہ دی کہ پاکستان کو اس بات کا علم تھا کہ بھارت ایسا کوئی قدم اٹھانے والا ہے۔حامد میر نے روایتی مکاری سے کام لیتے ہوے ان اطلاعات کی بنیاد پر ہونے والے اجلاس میں بھارت کو جواب دینے کے لئے جو آپشن زیر غور آئے ان کو فیصلوں کے طور پر باور کروانے کی مکروہ جسارت کی۔حالانکہ اس میں کوئی نئی بات تھی ہی نہیں میڈیا کے ذریعے یہ خبریں جولائی 19 کے آخری ہفتے میں اناشروع ہو گئی تھیں کہ بھارت بڑی کاروائی کرنے والا ہے۔انٹرنیٹ اور مقامی اخبارات کی بندش سیاسی رہنماوں اور کارکنوں کی اندھادھند گرفتاریوں اور فوجی نقل وحرکت سے تین خطرات نظر آ رہے تھے ایک آزاد کشمیر پر حملہ دو گلگت بلتستان پر حملہ اورتین کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔اس حوالے سے میٹنگ ہوئی شرکاء نے جواب دینے کے مخلتف اپشنز بیان کیےجن کو بدنیتی سے فیصلوں کا نام دیکر اور من پسند نتیجہ اخذ کر کے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے خلاف مایوسی پھیلانے کی نا پاک جسارت کی گئی۔اس کی ٹائمنگ بھی ٹھیک 5 فروری سے پہلے رکھی گئی۔سوال یہ ہے کہ اگر ایسی خبر میں کوئی صداقت ہوتی بھی تو ڈیڑھ سال بعد کیا پانچ فروری سے ایک دن قبل اس کو بریک کرنا ہی مناسب وقت تھا؟
اب آتےہیں اس سوال کی طرف کہ اگر واقعی اپوزیشن کے دعووں کے مطابق پاکستان نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے تو اس سودے سے پاکستان اور بھارت کو کیا ملا؟ہندوستان کے نکتہ نظر سے دیکھیں تو اس کو دو فائدے مطلوب ہیں ایک یہ کہ اسے مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے کشمیر پر آواز اٹھانے سے جو سبکی ہوتی ہے وہ نہ ہو دوسرے مقبوضہ کشمیر میں کاروائیوں اور بقول اس کے دراندازی کا خاتمہ ہو کیا یہ دونوں مقاصد حاصل ہوے؟ ہرگز نہیں بلکہ بھارتی حکام نے الزام لگایا ہے کہ 5 اگست کے کے بعد دراندازی کےواقعات میں ڈیڑھ سو گنا اضافہ ہوا ہے۔
اب آئیے پاکستان کی طرف تقسیم کشمیر پر متفق اور تحریک آزادی کشمیر کی پشیبانی سے دستبرداری کی صورت میں پاکستان کو دو فائدے مل سکتے تھے ایک بلوچستان اور پاکستان کے دیگر شہروں میں بھارتی تخریب کاری کا خاتمہ اور کنٹرول لائن پر فائرنگ کا خاتمہ۔
حقائق یہ ہیں کہ بھارت کی نہ صرف بلوچستان میں تخریب کاری میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سندھ میں بھی تخریب کاری کے واقعات شروع ہو چکے ہیں۔دوسری طرف کنٹرول لائن پر معصوم اور نہتے شہریوں اور فوجیوں کی شہادتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
لہذا یہ کہنا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کی تقسیم پر کوئی ڈیل ہو گئی ہے صرف اور صرف پاکستان کے خلاف کشمیریوں کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔اپوزیشن کے پاس بھی چونکہ مہنگائی بے روزگاری اور بد انتظامی کے حوالے سے کوئی متبادل پروگرام نہیں اس لئے کشمیر کے معاملے میں پوائنٹ سکورنگ ہو رہی ہے یہ دیکھے بغیر کہ اس سے کشمیریوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ کیا کشمیریوں کے نکتہ نظر سے سب اچھا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ باالکل نہیں۔کشمیریوں نے مسئلہ کشمیر کو اپنا خون دے کر سرد خانے سے نکالا جسے مشرف کے زمانے میں دوبارہ برف خانے میں رکھ دیا گیا اور اس کے بعد آنے والی زرداری اور نواز شریف کی حکومتوں نے اس پر برف کی مزید سلیں رکھ دیں۔موجودہ حکومت نے نہ صرف مزید سرد خانے میں رکھا بلکہ عمران حکومت چونکہ مشرف حکومت کی ہی ایکسٹینشن ہے لہذا اس حکومت نے مشرف کی کشمیر پالیسی کو مزید آگے بڑھا کر کشمیریوں کی تحریک کو ضعف پہنچایا۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ بے نظیر ہونواز شریف زرداری یا عمران خان کسی نے بھی مسئلہ کشمیر کا سودا نہیں کیا کوئی عوامی نمائندہ ایسا کر بھی نہیں سکتا۔لیکن ان میں سے کوئی بھی ضیاء الحق نہیں تھا۔ان کے پاس نہ جرات ہے نہ ویژن۔عمران خان تو اتنے سادہ ہیں کہ ان کا خیال تھا میری اقوام متحدہ میں تقریر سے ساری دنیا بھارت پر پل پڑے گی۔سچ یہ ہے کہ ہماری سول اور خاکی حکمران اشرافیہ میں نہ کوئی صلاح الدین ایوبی ہے جو نتائج کی پرواہ کیے بغیر بھارت پر حملہ کردے نہ ضیاءالحق ہے جو بہترین منصوبہ بندی سے بھارت کو اندر سے کھو کھلا کر دے۔یہ تسلیم نہیں کرتے لیکن بھارت سے مرعوب اور خوفزدہ ہیں یہی بزدلی ہی خرابی کی اصل جڑ ہے۔ان حالات میں اہل کشمیر اس نتیجے پہ پہنچے ہیں کہ جب تک تحریک آزادی کی سیاسی سفارتی اور عسکری قیادت بیس کیمپ کے پاس نہیں ہو گی ہماری تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔لیکن پاکستان کی ضرورت ہمیں پھر بھی رہے گی اور چین کی بھی تاکہ زمین ہر حاصل ہونے والی کامیابیوں کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔پاکستانی حکمران بزدل ہیں لیکن پاکستان ہمارا دشمن نہیں۔ہمارے بیس کیمپ کی اصل حیثیت کی بحالی کے لئے پاکستان دشمنی کی ضرورت نہیں بلکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ہمارا دشمن بھارت ہے اور پھر وہ لوگ جو دانستہ یا نادانستہ دو ایٹمی طاقتوں پاکستان اور چین کے خلاف زہر افشانی کر رہے ہیں تاکہ دنیا میں کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے والی یہ آوازیں بھی خاموش ہو جائیں اور بھارت کا ہدف یہی ہے۔ایسے لوگوں کی حرکتوں کی وجہ سے کشمیریوں کا انجام کردوں جیسا ہو سکتا ہے۔کشمیریوں کی کامیابی اس میں ہے کہ پاکستان کی سرپرستی تائید و حمایت سے بیس کیمپ تحریک آزادی کشمیر کے سیاسی سفارتی اور عسکری محاذ کی قیادت کرے اور پاکستان آزاد خطے کی حفاظت کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں