گلگت بلتستان اور مسئلہ کشمیر۔۔۔۔تحریر: سردار کامران غلام

ایک طرف ہم لوگ 24اکتوبرکو یوم تاسیس جوش و خروش اور اس عزم کے ساتھ منا رہے ہیں کہ ریاست جموں کشمیر مکمل طور پر ہندوستان کے غاصبانہ قبضے سے آزاد ہو گی اور دوسری طرف محبوبہ مفتی اورشیخ عبداللہ کشمیر کی خود مختاری اور جھنڈے کو لے کر رو رہے ہیں۔ حال ہی میں پریس کانفرنس کے دوران محبوبہ مفتی نے ہندوستان کے جھنڈے کو ہٹا لیا اور اس بات پر ضد ظاہر کی کہ کشمیر کے جھنڈے اور نیم خود مختاری یعنی 370اور35A کی بحالی تک ہندوستان کا جھنڈا کشمیر میں نہیں لہرایا جا سکتا۔

یہ بات مقبوضہ کشمیر کے ہندوستان نواز قائدین آج تک نہ سمجھ سکے کہ ہندوستان کے ساتھ معاہدہ اور ہندوستانی جھنڈا کشمیری قوم نے پہلے بھی کبھی قبول نہیں کیا تھا۔ ہندوستان نے کشمیریوں کے ساتھ پہلے سے رائے شماری کا مطالبہ کر رکھا ہے، قائدین کو رائے شماری سے ہٹ کر پہلے دن سے کوئی مطالبہ نہیں کرنا تھا۔ آج یہ دن بھی دیکھنا پڑ رہاہے کہ آرٹیکل 370اور 35A کی بحالی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ وقت نے یہ بات ثابت کی کہ مقبوضہ کشمیر کی ہندوستان نواز قیادت کہیے یا ہندوستان پہ بھروسہ کرنے والی قیادت نے جو لمحوں کی خطا نے نصف صدی سے زیادہ کشمیر کو غلامی میں دھکیل دیا۔

اس جانب محلہ آبی گزر سر ی نگر میں 19جولائی 1947؁ء کو الحاقی قرارداد منظور ہونے کے بعد آزاد ریاست جموں و کشمیرکا قیام 24اکتوبر1947؁ء کو کیا گیا جو آج تک قائم ہے ۔ آزاد جموں و کشمیر کی ریاست میں گورنینس کے مسائل اپنی جگہ، آئینی حقوق کے مسائل اپنی جگہ، مگر پاکستان کے ساتھ جو بھی معاہدے کیے گئے وہ آج تک قائم ہیں۔ پاکستان نے کسی بھی معاہدے کی آج تک اُس طرح مخالفت یا منسوخی عمل میں نہیں لائی جس طرح ہندوستان نے اپنے کیے ہوئے وعدوں سے منہ پھیر لیا۔ اس سے یہی لگتاہے کہ سردار محمد ابراہیم خان صاحب کی قیادت نے جو بھروسہ کشمیر کو لے کر پاکستان پرکیا، پاکستان آج بھی اُس کی پاسداری کر رہاہے۔ تاہم کچھ معاملات کو لے کر آزاد کشمیر کے اندر بسنے والے لوگوں میں کچھ بے چینی ضرور پائی جاتی ہے ۔ جن میں گلگت بلتستان کا مسئلہ ہے ۔

معاہدہ کراچی سے پہلے بھی تاریخی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کو مہاراجہ کے دور میں ہی کشمیر میں شامل کر لیا گیا تھا جس کا ثبوت ہمیں تاریخ سے با آسانی مل جاتاہے۔ 1935؁ء میں انگریزوں نے اُس وقت کے USSR کی پیش قدمی کے خطرے کے تناظر میں 60سال کیلئے معاہدہ گلگت مہاراجہ کے ساتھ کیا تھا، یہ معاہدہ بھی اس بات کا ثبو ت ہے کہ قانونی طور پر گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے تاہم جس طرح پورے کشمیر کے اندر بسنے والے لوگوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑک رہے ہیں وہاں کے بسنے والے لوگ بھی پاکستان کے ساتھ آئینی معاہدہ کر کے شامل ہونا چاہتے ہیں۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق ملنے چاہییں، پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے دور میں کافی حد تک ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دیے گئے۔ آج بھی گلگت بلتستان کے لوگ اس سے مزید اس سے بڑھ کرمطالبات کر رہے ہیں کہ ان کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی نمائندگی دی جائے، یقینا یہ بھی ممکنات میں سے ہے مگر کچھ باتیں قانونی اور آئینی طور پر ایسی ہیں جن کا برائےراست مسئلہ کشمیر کے ساتھ تعلق ہے ۔ اگر اُن باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنا دیا گیا تو مسئلہ کشمیر پر اس کا بہت منفی اثر پڑے گا۔

کسی بھی ریاست میں قانونی اور آئینی ماہرین کی کمی نہیں ہوتی ، ریاست کے پاس وسائل کی بھی کمی نہیں، آزاد کشمیر، پاکستان اور گلگت بلتستان کی قیادت کو مل بیٹھ کر ایسی راہ نکالنی چاہیے جس سے لوگوں کے حقوق بھی ادا ہو جائیں اور مسئلہ کشمیر پر بھی کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ پورے کشمیر کے اندر یہ خدشہ پایا جاتاہے کہ صرف گلگت بلتستان کو پاکستان کے ساتھ شامل کر دینے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر اور کشمیر کی آزادی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس کو ریورس کرنا مشکل ہو جائے گا۔ جس طرح ہندوستان کے اندر 370اور35Aمنسوخ کیے جانے کے بعد ہندوستان اپنے اس فیصلے کو واپس لینے پر مجبور تو دکھائی دیتاہے مگر اس کیلئے واپسی مشکل ہوتی نظرآ رہی ہے۔

دوسری طرف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دینے کیلئے مسئلہ کشمیر کو متاثر کیے بغیر اقدام کیے جا سکتے ہیں ۔ یقینا یہ ریاست کے آئینی اور قانونی ماہرین کا کام ہے۔
19جولائی 1947؁ء کو قرارداد الحاق پاکستان ، 24اکتوبر 1947؁ء کو آزاد ریاست کے بانی سردار محمد ابراہیم خان صاحب اس خطرے کی پہلے ہی نشاندہی اپنی کتاب “The Kashmir Saga” میں کر چکے ہیں۔
A question now has been raised in the Pakistan Press and in the political circus that Northern provinces of the state, namely, Gilgit, Ladakh and Baltistan be either annexed to Azad Jammu & Kashmir state or to Pakistan. The question of a part of the state acceding to Pakistan does not seem feasible, and if it is done, it is going to effect very badly Pakistan’s cause to United Nation. In my opinion, these northern provinces of Jammu & Kashmir state should go to Azad Kashmir because they are a part of Kashmir state and have been so through ages. These areas should be governed by the appointment of the Governor and the legal jurisdiction of the Supreme Court and the High Court should extend to these areas that the people of this area also benefit from an organized judicial system. (Page No.11)
“Kashmir question” 1964 AG Noorani لارڈ مائونٹ بیٹن کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:-
“It is my Government’s wish that as soon as law and order have been restored and the soil is cleared of the invadors, the question of the state’s accession should be sattled by a reference to the people.”
یہ الفاظ لارڈ مائونٹ بیٹن کے تھے ، مزید اپنی کتاب میں لکھتے ہیں

“Our numerous occasions, India made clear her determination to give an opportunity to the people of Kashmir to express their views on it by holding a plebiscite. The assurance was given to the people of Kashmir as well as to the United Nations. The assurance given by Gopalaswami Ayyangar, the leader of the Indian delegation, to the Security Council in February 1948, may be quoted here. He said, “When the emergency has passed and normal conditions are restored, she (Kashmir) will be free, by means of a plebiscite, either to rectify her accession to India or to change her (Kashmir) mind and accede to Pakistan or remain independent. We shall not stand in the way, if she elects to change her mind”.

یہ ساری وہ یقین دہانیاں ہیں جو ہندوستان نے کشمیریوں کو بین الاقوامی فورم پر کیں۔ نمائندے نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے کسی بھی فیصلے کو قبول کرنے کی بات کی اور خود کو راستے میں نہ آنے کا وعدہ بھی کیا۔ کشمیری پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا کہ آزاد ، یہ فیصلہ کشمیریوں پر چھوڑا گیا۔ اسی طرح نہرو نے بہت سارے مواقعوں پر کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دینے کے وعدے کیے مگر 73سال گرزنے کے باوجود کشمیریوں کو اُن کا حق دینا تو درکنار ، جو معاہدہ مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے کیا ، اسی طرح جو شیخ عبداللہ نے بھارت کے ساتھ معاہدے کیے اور کشمیریوں کی منشا اور مرضی کے بغیر کیے، اُن کو بھی 05اگست کے بعد روند ڈالا۔
بات اتنی سی ہے کہ پاکستان نے آج تک کشمیریوں کے ساتھ کیے گئے وعدے اور معاہدے نبھانے میں وفا کی ہے ، بین الاقوامی فورم پر ایک قوم کی غلامی سے آزادی کیلئے 73سال سے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

آج اگر کسی فائدے یا بیرونی دبائو کے تحت اپنے رائے شماری کے اصولی موقف سے پیچھے ہٹ جاتا ہے تو کشمیریوں کے جذبات مجروح ہوں گے اور مسئلہ کشمیر پر بہت ہی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کشمیر کی قیادت جو بات بین الاقوامی فورمز پر کرے گی دنیا اُسے سراہے گی، سردار مسعود خان اور وزیراعظم فاروق حیدر خان دھرتی کے بیٹے ہونے کا عملی ثبوت دے رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کو چاہیے کہ کشمیر کی تمام قیادت بشمول گلگت بلتستان کو اپنے ساتھ ملا کر فیصلہ سازی سے لے کر بین الاقوامی دنیا کے تمام فورمز پر رسائی دینی چاہیے۔ گلگت بلتستان کا کوئی بھی فیصلہ تاریخ ،کشمیر کی وحدت ،اورقانونی و آئینی ماہرین کی آراء کو سامنے رکھتے کیے جانے چاہییں، کوئی بھی ایسا فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا جانا چاہے جس سے مسئلہ کشمیر پر کوئی بھی منفی اثر پڑے اور پاکستان کا موقف بین الاقوامی دنیا میں کمزور ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں