انگریزی کا جنازہ

انگلش ہماری قومی یا مادری زبان نہیں ہے اس لئے ضروری نہیں کہ ہم انگلش لکھتے وقت یا بولتے وقت غلطیاں نہ کریں۔ لیکن اگر ہمیں اتنی انگلش بھی نہ لکھنا آتی ہو کہ ہم لکھیں اور پڑھنے والا بندہ سمجھ سکے کہ لکھا کیا تو پھر ہمیں سوشل میڈیا پر اردو یا پہاڑی میں ہی لکھنا چاہیے۔ پہاڑی اور اردو پر بھی مکمل عبور تو کسی کو حاصل نہیں ہو گا لیکن غلط بھی لکھیں تو مفہوم لوگ سمجھ جاتے ہیں۔

انگریزی لکھتے ہوئے شاہی بننے کے چکر میں ہم اپنا مذاق تو بناتے ہیں لیکن پڑھنے والے کو بھی مشکل میں ڈال دیتے ہیں جیسے کل رات کو کسی نے فیس بک پر ایک مشہور پارلیمنٹرین کے بارے میں انگریزی میں ایک ایسی پوسٹ کی جسے پڑھ کر مجھے لگا کہ وہ آج لائیو نہیں آئے یا نہیں آ سکتے۔ لیکن پھر سوچا کہ لائیو نہ آنے کی وجہ پر یہ صاحب اتنے دکھی کیوں ہو رہے ہیں، اتنا افسوس کررہے ہیں اور دعا بھی کررہے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد کچھ مزید پوسٹیں نظر سے گزریں تو پتا چلا کہ مذکورہ پارلیمینٹیرین کا انتقال ہو گیا ہے۔ پھر اس انگریزی والی پوسٹ کی سمجھ آئی۔
انا للہ و انا الیہ راجعون

اپنا تبصرہ بھیجیں