تہلکہ۔۔۔۔میری لائبریری سے انتخاب۔۔۔نسیم شاہد

1947ء میں کشمیر کو بزورِ سویلین قبائلی طاقت فتح کرنے کی کوشش کے سب سے بڑے اور مرکزی پاکستانی فوجی کردار میجر جنرل اکبر خان کی یہ کتاب “ ریڈرز اِن کشمیر “ یا “ کشمیر پے بیرونی حملہ آور “ کے نام سے 1970ء کو شائع ہوئی ۔ یہ وہی میجر جنرل اکبر خان ہیں جنھیں پاکستان کی تاریخ کے سب سے پہلے متنازعہ فوجی و سیاسی “ پنڈی سازش کیس “ کی پاداش میں مشہور شاعر فیض احمد فیض کے ساتھ چودہ سال جیل ہوئی لیکن اُنھیں چار سال بعد ہی ضمانت پے رہا کر دیا گیا ۔ شروع شروع میں اس کتاب کو کلاسیفائیڈ یا خفیہ دستاویز کے طور پے صرف سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کی حد تک رکھا گیا ۔ لیکن بعد میں جب آہستہ آہستہ سارے حقائق منظرِ عام پے آنے لگے تو پھراسے بھی اوپن مارکیٹ میں آنے کی اجازت دے دی گئی ۔ میجر جنرل اکبر خان لکھتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب کے نام میں ریڈرز یا چھاپہ مار/حملہ آور کا لفظ اس لیے شامل کیا ہے کہ ہمیں انڈیا کے پہلے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سیکیورٹی کونسل میں حقارت سے ریڈرز یا بیرونی حملہ آور قرار دیا تھا ۔ لیکن شاہد پنڈت نہرو اس سے بے خبر تھے کہ چھاپہ مار جنگ ایک جدید اور کامیاب جنگی فن ہے ۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ پنڈت نہرو نے ہمیں چھاپہ مار قرار دے کے جنگیز خان ، تیمور لنگ ،محمود غزنوی حتیٰ کہ سکندرِ اعظم کی صف میں لا کھڑا کیا جو سب چھاپہ مار جنگجو تھے اور یہ ہمارے لیے فخر و اعزاز کی بات ہے۔
اکبر خان نے اپنی اس کتاب میں فوجی کی بجائے قبائلیوں کے ذریعے کشمیر فتح کرنے کی وجوہات اور فتح کے بہت قریب جا کے پسپائی اور ناکامی کے اسباب کا بھی ذکر کیا ہے ۔ اور اس کے ذمہ دار اداروں اور کرداروں سے بھی پردہ اُٹھایا ہے ۔ یوں تو اس کتاب کا ہر ایک باب بڑا ہی دلچسپ ہے لیکن “ دی لانگ شیڈو آف کشمیر” کے نام سے باب نمبر 17 سب سے زیادہ دلچسپ ہے ۔ اس میں وہ کشمیر کو بزور طاقت فتح کرنے کیلیے مستقبل کیلیے دی جانے والی تجاویز کا بھی ذکر کرتے ہیں ۔ جو اُن کے بقول پنڈی سازش کیس کی بڑی وجہ بنیں ۔
القصہ پاکستانی سیاست میں فوجی و سیاسی کھینچا تانی کا نقطہ ہائے آغاز بھی 47 میں کشمیر کے محاذ پے پاکستان کی فوجی ناکامی بنا ۔ دوسرا 47 کی جنگ ہو ، 65 کا آپریشن جبرالٹر ہو ، 88 کو شروع ہونے والی کشمیر کی مسلح تحریک ہو یا کارگل آپریشن ۔ جب بھی انڈیا کو لگا کہ کشمیر کے محاذ پے اُسے فوجی لحاظ سےشکست ہو سکتی ہے تو اس نے مغربی (پنجاب ) سرحد سے ہمہ گیر جنگ شروع کرنے کا ماحول بنا کے دنیا کے ذریعے اپنی ناکامی کو کامیابی میں بدل دیا ۔ گو کہ پاکستان نے اپنی 47 کی جنگی ناکامی کے تناظر میں ہر نئے ایڈوینچر میں وقت اور حالات کے مطابق تبدیلیاں کیں لیکن انڈیا کی مغربی سرحد سے دباؤ بڑھا کر اپنی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے والی اس چال کو 65 ء میں جنرل ایوب خان پیشگی سمجھ سکے نہ گارکل جنگ کے خالق جنرل مشرف ۔ 5 اگست کے بعد کم از کم انڈین زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کیلیے جنگ کا امکان زیرو رہ گیا ہے ۔ کیونکہ اُس سے پہلے پاکستان انڈین زیرِ قبضہ جموں و کشمیر پے فوجی و سفارتی لحاظ سے جارح پوزیشن میں تھا اور انڈیا دفاعی پوزیشن میں ۔ جبکہ اب انڈیا آزاد کشمیر کے سوال پے جارح جبکہ پاکستان فوجی لحاظ سے دفاعی پوزیشن پے ۔ مستقبل میں ( کم از کم مودی سرکار کے دور میں ) آزاد کشمیر و گلگت بلتستان پے قبضے کیلیے انڈیا کی طرف سے فوجی چڑھائی کا غالب امکان موجود ہے ۔ تو کیا پاکستان دفاع کر پائے گا ؟
ہو سکے تو ضرور پڑھیے گا بہت ہی دلچسپ و چشم کُشا تصنیف ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں