تہلکہ۔۔۔۔گورمانی سے گنڈا پور تک

پاکستان کے پہلے وزیر برائے امور ِِکشمیر ، مشتاق احمد گورمانی (مرحوم) ، اس قدر مشہور ہوئے کہ ہمارے ہاں آج بھی اکثر مشتاقوں کو مشہور و معروف شو کرنے کیلیے اُن کے نام کے آگے گورمانی کا اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔ لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ گورمانی نہ ہونے کے باوجود کسی مشتاق کو گورمانی بنانا دراصل مشتاق احمد گورمانی کی مناسبت ہی سے ہے ۔ شروع شروع کے جنگی ماحول ، سیز فائر ہونے اور سیز فائر لائن کے معرضِ وجود میں آنے کے وقت وزیرِ امورِ کشمیر کے کچھ عملی فرائض اور ذمہ داریاں بھی تھیں ۔ مگر حالات کے نارمل ہونے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ وزارت ایک وائسرائے ٹائپ و سٹائل میں بدلتی گئی ۔ یوں آج کل کی پاکستانی حکومتوں کے نزدیک یہ وزارت محض اپنے کسی خاص بندے کی کھپائی ، خانہ پوری اور منہ بندی سے زیادہ کچھ نہیں ۔ شاید فائلوں کی حد تک کچھ کام بھی ہو لیکن گراونڈ پر اس نام کے کسی مرکزی وزیر کا کوئی شغل دیکھائی نہیں دیتا ۔ اسطرح اکثر اس وزارت کے وزیروں کی مدت گوشہ نشینی اور عیاشی میں ہی گزرتی ہے ۔ لیکن اگر کسی مقام پے کوئی وزیر صاحب کچھ کرنے کی کوشش کریں بھی تو یہ اختیارات کے غیر واضع تعین کی وجہ سے اُس کے اور نام نہاد آزاد کشمیر کے حکمرانوں کے درمیان وجہ تنازع بنی رہتی ہے ۔کیونکہ وزیرِ امورِ کشمیر خود کو بالا اور اختیارات کا اصل مالک گردانتا ہے ۔ جبکہ یہاں کے حکمرانوں کے نزدیک اس نام و نوع کے وزیر کی حیثیت رسمی ہے اختیاری نہیں ۔ پھر اگر یہاں کے اقتدار پے کوئی تڑ والا ، کھڑتل قسم کا چودھری، راجہ ، سردار وغیرہ براجمان ہو تو وہ اس وزیر کو گھاس تک نہیں ڈالتا ۔
چھینو کھونی ، سینگ ماری ، ٹانگ اڑائی ، “ تو نہیں میں ہوں “ ، “ میں ہوں تو نہیں “ جیسے تلخ جملوں اور لفظی سرد جنگ کا یہ سلسلہ پہلے وزیرِ امورِ کشمیر مشتاق احمد گورمانی(مرحوم) اور پہلے صدر سردار ابراہیم صاحب (مرحوم) کے دور سے چلا آ رہا ہے ۔ یہ سلسلہ اُس وقت بہت دلچسپ اور کشیدہ ہو جاتا ہے جب اسلام آباد میں حکومت کسی اور جماعت کی اور مظفرآباد میں کسی اور جماعت کی ہو ۔ اس کی بڑی اور نیم مردہ مثال گذشتہ وزیر امورِ کشمیر ، برجیس طاہر ، اور گذشتہ وزیرِاعظم چوہدری عبدالمجید کی آپسی ورکنگ ریلیشن شب ، لفظی جنگ اور ایک دوسرے کیلیے تعریفی اور توصیفی القاب اور خطاب بازی تھی ۔
وزیرِ امور کشمیر کا اصل کردار اُس وقت “ کنگ میکر” کے طور پے کھل کے سامنے آتا ہے جب اسلام آباد نے مظفر آباد میں بھی اپنی ہی جماعت کی حکومت بنانی ہو ۔ پھر جب کابل سے چراغ بیگ سرینگر لانے کی بجائے اسلام آباد سے مظفرآباد لے جانا مقصود ہو تو یہ وزیر صاحب “سُپر کنگ میکر” کا روپ دھار لیتے ہیں ۔
بھلے علامہ اقبال سے بہت سے نقاط پے اختلاف سہی لیکن اس نقطے پے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں کہ واقعی غلامی اور اقتدار کی حِوص دونوں بڑی لت اور لعنت ہیں جو دراصل احساسِ کمتری کی ہی ایک قسم ہیں ۔
حال ہی میں ً اے سی سی اے ً میں پوری دنیا ٹاپ کرنے والی “ زارا نعیم ڈار “ ، پوری دنیا کو اپنی ذہانت اور علم سے ورطہ ہائے حیرت میں ڈالنے والے “ ننھے پروفیسر زیدان حامد “، خبرناک پے دنیا کا ہر کردار ادا کرنے سے شہرت پانے والے چارلی چپلن “ محمد علی میر “ کی دھرتی سے تعلق رکھنے والا ، صاحبزادہ یعقوب خان ، آغا شاہی ، شمشاد احمد خان ، منیر اکرم کے پلے کے عالمی سفارتکار اور اقوامِ متحدہ میں سابق مستقل مندوب ، صدر آزاد کشمیر ، مسعود خان ، 1965 میں آزاد کشمیر اسمبلی کی پہلی خاتون ممبر قانون ساز اسمبلی کے فرزند اور نامی گرامی گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل ، سیاست و حکومت کے ہر عہدے پے رہنے اور ہر پیچ و خم سے عملی طور پے واقف وزیر اعظم فاروق حیدر کا نام لینے کی بجائے ایک سول سرونٹ چیف سکرٹری کا نام و حوالا دینے والا ، سیاست ہی کیلیے پلے ، بڑے اور پڑھے ، کشمیر ایشو کو لے کے پوری دنیا گھومنے اور سرینگر میں بھی استقبال کا اعزار پانے والے بیرسٹر سلطان محمود سے پنجہ آزمائی اور تنقید کرنے والا ، پاکستان کے دِل ، اسلام آباد ، میں سینٹورس جیسے یونیک “ لینڈ مارک “ منصوبے کا خالق و مالک ارب شاید کھرب پتی ، ایک خاندانی بیک گراونڈ والا ، پڑھا لکھا و با کردار ، آزاد کشمیر اور نوجوانوں کیلیے جدید طرز پے کچھ کر نے کا جذبہ و حوصلہ رکھنے والا یہ خوبرو نوجوان کیسے کیسے گنڈا پوروں اور سیف اللوں کے حضور سوالیہ اور عرضیہ ہے ۔ کہ جو جب چلیں تو حالتِ غیر میں دیکھائی دیتے ہوں ، جب بولیں تو اس قدر حالتِ غیر میں ہوں کہ سننے والا سمجھنے سے قاصر ہو ۔اور جو جب کشمیر پے بات کریں تو اس قدر جگ ہنسائی ہو کہ خان کے انتخاب اور میرٹ پے رشک آ جائے ۔ علامہ اقبال نے اس لیے فرمایا تھا::
جو نا خوب تھا وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

اپنا تبصرہ بھیجیں