مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ کی تصنیف۔۔۔۔”پردہ”۔۔۔۔ سے اقتباس۔

سرمایہ دارانہ خود غرضی۔

حریت شخصی کے اس تصور پر

جس نظام سرمایہ داری کی بنا اٹھائی گئی تھی۔ اس نے فرد کو ہر ممکن طریقے سے دولت کمانے کا غیر مشروط اور غیر محدود اجازت نامہ دے دیا اور نئے فلسفہ اخلاق نے ہر اس طریقہ کو حلال و طیب ٹھہرایا جس سے دولت کمائی جا سکتی ہو۔ خواہ وہ ایک شخص کی دولت مندی کتنے ہی اشخاص کی تباہی کا نتیجہ ہو۔
اس طرح تمدن کا سارا نظام ایسے طریقے پر بنا کہ جماعت کے مقابلہ میں ہر پہلو سے فرد کی حمایت تھی اور فرد کی خود غرضیوں کے مقابلہ میں جماعت کے تحفظ کی صورت نہ تھی۔
خوف غرض افراد کے لئے سوسائٹی پر تاخت کرنے کے سارے راستے کھل گئے۔ انہوں نے تمام انسانی کمزوریوں کو چن چن کر تاکا اور انہیں اپنی اغراض کے لئے استعمال کرنے کے نت نئے طریقے اختیار کرنے شروع کئے۔

ایک شخص اتھتا ہے اور وہ اپنی جیب بھرنے کے لئے لوگوں کو شراب نوشی کی لعنت میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔ کوئی نہیں جو سوسائٹی کو اس طاعون کے چوہے سے بچائے۔

دوسرا اٹھتا ہے اور وہ سود خوری کا جال دنیا میں پھیلا دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس جونک سے لوگوں کے خون حیات کی حفاظت کرے۔ بلکہ سارے قوانین اسی جونک کے مفاد کی حفاظت کر رہے ہیں تا کہ کوئی اس سے ایک قطرہ خوم بھی نہ بچا سکے۔

تیسرا اٹھتا ہے وہ قمار بازی کے عجیب طریقے رائج کرتا ہے، حتی کہ تجارت کے بھی شعبہ کو قمار بازی کے عنصر سے خال نہیں چھوڑتا۔ کوئی نہیں جو اس تپ محرقہ سے انسان کی حیات معاشی کا تحفظ کر سکے۔

انفرادی خود سری اور بغی و عدوان کے اس ناپاک دور میں غیر ممکن تھا کہ خود غرض افراد کی نظر انسان کی اس بڑی اور شدید ترین کمزوری ۔۔۔۔۔۔۔ شہوانیت۔۔۔۔۔۔ پر نہ پڑتی جس کو بھڑکا کر بہت کچھ فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا۔

چنانچہ اس سے بھی کام لیا گیا اور اتنا کام لیا گیا جتنا لینا ممکن تھا۔ تھیٹروں میں، رقص گاہوں میں اور فلمسازی کے مرکزوں میں سارے کاروبار کا مدار ہی اس پر قرار پایا کہ خوبصورت عورتوں کی خدمات حاصل کی جائیں۔

ان کو زیادہ سے زیادہ برہنہ اور زیادہ سے زیادہ ہیجان انگیز صورت میں منظر پر پیش کیا جائے اوراس طرح لوگوں کی شہوانی پیاس کو زیادہ سے زیادہ بھڑکا کر ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جائے۔

کچھ دوسرے لوگوں نے عورتوں کو کرایہ پر چلانے کا انتظام کیا اور قحبہ گری کے پیشہ کو ترقی دے کر ایک نہایت منظم بین الاقوامی تجارت کی حد تک پہنچا دیا۔ کچھ اور لوگوں نے زینت اور آرائش کے عجیب عجیب سامان نکالے اور ان کو خوب پھیلایا تا کہ عورتوں کے پیدائشی جذبہ حسن آرائی کو بڑھا کر دیوانگی تک پہنچا دیں اور اس طرح دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹیں۔

کچھ اور لوگوں نے لباس کے نئے شہوت انگیز اور عریاں فیشن نکالے اور خوب صورت عورتوں کو اس لئے مقرر کیا کہ وہ انہیں پہن کر سوسائٹی میں پھریں، تاکہ نوجوان مرد کثرت سے راغب ہوں، اور نوجوان لڑکیوں میں اس کے پہننے کا شوق پیدا ہو اور اس طرح موجد لباس کی تجارت فروغ پائے۔

کچھ اور لوگوں نے برہنہ تصویروں اور فحش مضامین کی اشاعت کو روپیہ کھینچنے کا ذریعہ بنایا اور اس طرح عوام کو اخلاقی جذام میں مبتلا کر کے خود اپنی جیبیں بھرنی شروع کر دیں۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مشکل ہی سے تجارت کا کوئی ایسا شعبہ باقی رہ گیا ہو جس میں شہوانیت کاعنصر شامل نہ ہو۔

کسی تجارتی کاروبار کے اشتہار کو دیکھ لیجئے۔

عورت کی برہنہ یا نیم برہنہ
تصویر اس کی جزو لاینفک ہو گی۔
گویا عورت کے بغیر
اب کوئی اشتہار، اشتہار نہیں ہو سکتا،

ہوٹل، ریستوران، شو روم کوئی جگہ آپ کو ایسی نہ ملے گی جہاں عورت اس غرض سے نہ رکھی گئی ہو کہ مرد اس کی طرف کھینچ کر آئیں۔

غریب سوسائٹی جس کا کوئی محافظ نہیں صرف ایک ہی ذریعہ سے اپنے مفاد کی حفاظت کر سکتی تھی کہ خوب اپنے اخلاقی تصورات سے ان حملوں کی مدافعت کرتی اور اس شہوانیت کو اپنے اوپر سوار نہ ہونے دیتی۔

مگر نظام سرمایہ داری ایسی کچی بنیادوں پر نہیں اٹھا کہ یوں اس کے حملے کو روکا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مکمل فلسفہ اور زبردست شیطانی لشکر۔۔۔۔۔ لٹریچر بھی تو تھا جو ساتھ ساتھ اخلاقی نظریات کی شکست وریخت بھی کرتا جا رہا تھا۔

قاتل کا کمال یہی ہے کہ جسے قتل کرنے جائے اسے بطوع و رغبت قتل ہونے کے لئے تیار کر دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں