آزاد میڈیا، زمہ دار میڈیا:

امریکی انتخابات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کوئی چھتیس گھنٹوں بعد میڈیاپر تشریف لائے ، یہ نہ صرف امریکہ کے اندر بلکہ پوری دنیاپر سب سے زیادہ انتظار کی جانے والی سٹیٹمنٹ تھی ، فاکس ، سکائی ، بی بی سی ، الجزیرہ ، آر ٹی وی سمیت دنیابھر کے نامور چینل لائیو کیوریج دے رہے تھے ، جب ٹرمپ پوڈیم پر تشريف لاۓ اور الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دی ، ابھی تقریر شروع ھوئے دو منٹ کے قریب ہی ھوئے ھوں گے کہ امریکہ کے میڈیا نے صدر امریکہ کی تقریر روک دی ، لائیو چلتی ہوئی تقریرکم و بیش تمام امریکی میڈیا نے اسلئے بلیک آوٹ کر دی کے ملک کا سب سے طاقتور انسان بغیر ثبوت کے ملکی ادروں کے خلاف ہرزاہ رسائی کر رہا ھے جو ہماری جمہوری روایات کے خلاف ھے ۔

ٹوئٹر امریکی بلاگنگ ، سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ ھے صرف اس الیکشن کے بعد نہ جانے کتنے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹس سنسر کر دئیے گے نہ جانے کتنے ٹویٹس فلیگ کئے گے کہ یہ بندہ جو بات کر رہا ھے وہ شائد درست نہ ھو ،
اب زرہ اپنے میڈیا کا موازنہ کریں آزادی آزادی ، اور پابندی کا شور مچانے والا کیااتنا زمہ دار بھی ھے ؟ اجمل قصاب کے گھر کی لائیو کیوریج ریٹنگ کے لئے دھماکوں کے دوران کٹی ،پھٹی لاشیں دکھانے والا میڈیا، نواز شریف کی بغیر کسی ثبوت کے ملکی ادروں اور ک ان کے سربراہان کے خلاف مغلظات لائیو دکھانے والا میڈیا ، کتنے میڈیاھاوسسز نے ایاز صادق کے بیان کو سنسر کیا ، ایازصادق کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑھا ؟بلکہ طرفہ تماشہ اگلے دنوں میں ایازصادق کے ہر آمد جامد کو اور مولانا کے تشریف آوری کی بھی لائیو دکھایا گیا۔

آزادی ایک زمہ داری ھے شتر بے مہار آزادی نقصان دہ ھوتی ھے اگر ہمارا میڈیا آزادی کی بات کرتا ھے تو زمہ داری کا تعین بھی ضروری ھے ، ستمبر میں نئے وزیرآعظم کا نام دینے والا ڈاکٹر دانش ھو یامئی میں کرونا ختم کرنے والا جاویدچودھری ، یا پھر امن کی آشا والا حامد میر یہ سب دھندے والے ہیں انکا دھندہ اپنا مال بیچنا ھے ، انکی بولی بس لے لو لے لو اچھا برا انکی بلا سے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں