پاکستان کے خلاف منظم ففتھ جنریشن وار فئیر

پاکستان میں وہ اشخاص یا وہ جماعتیں حق پر ہو ہی نہیں سکتیں جن کی حمایت میں گل بخاری، ماروی سرمد، وقاص گورائیہ، سلمان حیدر، ارشد محمود جیسے لوگ بول رہے ہوں۔ جن کی وجہ شہرت ہی اسلام پر تنقید رہی ہو۔

اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں کہ پاکستان پر ففتھ جنریشن وار مسلط کی گئی ہے۔ ایک منظم طریقے سے ناں صرف پاک فوج مخالف بلکہ پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔ علاقے اور زبان کے نام پر پاکستانیوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاکستان صرف پنجاب کا نام ہے جبکہ کشمیر، کے پی، سندھ، بلوچستان کہیں مریخ پر ہیں۔

اس ففتھ جنریشن وار میں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیاں کتنی ملوث ہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ پاکستان کے خلاف جھوٹی باتیں بھی فیس بک، ٹوئٹر سے حذف نہیں ہوتیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کے متعلق سچی باتیں بھی فیس بک اور ٹوئٹر حذف کر دیتے ہیں بلکہ آئی ڈیز ہی بلاک کر دیتے ہیں۔

اس میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے کچھ معصوم لوگ جو فیس بک یا ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں اس وار میں پاکستان مخالف سپاہی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اور اسلام مخالف گل بخاریوں اور ماروی سرمدوں کے پروپیگنڈے کا حصہ بنے ہوئےہیں اور سوچ رہے ہیں کہ وہ کوئی ثواب کا کام کر رہے ہیں یا عوامی مفاد کا کام کر رہے ہیں۔

اس ففتھ جنریشن وار کے خلاف اب تک پاکستانی ریاست ناکام نظر آتی ہے کیونکہ ریاست کو شاید ابھی تک اس کی سنگین نوعیت کا احساس نہیں ہوا ہے، محض آرمی چیف کی تقریر سے اس جنگ میں کمی نہیں آئے گی بلکہ یہ شدت اختیار کرے گی۔ اگر ریاست کو اس کی سنگینیت کا احساس ہے تو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو ناراض کرنے کے بجائے انھیں اپنے حق میں استعمال کرنا چائیے۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے علاوہ ہر کسی کو غدار کہنے کے بجائے ایسی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو دلائل سے تحمل مزاجی سے ان اسلام مخالف اور پاکستان مخالف عناصر کو بے نقاب کریں۔ اور جو لوگ اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے مخالف ہیں ان میں اور پاکستان مخالف، فوج مخالف لوگوں میں فرق کیا جائے۔

پاکستان میں مسلکی، لسانی اور علاقائی فالٹ لائنز موجود ہیں۔ اور دشمن انھی فالٹ لائنز کا شاطرانہ استعمال کر رہا ہے۔ اس لئے عوام میں بھائی چارے کے فروغ کے لئے سیاسی تعلیم اور حقائق جاننے کے مواقعے فراہم کرنے کے لئے کوششیں کی جائیں۔

پھر رہ جائے گا مسلہ ان لوگوں کا جو یورپ یا امریکہ میں مقیم ہیں اور غیر ملکی ایجینسیوں سے پیسے لے کر ففتھ جنریشن وار کو پاکستان میں پھیلا رہے ہیں انھیں واپس لانے کے لئے انٹرپول سے رابطہ کیا جائے اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ان ایمبیسیز کے ذریعے ان پر انھی ممالک میں کیسسز چلائے جائیں۔ ان کی پاکستان ارسال کردہ رقوم اور پاکستان میں موجود اثاثے ریاست کی تحویل میں لئے جائیں۔

الغرض حالت جنگ میں جو بھی جائز اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں وہ اٹھائے جائیں۔ لیکن یہ خیال لازمی رکھا جائے کہ فوج کی سیاست میں مداخلت کو ناپسند کرنے والوں اور ماروی سرمد، گل بخاری اور باقی دیسی لبرلوں، پاکستان مخالف ایجینسیوں کےتنخواہ دار ملازموں میں فرق کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں