خواہ وہ فرانس کا صدر ہی کیوں نہ بن جائے۔۔۔۔ تحریر: رفعت رشیدعباسی

تکریم و تقدیس کی جاہلوں کے مقابل ہمیشہ حفاظت کی جاتی ہے

اور جب حفاظت کے ذمہ دار غافل ہو جائیں توجاہل و کم ظرف کا موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس حصار میں نقب لگانا یقینی ہوتا ہے

اس غلط فہمی کا شکار کبھی نہیں ہونا چاہیے کہ چونکہ اب وہ مادی ترقی کی معراج پر پہنچ چکے ہیں اس لیے جہالت کا مظاہرہ بھی نہیں کریں گے

اس لیے کہ

غربت سے نجات مل جانا اور مادی ترقی کی معراج پر پہنچ جانا اس بات کی قطعا” ضمانت نہیں ہو سکتی کہ انہیں جہالت سے بھی نجات مل چکی ہے.

روشن عمارات ، عالیشان پہناوے ، شاندار رہن سہن اور چمکتی سڑکیں لازم نہیں کہ
آپ کی ذہنی تاریکی کو بھی دور کردیں

بجلی کے کھمبوں پر لگی روشنیوں سے شہر روشن کیے جا سکتے ہیں شہریوں کے اذہان نہیں

اگر ایسا ممکن ہوتا تو

عینک پہننے سے بصارت ہی نہیں بصیرت بھی بہتر ہو جاتی

اس لیے
جہالت کا علاج مادیت میں نہیں صرف علم میں ہے
اور
علم ہے جاننے کا نام
اور
جو خود اپنے آپ، اپنے وجود کے بارے میں ہی نہ جانتا ہو

وہ کون ہے، کیوں ہے اور کب تک ہے پھر اس کےبعد کیا ہونا ہے ، کدھر جانا ہے ، کون کون سے مراحل سے گزرنا ہے

یہ بھی نہ جانتا ہو کہ

اس کےبنانے والے خالق کو اس سے کیا مطلوب ہے، اس کی رضا کس میں ہے
تو ایسے شخص کی جہا لت میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے کیا؟

وہ تاریک ذہن ہی کہلائے گا خواہ مادی لحاظ سے جس قدر بھی عالیشان معیار رکھتا ہو

خواہ وہ فرانس کا صدر ہی کیوں نہ بن گیا ہو.

اور جب ایسے حقیقت نا آشناء افراد پر مشتمل ایک معاشرہ وجود میں آتا ہے تو
اپنی بنیادوں سے ہی محروم ہونے کے باعث خود اپنی اس عقل کی بنیاد پر نظام تشکیل دیتا ہے جو اسقدر ناقص ہے کہ خود اس کو اس کا اپنا درست اور مکمل تعارف تک نہ کروا سکی

اس لیے

بنیادوں سے محرومی اور ناقص عقل کی رہنمائی میں وہ اپنے لیے جو بھی نظام وضع کرے گا وہ فطرت کے قوانین سے متصادم ہی ہو گا

اور آج اس کے مظاہر مغرب کے اکثر ممالک میں دیکھنے کو ملتے ہیں

غیر فطری خاندانی نظام، مظلوم کے بجائے ظالم سے ہمدردی، بے لگام آزادی کے نام پر حیوانیت کا راج، اظہار رائے کی آزادی کا انسانیت دشمن تصور، بگڑی ہوئی معاشرتی اقدار اور ظالمانہ معاشی نظام۔

کیا بے بنیاد تصور ہے کہ
انسان اپنے مالک و خالق سمیت کسی کی رہنمائی و ہدایت کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ اپنی عقل سے خود اپنے لیے بغیر خدائی ہدایت و رہنمائی کے ایک کامیاب نظام بنانے اور چلانے کی اہلیت رکھتا ہے ۔

وہ انسان اس قدر خود سر ہو گیا ہے کہ

جو آج بھی اس بات کا اختیار نہیں رکھتا ہے کہ وہ کب اور کہاں اپنی آنکھیں اس جہاں میں کھولے گا اور کب اور کہاں وہ آخری بار کوئی منظر دیکھ پائے گا
اور چاہتا یہ ہے کہ
ان دو بے بسی و بے اختیاری کے مراحل کے درمیان اسے جو چند ساعتیں میسر ہیں اس زمین کے سینے پر گزارنے کے لیے وہ ان پر اپنی حکمرانی قائم کرے اپنے خالق کے منشاء و مرضی سے بغاوت کرتے ہوئے

اس محدود درمیانی عرصے کو اپنے بنائے ہوئے باغیانہ نظام کے تحت اچھا گزارنے اور انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت کرنے کا دعویٰ کرنے والے ذرا اس مرحلے کے دورانیے کا ہی اپنی مرضی سے تعین کر کے دیکھا دیں؟

اپنی پہلی اور آخری سانس کے درمیانی عرصے میں صرف چند لمحوں کی کمی بیشی کر کے دیکھاو؟

اے انسان !

تو اپنے مالک کی رہنمائی کا محتاج ہے اور اسی میں تیری سلامتی ہے، اسی میں تیری نجات ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں