زلزلہ۔۔۔8اکتوبر2005۔۔۔کچھ یادیں، کچھ باتیں۔۔۔انیس قمر عباسی

انسان کی زندگی میں کچھ حادثات ایسے ہوتے ہیں جن کے نقوش بہت دیر تک بلکہ ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔ انسان نہ چاہ کر بھی ان سے جان نہیں چھڑا سکتا اور وہ کسی نہ کسی طرح لاشعور سے مسلسل دما غ میں ارتعاش پیدا کرتے رہتے ہیں۔۔

اہل پاکستان کے لیے بالعموم اور اہل کشمیر کے لیے بالخصوص ایسا ہی واقعہ آج سے ٹھیک 15 سال قبل اس وقت پیش آیا جب ایک بھونچال نےشہر کے شہر مٹی کے ڈھیر بنا کر رکھ دیے اور چند لحموں میں لاکھ سے زاہد انسانی جانیں لقمہ اجل بن گی۔۔۔

راقم اس وقت آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی مِیں شعبہ کمپیوٹر ساینسز کا طالبعلم تھا۔۔ یہ وہ دن تھا کہ جب ابھی پاکستا ن میں لوڈ شیڈنگ اس حد تک نہیں بڑھی تھی کہ ہفتے کو بھی چھٹی کر دی جاتی۔۔۔ ہما را نیا سمسٹر شروع ہوے محض چند دن ہی ہوے تھے اور اس سے پہلے ہمیں دو ماہ کی گرمائی تعطیلات تھیں۔۔۔ خلاف معمول زلزلہ سے ایک دن قبل میں مظفرآباد سے اپنے گھر آیا ہوا تھا وگرنہ اگر مظفرآباد میں ہوتا تو شاید یہ تحریر نہ لکھ پاتا۔
رمضان المبار کی تیسری سحری اور نماز فجر کے بعد حسب معمول واپس سو گیا۔۔ میری چارپایی ہمارے کچے گھر کے کمرے میں کھڑکی کے بالکل ساتھ تھی۔۔ میں خواب خرگوش میں ہی تھا کہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری چار پائی کوجھولے مِیں جھو لایا جا رہا ہو۔۔اتنے میں کچھ اور آوازیں بھی کانو ں میں پڑی تو جھٹکے سے کھڑکی کھول کر قمیض کے بغیر ہی چھلانگ لگا کر اگلی چھت پر ابھی ایک پاوں ہی رکھا تھا اور دوسرا ہوا مِیں ہی تھا کہ نیچے سے چھت 50فٹ دور جا چکی تھی اور اس پر موجود ایک عدد کرسی 3 کھیت پھلانگ کر نیچے جا چکی تھی۔۔ گبھراہٹ ٘میں دوبارہ پاوں صحن پر رکھے ہی تھے کہ مکان کی دیواریں گرنا شروع ہو گی اور میں نے باہر کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔

بڑی مشکل سے ایک سیدھے کھیت مِیں پہنچا جہا ں باقی گھر والے بھی مو جو د تھے۔۔ ارد گرد اور آمنے سامنے کے گھروں سے گردو غبار کے بادل اٹھ رہے تھے۔ ہر طرف شور و چیخیں بھرپا تھی۔۔ اب فکر تھی تو چھوٹی بہن اور بھتیجی کی جو کہ کالج و سکول مِیں گی ہوئی تھیں۔۔ ہم بھاگے دوڑے گھر کے قریب موجود سکول میں پہنچے تو پتہ چلا کہ بچے اس وقت سکول کے باہر کھلی جگہ پر پڑھ رہے تھے اس لیے سکول کے اندر کوئی بھی بچہ موجود نہیں تھا۔۔ اللہ کا شکر ادا کیا اتنے مِیں ارد گرد کے ایریاز سے بھی خبریں آنا شروع ہو گی کہ اس جگہ اتنے لوگ شہید ہو گے، کچھ ملبے کے نیچے دبے ہیں۔۔ پڑوس میں سید رضا شاہ صاحب کی بیٹی بھی ملبے تلے تھی اس کو نکالا۔

پورا دن کھلے آسماں تلے ایک گراونڈ میں گزارا۔ وقتاً فوقتاً آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا جو خوف ہراس میں مزید اضافہ کر دیتا۔۔ عصر کے وقت ایسی خوفناک بارش شروع ہوئی کہ جس نے رہی سہی کسر بھی ختم کر دی۔۔بڑی مشکل سے درختوں کے نیچے چھپ چھپ کر وہ ٹائم گزارا۔۔ البتہ اللہ کا شکر ہے کہ کسی نے بھی روزہ نہیں توڑا اور شام کو ارد گرد گھوم پھر کر کسی نے افطاری کی کسی نے نہیں۔

میرے دیگر رشتہ دار جن کو یہ پتہ نہِیں تھا کہ میں گھر ہوں وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں مظفرآباد میں موجود تھا اور آزاد کشمیر یونیورسٹی جو کہ بری طرح تباہ ہو گی تھی اس میں میرا بھی کام تما م ہو گیا ہے۔۔ اس وقت موبائل بھی اتنے عام نہیں تھے سو کمیونیکشن کا نظام بھی نہیں تھا۔
مجھے اب فکر تھی تو مظفراآباد کی اور بالخصوص یونیورسٹی کی کیونکہ وہاں میرے بہت سے دوست شہید اور زخمی ہو چکے تھے۔۔ ایک دن اور گاوں میں گزارا اور پھر مظفرآباد آگیا۔۔۔ وہ شہر جس کو میں چند دن قبل ہنستا بستا چھوڑ کر گیا تھا، ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔۔ جگہ جگہ ملبہ، خون کے نشانات اور اس سے آنے والی ایک سپشل قسم کی بدبو دہشت میں اضافہ کر رہی تھی۔۔۔ پہلے تو پورے شہر کا چکر لگا یا میرے ساتھ میر دوست اور فیلو محسن منشاد عباسی بھی تھے، کافی سارے کلاس فیلوز کے جس جگہ گھر ہوتے تھے وہاں گے لیکن ہر جگہ مٹی کا ڈھیر ہی ملا۔۔۔

شام کے وقت یونیورسٹی گراونڈ میں آے تو وہا ں اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھی موجود تھے۔۔ گراونڈ مِیں ایک خیمہ بستی قایم ہو چکی تھی ، ہم سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم یہا ں موجود بچوں کی تعیلم کا سلسلہ جاری رکھنا چائیے۔۔ اس مقصد کے لیے الخدمت فاونڈیشن نے 2 ٹینٹ دیے اور ہم نے وہاں ایک خیمہ سکول شروع کر دیا جس میں مختلف کلاسز کے بچوں کو تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا۔۔

اسی دوران ان لوگوں کو سحری و افطاری کا بھی ہم اہتمام کرتے جو کہ الخدمت فاونڈیشن اور سیور فوڈز کے تعاون سے کرتے۔۔۔ رمضان المبارک کا مہینہ جاری تھا اور اب عید بھی قریب آرہی تھی، لیکن کیسی عید؟ مجھے گھر سے فون آیا کہ آپ عید پر گھر آ جائیں لیکن اسلامی جمعیت طلبہ نے یہ عید زلزلہ زدگان کے ساتھ ہی منانے کا اعلان کیا تھا اور پورے پاکستان سے لوگ آ رہے تھے، اس لیے مِیں نے بھی یہی فیصلہ کیا۔۔۔

پور ے پاکستا ن سے لوگوں نے خیمہ بستیوں میں رہنے والے لوگوں کے بچوں کے یے عید طایف جمع کر کے لائے جو ہم نے عید سے قبل یونیورسٹی گراونڈ اور چہلہ میں موجود خیمہ بستِوں میں تقسیم کیے۔۔۔۔ میری زندگی میں یہ وہ پہلی عید تھی جو گھر سے باہر گزر رہی تھی لیکن پھر بھی میں بہت خوش تھا۔۔۔
عید کی نماز مر حوم قایدقاضی حسین احمد کی امامت میں ادا کی اس کے بعد دوبارہ ان لوگوں میں عید طائف و دیگر سامان تقسیم کرنے لگ گے۔۔اس موقع پر میں ناظم جموں کشمیر اسلامی جمعیت طلبہ برادر شاہد اختر [مرحوم] کو یاد نہ کروں تو بات مکمل نہیں ہوتی ، ان کی قیادت میں ہم نے یہ سارا کام کیا۔۔۔ اللہ شاہد بھایی کروٹ کر وٹ جنت نصیب کرے۔۔
اسی دن شام کو شاہد بھایی کے ساتھ ہی ہم لوگ گھر کی طرف روانہ ہوے ہمارے ساتھ برادر میر محمد ، ہارون الرشید ، اور وسیم عباسی تھے۔۔

عید کے بعد کچھ دن گزارنے کے بعد ایک مرتبہ پھر ہم لوگ مظفرآباد تھے۔۔ اب یہ فیصلہ ہوا کہ یہ بچے جو کہ نویں اور دسویں جماعت میں تھے یہا ں نہیں پڑ ھ سکتے اس لیے اسلامی جمعت طلبہ پاکستان نے پاکستا ن اور آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں میں رہایشی سکول جو کہ ان کہ امتحانات تک قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے کھاریاں، میر پور اور کوٹلی مِیں یہ سنٹرز کھولے گے۔۔۔۔

میں بھی دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کھاریاں ضلع گجرات میں قائم اس سکول مِیں چلا گیا۔۔۔ وہاں کے لوگوں نے بالعموم اور جما عت اسلامی اور اسلامی جمعت طلبہ نے بالخصوص بہت تعاون کیا۔۔۔ تقریبا تین ماہ تک 80 سے زاہد بچوں کی رہائش ، طعام اور دیگر ضروریات پوری کی اور ان کو وہاں کے بہترین سکول میں تعلیم دی گی۔۔
اتنے میں ہماری یونیورسٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ عارضی طور پر اسلامآباد منتقل کیا جاے سو ہماری کلا سز بحریہ یو نیورسٹی اسلام آباد مِیں 11 فروری 2006 سے دوبارہ شروع ہوئیں۔۔ رہائش کے لیے فیض آباد کے مقام پر موجود ایک ہاسٹل دیا گیا جہاں ہم لوگ مفت رہائش اور طعام پر رہے۔۔۔ اس دوران ہم اپنے ان ساتھیوں کو بہت مس کرتے رہے جو چند ماہ قبل ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔۔۔ 2 سمسٹرز وہاں گزارنے کے بعد ہم دوبارہ مظفرآباد آ گے اور نو تعمیر شدہ یونیورسٹی مِیں بقیہ تعلیم مکمل کی۔۔۔۔۔

آج اس سانحے کوپندرہ سال گزر چکے لیکن وہ لحمات آج بھی ہماری یادوں سے محو نہیں ہو سکے۔۔ بچھڑنے والے آج بھی یاد آتے ہیں ۔۔۔
بس اللہ سے یہ دعا ہے کہ اللہ ان کے درجات کو بلند کرے اور میں ایسی ناگہانی آفات سے محفوظ رکھے۔۔۔
[انیس قمر عباسی]

اپنا تبصرہ بھیجیں