ڈاکٹر ظہور احمد

ظہور کہنے کو تو میرا خالہ زاد ہے مگر حقیقت میں سگے بھائیوں کی طرح ہے۔ گاؤں میں ہمارا بچپن اور لڑکپن جبکہ پنڈی میں ہماری جوانی کا ایک بڑا حصہ بھی ساتھ گزرا۔ عمر میں میرے سے ایک، دو سال چھوٹا ہے اور اسی وجہ سے پنجاب کالج آف کامرس میں بی کام میں داخلے کے وقت میں نے اس کے “سرپرست” کی ذمہ داری نبھائی تھی۔

Zahoor Ahmad
Zahoor Ahmad

انٹرمیڈیٹ تک اس کی کارکردگی اوسط درجے کی ہی رہی مگر پنجاب کالج کے ماحول میں وہ ایک انتہائی محنتی اور فوکسڈ طالب علم کے طور پر سامنے آیا۔ اس کا چھوٹا بھائی اکثر مذاق کیا کرتا ہے کہ کالج کی طرف سے سال کے آخر میں ایک خط موصول ہوا (جو سب طلبا کو بھیجا جاتا ہے) اس خط میں لکھا ہوا تھا کہ آپ نے اس سال اتنی چھٹیاں کی ہیں، اگلے سال بہتری کی کوشش کریں. ظہور کی سال کے دوران کی گئی چھٹیوں کی تعداد “صفر” تھی۔
بی کام امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد ظہور کو پنجاب گروپ کی محمد علی جناح یونیورسٹی میں ایم بی اے میں داخلہ ملا۔ گھر پنڈی کے ایک دور دراز کونے میں تھا جبکہ یونیورسٹی اسلام آباد کے بلیو ایریا میں۔ صبح منہ اندھیرے پبلک ٹرانسپورٹ پر دھکے کھاتے اور شام دیر گئے گھر پہنچتے ظہور نے یہاں بھی شاید ہی کبھی چھٹی کی ہو۔ یونیورسٹی میں ظہور کی تیسری پوزیشن رہی، سی جی پی اے 3.88/4.00۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سرکاری یا پرائیویٹ سیکٹر میں معقول معاوضے پر اتنے قابل آدمی کی خدمات حاصل کی جاتیں مگر سفارش اور ریفرنسز نہ ہونے کی وجہ سے وہ کئی سال پرائیویٹ کالجوں میں معمولی تنخواہ پر پڑھاتا رہا۔
پھر اس نے اپنی مدد آپ اور محدود وسائل کے باوجود چین کی ایک مشہور یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے کوالیفائی کر لیا اور ابھی حال میں ہی مقررہ مدت کے ختم ہونے سے پہلے ڈاکٹریٹ مکمل کر کے لوٹا ہے۔ چین میں اسے بہترین بین القوامی سٹوڈنٹ کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
پی ایچ ڈی ایک ریسرچ اورینٹڈ ڈگری ہے اور اس میں قابلیت کا معیار اکثر دنیا کے جانے ماننے جرنلز میں چھپنے والی آپ کی تحقیق ہوتی ہے۔ ظہور کے اعلٰی شہرت کے حامل جرنلز میں اب تک سات تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔
انتہائی محنتی اور قابل ہونے کے باوجود وہ ایک درویش صفت انسان ہے، اسے بے پناہ مال و دولت یا مرتبے کا لالچ نہیں ہے، یہاں تک کہ مغربی ممالک میں سٹیل ہونے کی بھی کوئی خاص چاہ نہیں۔ کہیں بھی خاموشی سے بیٹھ اپنا کام کرتا رہے گا۔
ایف اے کے بعد سے اُس کی تعلیم پر حکومت پاکستان کا ایک دھیلا بھی خرچ نہیں ہوا اور یہاں سینکڑوں کی تعداد میں پاکستانی ہیں جو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے وظیفے پر تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس پاکستان جانا تک گوارہ نہیں کرتے۔
جو قومیں اپنے ایسے قابل سپوت ضائع کر دیتی ہیں جہالت اور پستی کے اندھیروں میں رینگنا ہی ان کا مقدار ہوتا ہے۔

تحریر: یاسر ممتاز – ناروے

اپنا تبصرہ بھیجیں