امیر جماعت اسلامی آذاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان ڈاکٹر خالد محمود خان کی 5 اگست 2020 کو مظفرآباد میں کی گئی تقریر

میں اہل پاکستان کا بالخصوص وہاں کی تحریک اسلامی کے امیر جناب سراج الحق صاحب کا اور پاکستان کی حکومت کا بھی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے آج کے دن کو یوم استحصال کے طور پہ بنانے کا اہتمام کیا۔ اور وزیرآعظم پاکستان اہل کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے آج یہاں میرے اور آپ کے قرب و جوار میں تشریف لائے ہیں۔

مجھے حکومت پاکستان سے سارے اہل کشمیر کی طرف سے یہ کہنا ہے کہ ایک سال کے بعد محض ایک ترانے کا اجراء اور ایک سال کے بعد کشمیر کو اپنے نقشے میں ظاہر کرنا یہ بہت کمزور اقدامات ہیں۔ عملا پاکستان کی شہ رگ کو مودی اور بھارت نے اس پر قبضہ کر لیا اس نے اپنے شکنجے گاڑ دیئے لیکن اہل کشمیر، کوہ ہمالیہ کی طرح، کوہ گراں کی طرح ہندوستان کے ناپاک قدموں کو آگے بڑھنے سے اپنے جسموں کو چھلنی کروا کر روکے ہوئے ہیں۔ ایک سال گزرنے کے بعد اہل کشمیر یہ توقع رکھتے تھے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں۔ میں عمران خان صاحب سے یہ کہتا ہوں میں پاکستان کی فوج کے سپہ سالار سے یہ کہتا ہوں کہ آپ کی شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہے آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان، ہندوستان کے نجس عزائم کے مقابلے میں طلوع کی مانند 50 لاکھ لوگ ادھر 20 لاکھ لوگ ادھر مورچہ زن ہیں اپنے پیاروں کیے لاشےاٹھانے پہ مجبور ہیں۔

ہمیں محض سیاسی، سفارتی، اخلاقی نہیں عملا آگے بڑھ کے کشمیر کی آزادی کے حوالے سے روڈ میپ چائیے۔
جناب عمران خان صاحب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لوگوں کی آواز بنیں اور مودی کے ناپاک روڈ میپ کے مقابلے میں ایک عملا روڈ میپ کا اعلان کریں۔ اور میں آپ سے کہہ دوں جب ہمارے جنید صحرائی کا لاشہ اٹھے گا۔ جب ہمارے ریاض نائیکو جیسے لاکھوں پھولوں کے لاشے تڑپیں گے اور وہ اٹھائے جائیں گے، جب ہمارے چاند ستارے شہید کئے جائیں گے تو شاید ہم زیادہ دیر تک آپ کے روڈ میپ کا انتظار نہ کر سکیں۔
اہل کشمیر کے لاشے ان دریاوں میں بہہ کے آتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی معطر ہواوں کے ساتھ کشمیر کی بیٹی کی آہیں اور سسکیاں آتی ہیں۔ مہکتے ہوئے لاشے، مہکتے ہوئے پھولوں کو تہ تیغ کیا جانا، کشمیر کی بیٹی کی عصمت دری اور اس کی آسمان کو چیرتی ہوئی چیخیں اور ایک سال کے لاک ڈاون کے باوجود سید علی گیلانی، عبدالحمید فیاض شیخ، اشرف صحرائی، میر واعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک صاحب، ہماری بہن آسیہ اندرابی کی قیادت میں اہل کشمیر جس شان کے ساتھ کشمیر کی آزادی، اسلام کی سربلندی، پاکستان کی بقاء، پاکستان کی حفاظت، پاکستان کی تکمیل کی خاطر بروئے کار ہیں انھیں اہل پاکستان کے ساتھ کوئی گلہ نہیں لیکن حکمرانوں سے گلہ ہے۔

میرے سامنے ہمارےبچے، ہمارے نوجوان تڑپ تڑپ کر جس طرح نعرہ زن تھے یہ اس بات کا غماز ہے کہ آزاد کشمیر والے اور گلگت بلتستان والے زیادہ دیر تک شاید صبر نہ کر سکیں۔ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔پاکستان کی قیادت آگے بڑھے روڈ میپ دے اعلان جہاد کرے، مجاہدین کی بیڑیاں کھولی جائیں اور 89 سے لے کے 2001 والی تاریخ کو اور 47 کی تاریخ کو اور 1931 کی تاریخ کو اور 1832 کی تاریخ کو دوہرانے کا اعلان کیا جائے۔

عمران خان صاحب
جناب قمرباجوہ صاحب
میرے آباء نے ہمارے آباء نے کلہاڑیوں پتھروں، ٹوپی دار بندوقوں اور درے کی بندوقوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کے مودی کے بڑوں کا پیچھا سری نگر تک کیا تھا۔
وہ آج بھی اسلام آباد سے کسی نادیدہ امداد کے منتظر ہیں اور ادھر سے کسی محمد ابن قاسم کے منتظر ہیں۔

ہمیں پاکستان کی ریاست کی مشکلات، ان کی مجبوریوں کا علم بھی ہے ان کا احساس بھی ہے۔ لیکن ہمارے سامنے جب ریاض نائیکو کی لاش، جب جنید صحرائی کی لاش، ہمارے سیکنڑوں بچے، ہماری خوبصورت پاکیزہ کلیاں جب مسلی جاتی ہیں تو پھر ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے۔

اگر آپ آگے نہیں بڑھیں گے تو میں نے 27 ستمبر کو ادھر مظفرآباد میں کہا تھا کہ پھر ہم آزاد حکومت اور جی بی کی حکومت کو لے کر بیٹھیں گے۔
ہم اپنا لائحہ عمل خود طے کریں گے، ہم مجاہدوں کی اولاد ہیں، ہم غازیوں کی اولاد ہیں، ہم شہداء کی اولاد ہیں۔
ایک سال گزرنے کے باوجود اگر او آئی سی والے بھی کماحقو حرکت میں نہیں آئے اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی حرکت میں نہیں آئی اور پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی ایگریسیو ڈپلومیسی واضح نہیں کی تو پھر کشمیریوں کے پاس خود آگے بڑھنے کے علاوہ کوئی راستہ رہ نہیں جاتا۔

اور میں آپ سب کی وساطت سے یہ سفید ریش بزرگ، یہ شہداء کے وارث، یہ ہمارے چاند ستارے، یہ ہمارے ہیرے موتی، یہ ہمارے خوبصورت پھول، یہ ہمارے مجاہد بچے ان کے نعرہ زن پاکیزہ وجود اور ان کے پر عزم چہرے، ان کی چمکتی روشن آنکھوں کی قسم مقبوضہ کشمیر میں بہنے والے خون اور مقبوضہ کشمیر میں مجاہد صفت برسر پیکار نوجوان، گیلانی صاحب سے، اشرف صحرائی صاحب سے یہ کہنا چاہتا ہوں خدا کی قسم آزاد کشمیر اور جی بی کا ایک ایک فرد اپنے جسم پر موجود اس سر کو کشمیر کے بیٹے اور کشمیر کی بیٹی کا قرض سمجھتا ہے۔

ہم بے چین ہیں
ہم بے تاب ہیں
ہم اس ایل او سی کو نہ پہلے مانتے تھے نہ اب مانتے ہیں ہم اسے کشمیریوں کے سینے پر کھینچی گئی خونی لکیر سمجھتے ہیں، ہم اسے سیزفائر لائن کہتے ہیں۔
اور ہم کسی بھی وقت خود لائحہ عمل طے کریں گے۔
پاکستان کے حکمرانوں نے اگر کوئی لائحہ عمل نہ دیا تو سراج الحق صاحب کی قیادت میں، دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کی رہنمائی میں آزاد حکومت، جی بی کی حکومت کو بلائیں گے، لائحہ عمل طے کریں گے۔

آپ کی استعقامت
آپ کی ہمت
آپ کی قربانی
آپ کی شہادت دنیا بھر میں لازوال بھی ہے،بے مثل بھی ہے اور یہی کشمیر کی آزادی کا عنوان بھی ہے، یہی کشمیر کی آزادی کی ضمانت بھی ہے۔

اور مجھے جس طرح کل طلوع ہونے والے سورج کے طلوع ہونے کا یقین ہے۔ خدا کی قسم اللہ کی نصرت کے بھروسے پر رسول اللہ کی غلامی اور اس شرم کے بھروسے پر اہل کشمیر کے عزم، یقین، جذبہ جہاد اور قربانیوں کی بنیاد پر کشمیر کی آزادی کا یقین ہے۔

میں پاکستان کے حکمرانوں سے یہ کہتا ہوں، میں او آئی سی سے یہ کہتا ہوں۔ کہ کشمیر ایک فلیش پوائنٹ ہے۔ یہاں بہتا ہوا خون، کشمیر کی بیٹی کی بددعا کے نتیجے میں میرے اللہ نے ساری دنیا کو لاک ڈاون کا مزہ چھکایا ہے۔

کشمیر میں بہتا ہوا خون، کشمیر میں لٹتی ہوئی عصمتیں، محض انسانوں کا خون نہیں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کا خون ہے اور اللہ سے زیادہ شہداء کے مقدس خون کی قدر کرنے والی کوئی زات نہیں۔ اللہ کی نصرت آئے گی کشمیر آزاد ہو گا۔ ہندوستان کے حصے بکھرے اور ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا عنوان بنے گا۔ لیکن اسلام آباد والو، او آئی سی والو اور بے حس سلامتی کونسل والو آپ سے یہ کہتا ہوں تاریخ کے سامنے بھی آپ جواب دہ ہیں اللہ کی عدالت میں بھی آپ جواب دے ہیں، زمین کی عدالت میں بھی آپ جواب دہ ہیں۔

پاکستان کے حکمرانوں سے یہ کہتا ہوں عمران خان صاحب آج مظفرآباد میں آئے ہیں تو پھر آپ پاکستان کے 22 کروڑ لوگوں اور ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے چند عملی اقدامات کا اعلان کریں۔

13 جولائی کو آپ کی طرف سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا اعلان کشمیری اپنے زخموں پہ نمک پاشی سمجھتے ہیں۔ بھارت کے لئے تجارتی راہداری کو بند کرنے کا اعلان آج مظفرآباد مظفرآباد سے ہونا چائیے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کی پاکیزہ فضاؤں کو بھارت کے لئے مکمل طور پہ بند کرنے کا اعلان آج کیا جانا چاہیے۔ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان آج کیا جانا چائیے۔

او آئی سی یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ڈپلومیٹک ایگریشن کے حوالے سے روڈ میپ کا اعلان آج کیا جانا چائیے۔ آج ایک سال گزرنے کے بعد پاکستان کے وزیرآعظم کی طرف سے سفارتی، سیاسی، اخلاقی سے آگے بڑھ کے کچھ عملی قدامات کا اعلان کیا جانا چائیے۔ ہم منتظر رہیں گے لیکن اگر یہ نہ ہو سکا تو اہل کشمیر اپنی راہ خود لیں گے اور آپ اگر چاہیں تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سارے آذاد کشمیر میں نوجوان،بزرگوں، ادھیڑ عمر میرے بھائیوں کو سڑکوں پہ مچلتے ہوئے، جذبہ جہاد، جذبہ شہادت سے سرشار دیکھ سکتے ہیں۔ ہم کل بھی ہر اول دستہ تھے ہم آج بھی ہر اول دستہ ہیں۔مستقبل میں بھی جہاد آزادی کا ہر اول دستہ بنیں گے۔ آپ زرا اپنی ٹانگوں میں اپنے تن بدن میں جان پیدا کریں۔

قائدآعظم کے بقول آپ کی شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہو اور آپ ایک سال بعد ایک ترانہ کشمیری قوم کو سنائیں،کشمیریوں کے ساتھ یہ مذاق بند ہونا چائیے۔ اعلان جہادکی توقع رکھتے ہیں ہم عملی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

آپ نوجوانوں سے آپ بزرگوں سے آذاد کشمیر سے تعلق اور آذاد کشمیر کے دارلحکومت سے تعلق، بیس کیمپ اور مجاہدوں کے اس قلعے کے بیس کیمپ سے تعلق رکھنے والے بزرگوں سے یہ کہتا ہوں کشمیر کی آزادی اور بیس کیمپ کی خوشحالی کا عنوان لے کر جماعت اسلامی کل بھی میدان کارزار میں تھی آج بھی میدان کارزار میں ہے۔ ساری کشمیر ی قوم انشاءاللہ بیس کیمپ کی خوشحالی، کشمیر کی آزادی کے سلوگن کو لے کے آگے بڑھے ہیں۔ جس طرح آج آپ جوق درجق آئے ہیں آئندہ کے حوالے سے بھی مجھے یقین کامل ہے کہ آپ آئیں گے۔
میں اور آپ دو نکاتی ایجنڈے پر متفق ہیں۔
کشمیر کی وحدت اور حق خود ارادیت
اور اسلام کی سربلندی
اس پر کشمیری قوم میں نہ کل کوئی اختلاف رائے تھا نہ آج کوئی اختلاف رائے ہے۔
میری اللہ سے دعا ہےاللہ شہداء کے درجات بلند فرمائے۔
شہداء کے مقدس خون کے صدقے کشمیر والوں کی نصرت فرمائے۔
کشمیر والوں کی مدد فرمائے۔

اور آپ سے یہ کہتا ہوں مورچے میں ڈٹے رہیں،
متحد رہیں،
جذبہ جہاد کو پروان چڑھائیں، جذبہ شہادت کو پروان چڑھائیں، خوب تربیت کریں،
اللہ کے در سے لو لگائیں،
اللہ کے قرآن سے تعلق استوار کریں،
رسول اللہ کا اسوا حسنہ اپنائیں،
ہم میدان جہادمیں ہیں، ہم بیس کیمپ کے باسی ہیں۔ انشاء اللہ اس جہاد کی تحریک کو منزل تک پہنچا کر دم لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں