دیر چترال موٹروے

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اضلاع چترال بالا، چترال پائن، دیر بالا، دیر پائن اور باجوڑ جغرافیہ، انسانی و قدرتی وسائل، سیر و سیاحت کی و سیع تر مواقع، اقدار و روایات اور تاریخ کی وجہ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت اپنی آزادی، خودمختاری اور شناخت کے ساتھ یہ علیحدہ ریاستیں تھیں لیکن یہاں کے عوام نے غیر مشروط پر پاکستان کے ساتھ الحاق کو بخوشی تسلیم کیا اور پاکستان کے ساتھ وفاداری کو عملا ثابت کر کے دکھایا۔ بہت نامساعد حالات اور نشیب وفراز کے باوجود اس مملکت خداداد کے ساتھ محبت میں نہ کوئی کمی آئی اور نہ عزم و ہمت اور استقامت میں کوئی تزلزل آیا۔

ریاست کی جانب سے چترال، دیر اور باجوڑ جیسے اہم علاقے کی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہود کے لیے خصوصی منصوبہ بندی اور ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کا نہ اٹھانا ایک تلخ حقیقت ہے۔

جس علاقے سے وزیراعظم یا وزیراعلی آتا ہے، وہ خوش قسمت ٹھہرتا ہے اور پورا خزانہ وہاں پر لٹایا جاتا ہے، وہاں ہمہ پہلو ترقی ہوتی ہے۔ جبکہ باقی علاقے محروم رہ جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ علاقہ محروم چلا آ رہا ہے۔ کبھی نظر کرم کا مستحق نہیں ٹھہرا۔

یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ چترال، دیر اور باجوڑ سیاسی شعور، تہذیب، روداری اور باہمی احترام کے حوالے سے قابل فخر اور قابل تقلید مثال ہیں۔ یہاں کی سیاسی قیادت نے دستیاب مواقع اور وسائل کا درست استعمال کرکے یہاں کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مگر وفاق اور صوبائی حکومتوں نے اسے نظر انداز کیا ہے

ضلع دیر پائین اور دیر بالا میں عملا سیاسی سفر 1971 سے شروع ہوا۔ اس قدر تاخیر کے باوجود یہاں کی بیدار مغز، بالغ نظر، سنجیدہ اور تجربہ کار قیادت نے اچھی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے ذریعے نمایاں ترقی دلائی۔ تعلیم، صحت، مواصلات میں واضح ترقی اور دور دراز علاقوں تک بجلی کی ترسیل اس قیادت کی اہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس متوجہ کرتی ہے اور تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ موجودہ حکومت کو ان اضلاع سے جو مینڈیٹ ملا ہے، وہ نہ اس کی قدر کرسکی اور نہ یہاں کے ممبران اسمبلی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ وزیراعظم کی عدم توجہی اور وفاقی وزیر مواصلات اور وزیراعلی خیبر پختونخوا کا متعصبابہ اور ہتک آمیز رویہ انتہائی قابل افسوس اور یہاں سے ممبران اسمبلی کی بےبسی قابل رحم ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس سابقہ ممبران قومی اسمبلی کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور اس وقت کے وزیراعظم جناب نواز شریف اور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی خصوصی دلچسپی اور وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی معاونت کا اعتراف بھی کرتی ہے اور شکریہ بھی ادا کرتی ہے کہ اگرچہ سی پیک میں مغربی روٹ کی صورت ہمارے صوبے کو وہ حصہ نہیں ملا جس کا وہ حقدار تھا، لیکن چکدرہ ٹو چترال شاہراہ کی تعمیر بتعاون ایگزیم بینک اور بعد ازاں چکدرہ، چترال، گلگت موٹروے سی پیک متبادل روٹ کی منظوری دلانا تعمیر وترقی کے نئے دور کی نوید تھا۔

آل پارٹیز کانفرنس اس علاقے کے لیے اس اہم ترین اہمیت کے حامل پروجیکٹ کو موجودہ حکومت کی PSDP سے نکالنے پر افسوس اور غم و غصے کا اظہار کرتی ہے، اور اس پر اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کرواتی ہے۔

آن دی ریکارڈ یہ پراجیکٹ 6JCC کا منظور شدہ اور کارروائی کا حصہ ہے اور 2017،18 PSDP میں شامل اور اس وقت کے وزیراعلی پرویز خٹک کا اعلان کردہ ہے۔ موجودہ وزیراعلی محمود خان کی بجٹ 2018،19 سپیچ کا حصہ رہا ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید اور وزیراعلی محمود خان کا یہ انکار کہ اس پراجیکٹ کا وجود ہے ہی نہیں اور مسلسل تواتر اور ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولنا قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس مکمل سنجیدگی کے ساتھ سمجھتی ہے کہ یہ پراجیکٹ کئی حوالوں سے مذکورہ اضلاع کے ساتھ پورے ملک اور ملاکنڈ ڈویژن کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
1- پورا علاقہ معدنیات سے مالا مال ہے۔
2- سیاحت کے وسیع ترین مواقع اور امکانات موجود ہیں۔
3- سٹریٹیجک اور معاشی اہمیت کا حامل محفوظ ترین اور مختصر روٹ ہے جو نہ صرف چائنہ اور افغانستان سے لنک کرتا ہے بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی کا بھی بہترین اور شارٹ روٹ ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ یہاں کے عوام کی آنکھوں میں جھول دھونکنے اور ورغلانے کے بجائے ترجیحی اور ہنگامی بنیادوں پر وعدوں کے مطابق اس پروجیکٹ کو اپنی اصل حیثیت اور شناخت کے مطابق PSDP کا حصہ بنایا جائے اور فوری رقم مختص کرکے کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے۔

آل پارٹیز کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ پچسویں ترمیم یعنی قبائل کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کے وقت کیے گئے فیصلہ کہ علاقے میں سالانہ سو ارب روپے تعمیر وترقی پر لگائے جائیں گے، کو عملی جامہ پہنایا جائے اور پشاور سے براستہ ضلع مہمند، ضلع باجوڑ اور ضلع دیر پائین ایکسپریس وے بنا کر اسے سی پیک روٹ سے لنک کر کے کوریڈور بنایا جائے۔

آل پارٹیز کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ چکیاتن تا کمراٹ ایکسپریس وے بنایا جائے اور کالام سوات کے ساتھ لنک کیا جائے اور اسے دیر چترال سی پیک روٹ کے ساتھ منسلک کرکے دوسرا کوریڈور بنایا جائے۔

آل پارٹیز کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ مذکورہ پانچ اضلاع میں جہاں جہاں پہلے افغانستان کے ساتھ لنک روڈ موجود ہے، اسے ایکسپریس وے کے معیار کے مطابق بنا کر اور سی پیک روٹ کے ساتھ ملا کر تیسرا کوریڈور بنایا جائے۔

چترال دیر موٹروے سے نہ صرف پورا ملاکنڈ ڈویژن باہم مربوط ہو جائے گا اور آمدورفت میں انتہائی آسانی آجائے گی بلکہ چین، افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ منسلک ہوکر سٹریٹیجک فوائد کے ساتھ معاشی ترقی کے دروازے بھی کھل جائیں گے۔

آل پارٹیز کانفرنس پوری زمہ داری اور اخلاص کے ساتھ حکومت اور یہاں کے ممبران اسمبلی کو پیشکش کرتی ہے کہ اس علاقے کی تعمیر وترقی کےلیے ہم ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔
مروجہ سیاسی نفسیات کے مطابق تو ہمیں خاموش رہنا چاہیے تھا تاکہ الیکشن کے وقت حکومت اور ممبران اسمبلی کی ناکامیوں، کوتاہیوں اور غلطیوں کو لیکر الیکشن مہم چلاتے لیکن اپنے علاقے کی ترقی اور آئندہ نسلوں کی بقا اور خوشحالی کی خاطر سیاسی اور پارٹی وابستگی اور کسی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے موجودہ حکومت کو متوجہ کرتے ہیں اور ممبران اسمبلی کو احساس دلا کر تعاون کا بھرپور یقین دلاتے ہیں کہ وہ باہمی اتفاق کے ساتھ اس علاقے کا حق دلانے کی ہمت اور جدوجہد کا حصہ بنیں۔

آل پارٹیز کانفرنس مکمل اتفاق رائے کے ساتھ یہ واضح کرتی ہے کہ کسی عام شاہراہ کی تعمیر ہرگز ہرگز سی پیک روٹ کا متبادل نہیں بن سکتی، اس لیے ہمارا اول و آخر مطالبہ چکدرہ، چترال، گلگت موٹروے کی صورت میں سی پیک متبادل روٹ کی تعمیر ہی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں