تہلکہ۔۔۔۔دِل دہلا دینے والے حقائق

حال ہی میں اقوامِ متحدہ نے پاکستان کے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بڑے دِل دہلا دینے والے حقائق کو اعداد و شمار کی روشنی میں شائع کیا گیا ہے ۔ پاکستان کی قومی و انسانی ترقی سے متعلق “ یو این ڈی پی” کی رپورٹ کہتی ہے کہ اس کے سالانہ ملکی یا قومی بجٹ میں سے اندازً 17 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالرز طاقتور و خوشحال اشرافیہ مالی مراعات یا عرفِ عام میں لٹروں پٹروں کی مد میں اُڑا دیتی ہے ۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس مجموعی اشرافیہ کی ماہانہ تنخواہیں ان مراعات کے علاوہ ہیں جنہیں اگر ساتھ ملا لیا جائے تو اعداد و شمار کئی گنا بڑھ جاتے ہیں ۔ یہ 17 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالرز سالانہ عیاشیوں میں اُڑانے والی ایلیٹ یا اشرافیہ میں بڑے کاروباری گورو ، اپنے خون پسینے کی کمائی پے عیاشیاں کرنے والے نسلی جائیدادی و جاگیر دار ، عوامی خدمت کے نام پے بال سفید کرنے والے نسلی و موروثی سیاست دان اور سب سے بڑھ کے سرحدوں پے ہمہ وقت چوکس و چوکنا رہنے ، سیاچن و کارگل کے خون جما دینے والے منفی درجہ حرارت میں پہرہ دینے والے فوجی سپاہی نہیں بلکہ اعلیٰ فوجی طبقہ برابر کا حصہ دار ہے ۔
بات محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتی بلکہ جب یہ نیچے تک پہنچتی ہے تو شیر خواروں سے دودھ ، بچوں سے خوراک اور تعلیم جیسا بنیادی حق تک چھین لیتی ہے ۔ اسی طرح کی ایک اور رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان میں 2 اعشاریہ 5 ملین یعنی 25 لاکھ بچے ایسے ہیں جو ابھی تک بلوغت تک نہیں پہنچے مگر اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کیلیے محنت مزدوری کرنے پے مجبور ہیں سکول جانا تو دور کی بات ۔ آگے کی تصویر اس سے بھی زیادہ دھندلا اور دہلا دینے والی ہے : اس وقت پاکستان آبادی کے لحاظ سے چین ، انڈیا ، امریکہ اور انڈونیشیا کے بعد پانچواں بڑا ملک ہے ۔ مگر پاکستان کی آبادی پہلے والے چار ممالک کی سالانہ آبادی کی نسبت زیادہ تیزی یعنی 2.4 فیصد سالانہ کے تناسب سے بڑھ رہی ہے ۔اور اگر یہ اسی طرح بڑھتی رہی تو چند سالوں میں یہ امریکہ اور انڈونیشیا کے بعد دنیا کے تیسرے نمبر پے آ جائے گی ۔
موجودہ دور میں آبادی زیادہ ہونا اتنا بڑا مسلہ نہیں رہا کیونکہ جن ملکوں نے اپنی آبادی کو قیمتی اثاثہ یا انمول ہیومن ریسورس سمجھ کر تعلیم و تربیت کی ، بہتر راہنمائی کی تو وہ دنیا کو ہر میدان میں ضرور لیڈ کر رہے ہیں کیونکہ تعلیم و تربیت یافتہ اور ہنر مند انسانی آبادی کا کوئی متبادل نہیں ۔ لیکن جب ایک مخصوص طبقہ اسی طرح اربوں ڈالرز اپنی عیاشیوں پے اُڑائے گا تو نہ صرف نومولود دودھ سے ، بچے تعلیم سے محروم رہیں گے بلکہ ایسے ہی ڈنڈا اور بندوق بردار پیدا ہونگے جو اپنی ہی ریاست کی رٹ کیلیے چیلنج یا دردِ سر ثابت ہونگے ۔ نتیجتاً ہمیں ایسا ہی کچھ دیکھائی اور سنائی دے گا جو ہو رہا ہے ۔
بدقسمی سے یہ وہ ماں ہے جو باغ میں اتفاق یا اپنی ہی قسمت سے پل بڑھ کے جوان ہونے والے خوبصورت درختوں کو پالنے پوسنے کا کریڈ تو لیتی ہے لیکن موسم کی سختیوں ، آندھیوں اور ہواؤں کے مارے ،ستائے اور ضائع ہونے والے بے گناہ درختوں کی بربادی کا ذمہ لینے کو تیار نہیں ۔ ایسے حالات میں بیچارے عمران کی تبدیلی کو کون پسند کرے ؟؟؟ تحریر: نسیم شاہد

اپنا تبصرہ بھیجیں