کرکٹ کا غلامی سے رشتہ

کرکٹ کا غلامی سے رشتہ:

کیا کبھی آپ نے یہ سوچا کہ کرکٹ دنیا کے 195 ملکوں میں سے صرف دس ملکوں میں ہی کیوں پاپولر ہے؟
اگر آپ تھوڑا سوچیں گے تو آپ کو پتا چل جائے گا۔ کہ کیونکہ ویسٹ انڈیز کی تمام ریاستیں؛ آسٹریلیا، نیوزیلینڈ، انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، ساٶتھ افریقہ اور سری لنکا برطانیہ کی کالونیاں تھیں۔ یہاں کے لوگ ان کے غلام تھے اس لئے جب انگریزوں نے ان ملکوں میں کرکٹ کھیلنا شروع کی تو ان ملکوں کے لوگوں کو بھی لگا کہ ہمارے آقا یہ کھیل کھیلتے ہیں تو ہم بھی کھیلیں کیونکہ غلاموں کی نظر میں آقا جو بھی کام کریں وہ اعلی ہوتا ہے۔
ان ملکوں کے جو آزادی پسند لوگ انگریزوں کی غلامی اور ان کے اس کھیل سے نفرت کرتے تھے انھیں بھی زبردستی یا باعث مجبوری یہ کھیل کھیلنا پڑا جیسا کہ آپ ہندی فلم ” لگان” میں دیکھ سکتے ہیں۔
برطانیہ کی یورپ اور باقی دنیا میں اور بھی بہت ساری کالونیاں تھیں لیکن ان کے عوام نے اس فضول ٹائم کنزیومنگ گیم کو کوئی اہمیت نہیں دی۔۔۔۔۔ آسٹریلیا ٍ ساٶتھ افریقہ’ ویسٹ انڈیز’ نیوزیلیڈ اور خود انگلینڈ نے بھی اس گیم کو ایک حد تک محدود رکھا۔ اور اس کی وجہ سے باقی کھیلوں کو ختم نہیں ہونے دیا۔ کرکٹ برطانیہ کا قومی کھیل ہے لیکن وہاں کرکٹ سے زیادہ فٹ بال مشہور ہے۔۔
اگر اولیمپک میں دیکھا جائے تو آسٹریلیا ، ویسٹ انڈیز، نیوزیلینڈ، ساٶتھ افریقہ اور انگلینڈ کی کارکردگی اچھی ہوتی ہے اور وہاں محض کرکٹ ورلڈ کپ جیت کے کوئی وزیراعظم نہیں بنتا۔ اس کھیل کو وہاں باقی کھیلوں سے کم نہ ہو تو زیادہ بھی اہمیت نہیں ہے۔
لیکن برصغیر کے لوگ آج تک اسی غلامی میں قید ہیں۔ کرکٹ کی وجہ سے بر صغیر کے لوگ اپنے قومی اور علا قائی کھیلوں کو بھول گے۔ اسی لئے فٹ بال یا اولمپکس میں ان ملکوں کا نام ڈھوڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اگر کوئی انڈیویجل کسی اور گیم میں گولڈ میڈل بھی لے لے تو اس کو ایک عام سے کرکٹر جتنی عزت نہیں ملتی۔ بر صغیر کے کسی بچے سے بھی پوچھو اس کے زہن میں پہلا کھیل کرکٹ ہی ہو گا حالانکہ دنیا کے 185 ملکوں کے لوگوں کو پتا بھی نہیں کہ یہ بھی کوئی کھیل ہوتا ہے ۔
اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے برطانیہ سے آزادی تو لے لی لیکن ابھی تک ہم زہنی طور پر غلام ہیں۔ اگر ہم 70 سال بعد بھی زہنی طور پر انگریزوں کے غلام ہیں تو کیسے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں اور اس نظام سے آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔ ذرا سوچئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں