پاکستان ٹوٹ گیا ۔۔۔۔ تحریر: رفعت رشید عباسی

اور اتنے بڑے سانحے کا بس ایک سبب بتایا اور سمجھایا جاتا ہے کہ ’بنگالی غدار تھے جو بھارت سے مل گے‘
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ
اپنی تاسیسی بنیادوں سے ہٹنے اور غیر منصفانہ سوچ و عمل نے ناراضگی و تلخی کو جنم دیا اور ہماری ہی نااہلی سے یہ غصے میں بدلی اور پھر غرور و تکبر نے اسے بغاوت میں ڈھلنے کا موقعہ فراہم کیا

بغاوت کے جذبات محرومیوں کے بیج سے جنم لیتے ہیں ظلم کی کھاد اور ناانصافی کی گوڈی سے نمو پاتے ہیں اور تذلیل کی تپش سے تیار ہو کر نٖفرت کا پھل دیتے ہیں۔

اب ہم تعصب کی عینک کی جگہ انصاف کا چشمہ پہن کر خود ہی دیکھیں کہ ان میں سے کون کون سی ضروریات ہم نے خود پوری کی۔

اپنے ہاتھوں فراہم کردہ ان تمام وسائل و اسباب سے آنکھیں چرا کر صرف ایک ’سازش‘ کو ہی واحد سبب قرار دینا خود فریبی ہے۔ سازش رچانے اور اسے کامیابی کے درجے تک پہنچانے کوجو وسائل درکار تھے وہ ہم نے اپنے ہاتھوں فراہم کیے۔

ہمارے درمیان صرف اور صرف ایک ہی رشتہ تھا نظریے کا جس کی ڈور سے یہ دونوں اکائیاں باہم مضبوط رشتے میں بندھی ہوئی تھی
لیکن
بدقسمتی سے اسے ہم نے اپنے ہاتھوں کاٹ پھینکا
اور پھر جب نظریہ ہی نہ رہا
تو پھر ایثار کی خوبصورت روایت کی جگہ مٖفادات کی کھنچا تانی نے لی اور ایسے میں
لادینیت ،ناعاقبت اندیش قیادت، ظالمانہ نظام، عدم مساوات، متکبرانہ ذہنیت کی موجودگی نے
دشمن کا کام بہت ہی آساں کر دیا اور اسے بہت کم محنت کرنا پڑی پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنی دیرینہ خواہش پوری کرنے کے لیے-

کہانیاں بنانے سنانے اور ملبہ کسی اور کے سر ڈال کر خود کو معصوم ثابت کرنے کا یہ طرز عمل اب بدلنا چاہیے۔
جرات سے خود احتسابی کا راستہ اختیار کریں اور جو غلط ہوا اس کا برملا اعتراف کریں
اسی صورت آئندہ ایسے کسی حادثے سے بچا جا سکتا ہے۔
حقائق کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہو گا۔
باہر والے تب ہی کامیاب ہوتے ہیں جب اندر والےان کے لیے راستہ بناتے ہیں ۔ اندر والوں کا اتحاد منصفانہ نظام حق کے قیام کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

نظریے کو طاقت بنائیں ورنہ بندوق کی طاقت بھی بے بس ہو جایا کرتی ہے۔

اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے

اپنا تبصرہ بھیجیں