تہلکہ۔۔کورونا کنٹرول یا زمینی خدائی کی جنگ۔۔تحریر: نسیم شاہد

کورونا جب چین کے صوبے ہوبائی کے شہر ووہان کے اہسپتالوں ، گلیوں اور سڑکوں پے موت کی صورت میں محوِ رقص ہوا تو سوشلسٹ چینی اِس بہادری سے اس کے مقابلے میں جت گئے کہ تماشہ دیکھتی دنیا عش عش کر اُٹھی ۔ لیکن ساتھ ہی اپنے پیشگی سفارتی دفاع کیلیے سرکاری طور پے اسے یہ کہہ کر عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مائی باپ ،امریکہ ، کے متھے مارنے کی کوشش کی کہ یہ ٹریننگ کی غرض سے ہوبائی ( ووہان) آنے والے امریکی فوجیوں کا باقاعدہ سوچا سمجھا حیاتیاتی وار ہے ۔ لیکن وہ اپنے اس الزام کے دفاع میں کوئی معقول دلائل اور شواہد پیش نہ کر سکے تاکہ دنیا یقین کر لیتی کہ واقعی ایسا ہی ہے ۔ یہ دراصل حقیقت سے زیادہ سفارتی “دوسرا “ تھا جس کا مقصد کسی مخالفانہ “سفارتی “ حملے کی پیشگی جوابی پیش بندی تھی جس کا انہیں وسیع تجربہ ہے اور وہی ہوا ۔ پھرجب کورونا وہاں سے نکل کر امریکی سرمایہ دارانہ نظام کے بغل بچے ، یورپ ، کے انسانی ترقی و ترویج کے بلند و بانگ دعوؤں کو ٹھیس کرتا ہوا ، انسانی لاشوں کے ڈھیروں کی صورت میں تباہی و بربادی پھیلاتا ہوا عالمی سرمایہ دارانہ / اجارہ دارانہ نظام کے غرور و تکبر کے طرہِ امتیاز “نیویارک” میں موت کی صورت میں محو رقص ہوا تو زمینی خدائی کے دعویدار ڈونلڈ ٹرمپ کے پسینے چھوٹ گئے ، اور انہوں نے کنفیوژن اور حواس باختگی کے عالم میں اسے چینی سائنسی لیبارٹریز میں تیار کردہ دنیا کے اوپر دانستہ حیاتیاتی حملہ قرار دیا ۔ چین کی طرح اُن کے پاس بھی اپنے اس الزام یا تھیوری کو سچ ثابت کرنے کیلیے کوئی معقول ثبوت ، دلائل یا شواہد نہیں تھے جس بنیاد پے وہ چین کو سخت نتائج سیکھانے کیلیے دنیا کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ۔ بہرحال صدر ٹرمپ اب بھی اپنے اس الزام پے ڈٹے ہوئے ہیں ۔ جسے اُن کے اپنے ہی ایک معتبر ادارے ، “ نیشنل انٹیلیجنس” کے ڈائریکٹر نے سرکاری طور پے سائنسی ثبوتوں کے ساتھ یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دو ہی سبب ہو سکتے ہیں ۔ یا تو یہ کورونا سے متاثرہ جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہوا ہے یا پھر یہ ووہان کی کسی لیبارٹری میں کسی حادثے کی صورت میں پھیلا ہے ۔ لیکن اس الزام یا تھیوری میں رتی بھر صداقت نہیں کہ یہ کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ووہان (چین ) کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا ، دانستہ طور پے پھیلایا گیا وائرس ہے ۔
کورونائی موت و حیات کا یہ اندوہ ناک رقص ہر جاہ قابلِ افسوس ہے لیکن نیویارک کی گلیوں ، سڑکوں اور اہسپتالوں میں یہ قابلِ افسوس ہونے کے ساتھ ساتھ قابلِ دید بھی ہے ۔ کیونکہ امریکی سرمایہ دارانہ اور اجارادارانہ تھانیداری اور تابعداری میں پلنے اور چلنے والی دنیا عالمی اور علاقائی جنگوں کیلیے کمر کسے ہمہ وقت تیار رہتی ہے ۔ جس کیلیے جدید جنگی ساز و سامان کی تیاری دنیا کا سب سے بڑا کاروبار اور پھر ڈیمانڈ اور سپلائی کی صورت میں اُس کی کھپت کیلیے دنیا کے کسی بھی خطے میں جنگی ماحول بنانا اور معصوم دنیا کو جنگوں کے ذریعے زندگیوں جیسی نعمت سے محروم کرنا اُس سے بھی بڑا کاروبار رہا ہے ۔ کورونا کی تباہی اور بربادی اپنی جگہ لیکن اس نے دنیا کو یہ آئینہ ضرور دیکھایا ہے ۔ کہ آخر کیا وجہ ہے کہ چین جہاں سے اس وباء کا آغاز اور پھیلاؤ ہوا ہے وہ کم سے کم وقت اور اموات کے ساتھ اسے کنٹرول کر کے پوری دنیا کی مدد کیلیے پہنچ گیا لیکن معاشی اور فوجی لحاظ سے زمینی خدائی کا دعویدار امریکہ بے بسی کی تصویر بن کے رہ گیا ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ دنیا کا مہنگا اور مہلک ترین جنگی اسلحہ بنانے اور بیچنے والا امریکہ خود مدد کیلیے پکارتا رہ گیا ۔ لیکن ماؤں کو تنگ کرنے والے بچوں کو بہلانے ، پھسلانے کیلیے کھلونے تیار کرنے والا چین آسمان سے کسی معجزے کیلیے دُعا گو اور منتظر دنیا کے ساتھ ساتھ از خود امریکہ کیلیے آخری اُمید بن کے رہ گیا ۔ اور خود کورونا کو کنٹرول کر کے پوری دنیا کی مدد کیلیے پہنچ گیا۔
یہی عالمی / امریکی سرمایہ دارانہ نظام ورلڈ بینک اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن جیسے جن بین الاقوامی ہالی موالی اداروں کو پالتا رہا ،کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کرتا رہا ۔ لیکن عین وقت پے جب وہ ناکام اور ناکافی بلکہ غیر ضروری ثابت ہوئے تو عالمی سرمایہ دارانہ نظام صدر ٹرمپ کی زبان میں غراتے ہوئے ان پے ایسے برس پڑا ، جیسے کوئی آجر اجیر پے یا آقا غلام پے برس پڑتا ہے ۔لیکن چین یہاں بھی ان اداروں کی متبادل مالی مدد اور سہارا دینے کیلیے میدان میں آ گیا ۔ اس کورونا نے ایک اور حقیقت دنیا کے سامنے آشکار کر کے رکھ دی ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام ریاستوں کی مضبوطی کی بجائے سرمایہ داروں اور دولت مندوں کو پالتا اور مضبوط کرتا رہا ، انہی کے سہارے دنیا پے راج کرتا رہا ۔لیکن عین وقت پے یہ سرمایہ دار اور دولت مند اپنا اپنا سرمایہ اپنا قانونی حق سمجھ کے اپنے اپنے کھاتوں میں سنبھال/ چھپا کے بیٹھے رہے ۔ جبکہ ریاستیں ، جن کی قیمت پے ان سرمایہ داروں کو پالا پوسا جاتا رہا ، بیکاریوں کی طرح بے بسی کی تصویر ، بارشوں میں ٹپکتے چھتوں تلے مکینوں کی طرح سہمی ہوئی پائی گئیں ۔
کورونا جلد یا بدیر اپنی تمام تر حشر سامانیوں ، تباہی و بربادی کے ساتھ ختم ہو ہی جائے گا ۔ دنیا جب معاشی اور سماجی لاک ڈاؤن ، اجتماعی انسانی ماتمی غم و اندوہ سے دوبارہ اُٹھے گی تو انسان ، روئے زمین ، سرحدیں ، سپرسانک اور بین الابراعظمی بمز اور میزائلز ، جدید ترین جنگی اسلحہ ، فوجیں الغرض سب کچھ یہی ہو گا لیکن انسانی سوچیں ، رویے اور انداز بدل چکے ہونگے ۔ جب نئے نئے نصاب تیار ہونگے ، مقالے لکھے جائیں گے ، ذہنی تخلیقیں ہونگی تو وہ کسی عالمی ، خلیجی ، افریقی جنگ یا 9/11 سانحے کے اثرات کے سائے تلے نہیں بلکہ کورونا کے آگے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی اور بے بسی کے زیرِ سایہ ہونگی ۔ کیونکہ اگر کورونا کی جگہ عالمی جنگ ہوتی تو لامحالہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام امریکہ بہادر کی سرکردگی میں اُس میں فاتح قرار پاتا ۔ لیکن چونکہ یہ قدرتی وباء ہے جو اسلحے سے نہیں بلکہ طبی ساز و سامان اور مضبوط معاشی ریاستی ڈھانچوں سےلڑی جا رہی ہے ۔ اور اس نے جب دنیا کو چین کی طرف دیکھنے اور پکارنے پے مجبور کیا تو وہ فاتح بن کر اُبھرا ۔
عالمی سیاست اور دنیاوی مستقبل پے باریک نظر رکھنے والے شہرہِ آفاق دانشوروں نوم چومسکی اور فرید زکریا نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کے آگے دنیا کی بے بسی کا ذمہ دار موجودہ سرمایہ دارانہ نظام ہے اور نئی دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کو راج کرنے کی بجائے اپنی بقاء کے لالے پڑے رہیں گے ۔
شاہد کورونا کے بعد کی دنیا میں چین طرز کا موجودہ سوشلسٹ معاشی نظام جلد حاوی نہ ہو سکے کیونکہ وہ از خود خالص شکل میں نہیں بلکہ سوشلسٹ اور سرمایہ دارانہ نظاموں کی ایک ایسی شکل ہے ۔ جو جب سوشلسٹ معاشی دنیا کے ساتھ تجارت یا لین کرتا ہے تو تب یہ سوشلسٹ ہو جاتا ہے اور جب سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے ساتھ تجارت یا لین دین کرتا ہے تو یہ اُسی کے رنگ میں رنگ جاتا ہے ۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ اس عالمی سانحے اور امتحان میں ناکامی کے بعد سرمایہ دارانہ نظام اپنی موجودہ شکل ہرگز برقرار نہیں رکھ پائے گا۔ ماضی میں انسانی جنگوں کے عالمی میدانوں میں ہار جیت کے بعد ابھرنے والا نیو ورلڈ آرڈر اب قدرتی وباء کورونا کے اثرات کے نتیجے میں ہی تشکیل پائے گا ۔ اب کے بعد کی دنیا کے ذہنوں پے ٹینکوں ، میزائلوں اور بموں کی تباہ کاریوں کی بجائے اَن دیکھے قدرتی کورونے کے آگے ونٹی لیٹروں ، ماسکوں ، کورونا کِٹوں اور دوائی کیلیے روتی بلکتی دنیا کی بے بسی ، آہ و پکار کے اثرات و سائے چھائے رہیں گے ۔ اور یہی نیو ورلڈ آرڈر کا تعین کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں