ایل او سی پر بھارتی جارحیت

آزادکشمیر بالخوص ضلع باغ سے ملحقہ ایل او سی پہ بسنے والے عوام نصف صدی سے بھارتی جارحیت کا شکار ہیں اور نہایت مشکل زندگی گزارنے پہ مجبور ہیی بھارتی جارحیت اور مسلسل فائرنگ سے ہزاروں افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیی سینکڑوں مکانات تباہ و برباد ہوگئے لیکن بھارت اپنے اوچھتے ہتھنکنڈوں سے باز نہ آیا
مقبوضہ جموں وکشمیر میں نو لاکھ سے زاہد مسلح افواج نہتے کشمیریوں پہ ظلم وستم کر رہی ہے کشمیری خواتین کی عصمت دری اور اغواہ معمول بن گیا مگر افسوس عالمی برادری سمیت انسانی حقوق کے علمبردار بھی خاموش تماشاہی بنے ہوے ہیں بھارت کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا ہے ایک سال ایک ماہ سے لاک ڈوان کرفیو اور ہر بنیادی سہولیات ختم ہیں مگر پھر بھی کسی کے کانوں سے جوں نہیں رینگی افسوس صد افسوس بھارت ایل او سی پر مسلسل فائرنگ کرکے اٍس پار کے بھی نہتے کشمیریوں کو شہید اور زخمی کررہا ہے انکی املاک کو نقصان پہنچا رہا ہے
ایل او سی سہڑا کےمقام پر گزشتہ روز بھارتی فوج کی طرف سے سول آبادی پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرکے ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا جسکی وجہ سے گولے لگنے سے مالی نقصان ہوا
بھارت جس طرح سول آبادی کو نشانہ بنارہا ہے یہ ایک غیر اعلانیہ جنگ ہے جسکی شدید مذمت کرتے ہوے
عالمی برادری اورانسانی حقوق کے علمبردار اداروں سے اپیل ہے کہ وہ بھارتی جارحیت اور سفاکیت کا نوٹس لے اور ایل او سی کے قرب وجوار میی مقیم افراد کی جان و مال کا تحفظ فراہم کرے اقوام متحدہ بھارت پہ زور دے اور ایل او سی پہ بلا جواز فائرنگ بند کرواہی جائے۔

تحریر: خان طیب درانی

اپنا تبصرہ بھیجیں