ریاست پونچھ کے دو قابل فخر سپوت۔۔۔۔ تحریر: سردار محمد حلیم خان

11 نومبر بابائے پونچھ کی برسی بھی ہے اور فاتح راولاکوٹ کیپٹین حسین خان شہید کا یوم شہادت بھی۔آزاد کشمیر کی تاریخ ان دو عظیم محسنوں کے تذکرے کے بغیر نا مکمل ہے۔ہر دو کا میدان عمل مخلتف تھا ۔خیالات بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے لیکن ریاست کے عوام پر دونوں کا بے پناہ احسان ہے۔بابائے پونچھ خان محمد خان ریاست پونچھ کے بہت بڑے سماجی رہنما اور مصلح تھے۔انھوں نے ریاست پونچھ کے عوام میں پائی جانے والی سماجی خرابیوں اور ہندوانہ رسم ورواج کے خلاف ریاست پھر میں بھرپور مہم چلائی اس مقصد کے لیے آپ نے مختلف دیہات کے دورے کیے۔دورے کے دوران خان صاحب لوگوں کو نماز پڑھنے کی تلقین کرتے علم حاصل کرنے پر زور دیتے اور ان رسم ورواج کو ترک کرنے کا وعدہ لیتے جن کی وجہ سے مسلمان زیر بار ہوکر ہمیشہ کے لیے ہندو ساہو کاروں کے غلام بن جاتے ۔ہندو ساہو کار قرض کے عوض مسلمانوں کو سود درد سود کے بندھن میں جکڑ لیتے اور ان بالآخر ان کی ساری جائیداد ہتھیا لیتے۔ہندو ساہوکاروں کا پہلا جال نسوار تھا۔خان صاحب نسوار کے خلاف بھرپور مہم چلائی ان کا معمول یہ تھا کہ دورے کے دوران اپنی تقریر کے بعد لوگوں کو موقع پر ہی نسوار کی ڈبیاں پھینکنے کا حکم دیتے آپ کا اخلاص اور احترام ایسا تھا کہ شرکاء بلا چوں چراں نسوار کی ڈبیاں جیب سے نکال کر پھینک دیتے اور ہمیشہ کے لیے نسوار سے تائب ہو جاتے۔چنانچہ اسی باعث وہ لوک گیتوں کا موضوع بن گئے۔ایک گیت کا یہ شعر بہت مشہور ہوا اور سینہ بہ سینہ ہم تک بھی پہنچا
چھےچھنے دا صوبیدار میاں جس
جس چھڑائی اساں نسوار میاں
خان صاحب ریاست پونچھ کی مردم خیز دھرتی پلندری چھے چھن میں 1882 میں پیدا ہوے ۔اس وقت تک مسلمانوں کو فوج میں کمیشن نہیں ملتا تھا ۔آپ اپنی صلاحیت کی بنیاد پر صوبیدار بنے 47 کے جہاد کشمیر میں آپ کی جنگی مہارت اور قائدانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر آپ کواعزازی کرنل کی ذمہ داری دی گئی۔فوج سے فراغت کے بعد انھوں نے مسلمانوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی کیوں کہ ریاست پونچھ کے مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے تھے۔اس مقصد کے لیے آپ نے سدھن ایجوکیشنل کانفرنس قائم کی۔جو ریاست جموں و کشمیر کی پہلی تعلیمی این جی او ہے۔اس ادارے کی آمدن کے لیے مٹھی آٹا اسکیم کا اجراء کیا۔ادارے نے تعلیمی سکالرشپس کا سلسلہ شروع کیا اور قوم کو بے شمار ہیرے عطا کیے جن میں غازی ملت سرداد محمد ابراہیم خان بھی شامل ہیں۔ریاست جموں و کشمیر میں انگریزوں کے دباو پر مہاراجہ نے پرجا سبھا قائم کی تو خان صاحب باغ اور سدھنوتی پر مشتمل حلقے سے مسلسل دو مرتبہ ممبر اسمبلی منتخب ہوے ریاست کے آخری الیکشن میں بھی عوام نے آپ ہی کو اسمبلی میں بھیجنے پر اصرار کیا لیکن آپ نے وہ مثال قائم کی جس کی نظیر صغیر میں بہت کم ملتی ہے آپ نے لوگوں سے کہا میں آپ کو زیادہ پڑھی لکھی قیادت کے حوالے کرتا ہوں۔اس طرح آپ نے بیرسٹر سردار ابراہیم خان صاحب کو عوام کے سامنے پیش کیا۔سردار ابراہیم نوجوان اور غیر متعارف تھے روایت ہے کہ ایک بار بھرے جلسہ عام میں خان صاحب نے نوجوان سردار ابراہیم کے جوتوں کے تسمے باندھے تاکہ لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ خان صاحب جس آدمی کو اتنی عزت دے رہے ہیں وہی قوم کی قیادت کے اہل ہے۔یوں اپنی اولاد کی بجائے میرٹ پر حلقے کے سب سے پڑھے لکھے نوجوان کو قیادت سونپنے کا انوکھا اقدام کیا ان کا یہ اقدام درست ثابت ہوا اور ان کا متعارف کروایا ہوا نوجوان آگے چل کر آزاد کشمیر کا بانی بنا۔
کیپٹن حسین خان کی برطانوی فوج میں مختلف محاذوں پر بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرنے اور لا تعداد میڈل اپنے نام کرنے کے اپنے آبائی گھر حسین کوٹ(تب کالا کوٹ) میں ہی تھے لیکن سیاسی درجہ حرارت کے عروج کے ان ایام میں بھی سیاسی سر گرمیوں سے دور رہتے تھے۔اس دوران مہاراجہ کے راولاکوٹ دورے کے دوران اس کو فوجی وردیوں میں سلامی دینے کے خان صاحب کے فیصلے سے ان کو اختلاف تھا۔سلامی کا مقصد مہاراجہ کو پیغام دینا تھا لیکن کیپٹن صاحب مہاراجہ کو سلامی دینا مسلمان سابق فوجیوں کی توہین سمجھتے تھے۔وہ لوگوں سے بہت کم میل جول رکھتے تھے آزادی کشمیر کے لیے ان کے ذہن میں ایک منصوبہ موجود تھا۔اس کا اظہار ان کی اس دھمکی سے ہوتا ہے جو انھوں نے وزیر پونچھ بھیم سنگھ کی موجودگی میں دی۔ہوا یہ کہ جب مہاراجہ نے راولاکوٹ میں اتنی بڑی تعداد میں سابقہ فوجی دیکھے تو وہ خوف زدہ ہو گیا۔واپس جاکر اس نے اس قوت کو توڑنے اور ان سے نمٹنے کے لیے ایک طرف تو گرفتاریوں اور ہر قسم کا اسلحہ جمع کرنے کے احکامات دیے تو دوسری طرف انتظامیہ کو موثر افراد کو ساتھ ملانے کا ٹاسک دیا۔بھیم سنگھ وزیر پونچھ کو اس مقصد کے لیے خاص طور پر دورے پر بھیجا ۔وزیر پونچھ نے کیپٹن حسین خان کو بھی ملاقات کے لیے بلانے کا حکم دیا۔تھانیدار نے کیپٹن حسین خان کو خط لکھا تو انھوں نے سختی سے انکار کر دیا۔پولیس افسر کو نوکری کے لالے پڑ گے اس کے علاقے دھیرکوٹ سے کچھ معززین نے حسین خان سے التجا کی کہ اگر آپ میٹنگ میں نہیں جائیں گے تو ہمارے بیٹے کو نوکری سے فارغ کر دیا جائے گا۔یہ سن کر کیپٹن حسین خان نے میٹنگ میں آنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔میٹنگ والے دن کیپٹین حسین خان میٹنگ میں آگئے ۔ وزیر پونچھ شرکاء کو عوامی تحریک پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ترغیب و تحریص دینے لگا۔بڑی بڑی پیشکشیں ہوئیں لیکن پوری میٹنگ کے دوران کیپٹن حسین خان خاموش رہے۔بھیم سنگھ نے اصرار کیا آپ بھی کچھ بولیں پاکستان کے حق میں اٹھنے والی اس تحریک پر کیسے قابو پایا جائے۔کیپٹن صاحب نے درشت لہجے میں مختصر بات کی۔”یہ سیاسی لوگ جلسوں جلوسوں میں جو مطالبہ کر رہے ہیں یہ مان لو ورنہ جنگ ہو گی”بس اتنا کہا اور محفل سے اٹھ کر اپنی گھوڑی پر بیٹھے اور یہ جا وہ جا۔
اس جواب اور اس طرز عمل کو ڈوگرہ حکمرانوں اور انتظامیہ نے بغاوت اور گستاخی پر محمول کیا اور کیپٹین صاحب پر مقدمہ درج کر کے گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے۔
دوسری طرف کیپٹن حسین خان کو میٹنگ میں ہونے والی ڈوگرہ حکمرانوں کی گفتگو سے یہ اندازہ لگا نے میں ذرا دیر نہ لگی کہ ڈوگرہ حکمران عوام کے خون سے ہولی کھیلنے پر تلے ہوے ہیں ۔آپ نے کل جمع پونجی جو پینشن کی صورت میں ملی تھی۔اس کے علاوہ اپنی بیوی کا زیور رومال میں باندھا اور یہ قسم کھا کر گھر سے نکل کھڑے ہوے کہ ڈوگروں سے ریاست کو پاک کیے بغیر گھر سے پکا ہوا کھانا نہیں کھاوں گا۔قبائلی علاقے میں پہنچے جتنا کچھ ان کے پاس تھا اس سے اسلحہ خریدا اور میرال گلہ کے مقام پر ٹریننگ کیمپ اور جنگی ہیڈکوارٹر قائم کر لیا۔ آپ نے تین نومبر کو راولاکوٹ میں ڈوگرہ فوجی مرکز پر حملہ کر کے ڈوگرہ فوج کا محاصرہ کر لیا یہ محاصرہ ایک ہفتے تک جاری رہا۔9 نومبر کی رات ڈوگرہ فوجی شکست کھا کر تولی پیر کے راستے پونچھ شہر کی طرف بھاگ کھڑے ہوے اور موجودہ شہید گلہ کے مقام پر پوزیشنیں سنبھال لیں۔یہاں باغ سے بھاگ کر آنے والے فوجی بھی ان سے مل گئے اور دو بدو لڑائی شروع ہو گئی۔اسی اثناء میں ایک گولی کیپٹن حسین خان شہید کے جسم سے پار ہو گئی جام شہادت پینے سے قبل آپ نے مجاہدین کو نصیحت کی کہ ڈوگرہ فوجیوں کو پونچھ شہر نہ پہنچنے دینا اور اس سے قبل ختم کر دینا۔اس کے ساتھ ہی اہل کشمیر اس بہادر سپوت سے محروم ہو گئے۔کیپٹن حسین خان زندہ رہتے تو کشمیر کی تاریخ مختلف ہوتی پونچھ شہر تو یقینی طور پہ دشمن کے قبضے میں نہ ہوتا۔
اللہ ریاست پونچھ کے ان دونوں عظیم سپوتوں کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں