بیگم شمشاد عزیز صاحبہ کی تھوراڑکے لیے خدمات

بیگم شمشاد عزیز صاحبہ تھوراڑ کی مقامی رہنے والی ہیں ان کا نہنیال رہاڑہ میں ہے کرنل تصدق اور میجر مہتاب ان کے حقیقی ماموں ہیں بیگم شمشاد عزیز کی شادی پلندری کے گاؤں افضل آباد کے ایک عزیز نامی شخص سے ہوئی جو بعد میں ایک بڑی شخصیت بنے انہوں نے 1964 میں فوج میں کمیشن حاصل کیا ترقی کرتے کرتے آزاد کشمیر کے پہلے فور سٹار جنرل بنے 40 یا 41 سال فوج میں اپنی خدمات سر انجام دینے کے بعد 2005 میں جب ریٹائر ہوئے تو اس وقت چیئرمین جائنٹ چیف آف اسٹاف تھے بیگم شمشاد عزیز غریب پرور سیاسی و سماجی رفاعی اور اجتماعی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی خاتون ہیں آپ سد ھن ایجوکیشن خواتین ونگ کی چیئرپرسن بھی تین سال یا پانچ سال تک رہی ہیں آپ نے ایک ٹرسٹ بھی ماں کے نام سے قائم کیا ہوا ہے جس سے آپ غریب اور نادار لوگوں کی مدد بھی کرتی ہیں اس ٹرسٹ کے لیے آپ کے اپنے گھر کی فیملی اور قریبی رشتے دار ہی ڈونیشن دیتے ہیں آپ اس ٹرسٹ کے لئے عام پبلک سے ڈونیشن کی اپیل نہیں کرتی ہیں آپ ہی کی کاوشوں سے سن 2000 میں یا 2001 میں بیت المال کے زیر اہتمام ایک دستکاری کا سکول تھوراڑ بھالگراں کے مقام پر ‏عرصہ تقریبا دو یا تین سال تک قائم رہا اور علاقے کی خواتین اور بچیوں نے دستکاری کا کام سیکھا جب آپ اس دستکاری سکول کا افتتاح کرنے کے لیے بھالگراں کے مقام پر آئیں تو اس وقت یہ روڈ کچی تھی آپ کے ساتھ ایک حاضر سروس برگیڈیئر بھی آپ کے ہمراہ تھے جو ان دستگاری سکولوں کے آزاد کشمیر میں سربراہ تھے بھالگراں کے بعد دستکاری کا سکول تھوراڑ اندروٹ میں بھی عرصہ تین سال یا اس سے زیادہ عرصے تک قائم رہا اس وقت بھالگراں کے لوگوں نے آپ سے کہا اس روڈ کی پختگی اور شارع کشمیر تک لنک کروانے میں آپ کوشش کریں اور ایک وفد بھی مرحوم سردار روشن خان کی قیادت میں مرحوم سردار عزیزایڈووکیٹ اور تھوراڑ بھالگراں کے بہت سارے لوگوں نے وفد میں شامل ہوکر جنرل عزیز صاحب سے بھی ملاقات کی اور روڈ کی پختگی کے حوالہ سے گفتگو ہوئی بیگم شمشاد عزیز صاحبہ کی ذاتی دلچسپی اور کاوشوں کی وجہ سے تھوراڑ بھالگراں روڈ کا شارع کشمیر تک 11کلو میٹر کا ورک آرڈر سن 2001 میں جاری ہوا مگر محکمہ تعمیرات کے پاس فنڈ کی کمی ہونے کی وجہ سے اس روڑ کو دو مرحلوں میں رکھا گیا پہلے مرحلہ میں ابتدائی 5.5 کلومیٹرروڑ تھوراڑ سے بھالگراں بازار تک 2001 میں پکی ہوئی اس سے آگے والے پورشن جو رہتا تھا اس کے لیے محکمہ تعمیرات نے کہا کہ آئندہ آنے والے سال میں اس کا ٹینڈر جاری کر دیا جائے گا مگر ٹینڈربھی جاری نہ ہوابھالگراں کے مقامی لوگ بھی آپس میں اختلافات کا شکار رہے کہ آگے روڑ کس سائیڈ کی طرف سے جانی چاہیے پھر یہ معاملہ کافی عرصے تک تعطل کا شکار رہا یہ ایک لمبی کہانی ہے مختصر کرتا ہوں بہر حال پروفیسر ظہور صاحب کی کاوشوں کی وجہ سے دوسرے پورشن کے لیے 2018 میں ٹینڈر جاری ہوا اور اب بھالگراں بازار سے شارع کشمیر تک روڑ پکی ہو گئی ہے تھوراڑ مسائل کا گڑھ تھا سن 2000 تک تھوراڑ میں ایک بوائز انٹر کالج سب جج عدالت اور نیابت تھی ان دو تین اداروں کے علاوہ تھوراڑ میں کوئی بڑا ادارہ نہیں تھا سن 2000 میں تھوراڑکے معززین نے جنرل عزیز صاحب اور بیگم شمشاد عزیز صاحبہ سے کئی مرتبہ وفد کے طور پر ملاقاتیں کی اور اپنے علاقے کے مسائل بتائے مسائل تو بہت سارے تھے سب مسائل کا ایک ہی وقت میں حل ہونا تو مشکل تھا مگر بیگم شمشاد عزیز کی کوششوں سے تھوراڑ مرکز ڈھائی تین سال کے اندر کافی بدل چکا تھا یعنی کافی ادارے قائم ہو چکے تھے تھوراڑ میں ہر سال پانچ اکتوبر 1947 کے شہداء کا دن منایا جاتا ہے بیگم شمشاد عزیز نے بھی شہدائے 5 اکتوبر سن 2000 کو تھوراڑ میں ایک تاریخی اور منفرد جلسہ کرا کر شہداء تھوراڑ کو خراج تحسین اور خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں تھوراڑ کو بلند مقام تک پہنچایا اس جلسے میں آپ کے توسط سے اس وقت کے وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد عزیز خان جی او سی مری میجر جنرل اشفاق پرویز کیانی جو بعد میں آرمی چیف بھی رہے یہ دونوں جنرل حضرات آگے سیز فائر لائن پر کسی فوجی پروگرام میں گئے ہوئے تھے واپسی پر انہوں نے شہداءتھوراڑ کے پروگرام میں شرکت کی۔
بیگم شمشاد عزیز کے توسط سے جن حضرات نے شہدائے تھوراڑ 5 اکتوبر 2000 کو اس جلسے میں شرکت کی ان کے نام یہ ہیں اس وقت کے وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد عزیز خان جی او سی مری میجر جنرل اشفاق پرویز کیانی جنرل اشفاق پرویز کیانی بعد میں پاکستان فوج کے آرمی چیف بھی رہےہیں اور اس وقت آزاد کشمیر گورنمنٹ کے وزیر صحت و ٹرانسپورٹ سردار محمد اشرف خان وزیر برقیات سردار اختر حسین ربانی ممبر کشمیر کونسل سردار سوار خان کےبی خان بہادر خان چیف سیکرٹری آزاد کشمیر شکیل درانی اور آزاد کشمیر گورنمنٹ کے مختلف محکموں کے سیکرٹری صاحبان اور بہت سارے دوردراز علاقوں سے آئے ہوئے مہمانوں نے شرکت کی اس جلسے میں مرحوم سردار روشن خان نے سپاس نامہ پیش کیا اس جلسے کی صدارت سردار سجاد خان عرف شدو نڑ والے نے کی تھی کیونکہ سردار سجاد اس وقت ضلع پونچھ کے ایڈمنسٹریٹرتھے معززین علاقہ تھوراڑ نے مشاورت سے جلسے کی صدارت سردار سجاد کو دی تھی کیونکہ وزیراعظم بھی انہی کی پارٹی کے تھے ان تمام حضرات کا کھانے کا انتظام سردار الطاف خان کے گھر پر تھا جو والی بال گراؤنڈ کے نزدیک ہے معززین علاقہ تھوراڑ کے ایک وفد نے بھی وزیراعظم کو دعوت دی تھی اس وقت بیگم شمشاد عزیز تھوراڑ کو لیڈ کر رہی تھیں بیگم شمشاد عزیز ہی وزیر اعظم یا صدر ریاست اور دیگر حکومتی اعلی عہدے داران سے تھوراڑ کے وفد کو ملاقات کے لیے ٹائم لے کر دیتی تھیں سپاس نامہ میں تو بہت سارے مطالبات تھے مگر یہ پہلے سے کیمنٹ ہوتی ہے صدر یا وزیراعظم سے کون کون سے اعلانات کرنے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی کرنا ہے بیگم شمشاد عزیز اور وزیراعظم کے درمیان پہلے سے طے ہو چکا تھا اس جلسے میں وزیر اعظم آزاد کشمیر نے جو اعلانات کیے گرلز انٹر کالج تعمیر یادگار شہداء تحصیل ریسٹ ہاوس تھوراڑ سب جج کو اے سی کے اختیارات یعنی ایس ڈی ایم کے اختیارات ملے تھوراڑ میں ہر ماہ 15 دن کے لیے فیملی جج کی تعیناتی کا اعلان کیا اس جلسے کی کوریج تھوراڑ کے مشہور و معروف صحافی راجہ انور نے آپنے اخبار میں خبر لگائی تھی خبر کا تراشا بھی اپلوڈ کروں گا یہ خالی اعلانات نہیں تھے بلکہ بیگم شمشاد عزیز نے ان پر عمل درآمد بھی کرایا 11 اپریل 2001 کو بیگم شمشاد عزیز نے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر شکیل درانی سے لائبریری ریسٹ ہاوس کا سنگ بنیاد رکھایا اس وقت کی حکومت نے انتظامی یونٹ پر پابندی لگائی ہوئی تھی اس لیے ریسٹ ہاوس کو پبلک لائبریری کا نام دیا گیا ہو میرے خیال میں اور یہ بھی ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو بہرحال ریسٹ ہاوس فنکشنل ہے اور لائبریری فنکشنل نہیں ہے اسی روز یعنی 11 اپریل 2001 کو تحصیل تھوراڑ کا بھی افتتاح ہوا اس وقت کی پونچھ انتظامیہ شاید یہ نہیں چاہتی تھی کہ تھوراڑ تحصیل کا افتتاح ہو مگر بیگم شمشاد عزیز نے زبردستی تحصیل کا افتتاح کروایا اگر اس بات پر کسی کو شک ہو تو وہ نمبردار اسلم خان مولانا پروفیسر عبدالرزاق سردار الطاف خان سردار مشتاق خان ٹھیکیدار سرور خان صحافی راجہ انور اور بھی شاید بہت سارے لوگ ہوئے ہوں گے لیکن میرے ذہن میں نام نہیں آ رہے ہیں موجودہ تھوراڑ کے صحافی اس بات کو کلیئر کر سکتے ہیں ان لوگوں سے پوچھ کر اور سردار مشتاق خان کا بھی زبردست کردار ہے کیونکہ اس بلڈنگ کو اس وقت تک رنگ و روغن نہیں ہوا تھا صرف دو دن میں اس بلڈنگ کو رنگ و روغن کر کے اور کچھ فرنیچر کا انتظام کر کے بلڈنگ کو تیار کیا جب تحصیلدار کی تعیناتی ہوئی تھوراڑ میں تو دفعہ 30 سپیشل مجسٹریٹ کے اختیار بھی سول جج سے تحصیل دار کو منتقل ہوگئے تھے گرلز کالج کی کلاسیں بھی گرلز ہائی سکول میں شروع ہو گئی تھی 2001 میں بیگم شمشاد عزیز نے اس وقت کے صدر ریاست سردار انور خان کو ابھی ایک ماں کچھ ہی دن ہوئے تھے اپنا منصف سنبھالے ہوئے تو ان کو دعوت دی شہدائے تھوراڑ کے پروگرام میں 5 اکتوبر 2001 کو صدر ریاست نے تھوراڑسے پھاگوعہ تک روڈ کی سونگ اور تھوراڑ بوسہ گلہ روڈ بیڑیں تک سونگ کرنے کے لیے رقم کا اعلان کیا اور بعد میں رقم ملی بھی اسی جلسے میں حاجی یعقوب جو اس وقت وزیر صحت تھے تھوراڑ BHU کے لیے ایک لیڈی سپروائزر ایک گاڑی اور 10بیڈکا اعلان کیا اور بعد میں یہ سب چیزیں ملی بھی ہیں شہدائے 5 اکتوبر 2002 کو اس وقت کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان سردار عتیق خان سابق وزیراعظم بیرسڑ سلطان محمود چوہدری اور دیگر وزراء اکرام ممبر اسمبلی تشریف لائے وزیراعظم سکندر حیات نے بوائز ڈگری کالج کا اعلان کیا اور ریسٹ ہاوس کا افتتاح بھی کیا بوائز ڈگری کالج کا عملدرآمد 2003 میں ہو گیا تھا آپ نے 25 اپریل 2014 کو چیف جسٹس ہائی کورٹ غلام مصطفی مغل سے نئی تعمیر ہونے والی بلڈنگ سول جج عدالت تھوراڑکا افتتاح بھی کرایا اور کچھ فرنیچر بھی عدالت بلڈنگ کے لیے اپنی طرف سے ڈونیٹ کیا آپ نے شہدائے یادگار پر ایک چھوٹاکیبن بنواکر رجسٹر بھی یادگار پر رکھا جب باہر سے کوئی مہمان آئے تو وہ اپنے تاثرات بھی درج کرے مگر آج کل نہیں پتہ کہ وہ کیبن کدھر ہے معززین علاقہ تھوراڑنے گرلز کالج اورکسی روڈکو آپ کے نام سے منسوب کرنا چاہا مگر آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ کسی شہداء کے نام سے منسوب ہونے جائیں میرے نام سے نہیں میں ایک ساتھ بھی لکھ دیتا ہوں جو کام بیگم شمشاد عزیز نے تھوراڑکے لیے کیے ہیں
(1)یادگار شہدا کی تعمیر مکمل کروانا
(2)تحصیل
(3)گرلز کالج
(4)بوائز ڈگری کالج
(5)ریسٹ ہاوس
(6)تھوراڑ بھالگراں روڈ تھوراڑ سے بھالگراں بازار تک پکی کرنا آگے کچا لنک شارح کشمیر تک
(7)تھوراڑ اندروٹ روڈ کا سر واہ چینج کرانا اور پکی کروانا
(8) بھالگراں گرلز ہائ سکول کو ہائر سیکنڈری کا درجہ دلانا 2016 میں
(9) سب ڈویژن کے لئے راستہ ہموار کرنا
(10)تھوراڑ میں جتنی بھی سرکاری بلڈنگز ایرا سیرا کے ذمہ تھی باقی علاقوں سے تھوراڑمیں پہلے تعمیر کرانا یہ سب کام بیگم شمشاد عزیز نے سیاست میں آنے سے پہلے کروائے ہیں صرف ایک بھالگراں کے ہائر سیکنڈری سکول کو چھوڑ کر بیگم شمشاد عزیز نے تھوراڑ میں قومی اور اجتماعی کام کیے ہیں جس سے آنے والی نسلوں کی نسلیں بھی مستفیض ہوتی رہیں گی آپ جب کسی مقام پر پہنچیں اور تھوراڑ کے لئے کچھ کر سکتی تھیں تو آپ نے بہت کچھ کیا اور تھوراڑ کی بیٹی ہونے کا حق ادا کیا مگر جب بیگم شمشاد عزیز نے الیکشن میں حصہ لیا تھوراڑ کے چند افراد کے علاوہ باقی کسی نے بھی آپ کا ساتھ نہیں دیا ان دونوں روڑو ں کی فائلیں تیار کروانے میں ٹھیکیدار خلیل کا بھی اہم رول ہے ہسپتال کے لئے بھی بیگم شمشاد عزیز نے بہت کوشش کی مگر اس کام کو وہ پایا تکمیل تک نہ پہنچا سکیں یہ لمبی کہانی ہے پھر کسی قسط میں ذکر آئے گا بیگم شمشاد عزیز نے سیاست 2010 میں پاکستان پیپلز پارٹی سے شروع کی 2014میں آپ ٹیکنوکریٹ سیٹ پر آزاد کشمیر اسمبلی کی ممبر بنیں 2 جولائی 2014 کو آپ نے اسمبلی ممبر کا حلف اٹھایا آپ آزاد کشمیر گورنمنٹ میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرپرسن بھی رہیں 2016 کے الیکشن میں پارٹی کی طرف سے آپ کو L a 20پونچھ حلقہ نمبر 4سے ٹکٹ دیا گیا مگر آپ کو کامیابی نہ مل سکی آپ نے سیاست سے کنارہ کشی کر لی تھی مگر پلندری کے لوگوں کے پرزور اصرار پر آپ نے 20 نومبر 2020 کو تحریک انصاف کے پلیٹ فام سے دوبارہ سیاست شروع کر دی ۔
سردار مصطفی خان تحصیل تھوراڑ خاص

اپنا تبصرہ بھیجیں