آزاد کشمیر الیکشنز ۔۔ تقابلی جائزہ۔۔ تحریر: توقیر یاص

آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرنے کو ھے اور الیکشن کی آمد آمد ھے جولائی کے وسط میں موجودہ حکومت کی مدت انتخاب ختم ھو جائے گی اور پھر پہلے سے اعلان شدہ شیڈول کے مطابق اسی ماہ میں کسی بھی وقت الیکشن متوقع ہیں ۔

آزاد کشمیر الیکشن کی دلچسپ بات يہ ہے کے یہاں دھاندلی کا عنصر کم پایا جاتا ھے اور عموماً الیکشن خاصے پرامن ماحول میں ھوتے ہیں ۔ الیکشن پرسپشن کا کھیل ھے ، ریس میں لنگھڑے گھوڑے پر ویسے بھی کوئی پیسے نہیں لگاتا ، آزاد کشمیر کے الیکشن چونکہ پاکستان کے الیکشن سے بعد ھوتے ہیں تو مرکزی حکومت کا انفلوئنس خاصہ ھوتا ھے ، مرکزی حکومت نتائج پر اثر انداز نہ بھی ھو تب بھی اب تک کی لوگوں کی ووٹنگ پٹرن کو دیکھتے ھو ئےکہا جا سکتا ھے کے لوگ اپنی زہن سازی مرکزی حکومت دیکھ کر ہی کرتے ہیں ، جیسے گزشتہ انتخابات میں نون لیگ کشمیر میں کم مقبولیت کے باوجود ۳۵ سٹیں لے اُڑی کیونکہ مرکز میں انکی حکومت تھی ۔

آمدہ الیکشن کے نتائج کے حوالے سے اگرچہ یہ تجزيہ قبل از وقت ھے کيونکہ ابھی تک سياسی جماعتوں نے ٹکٹوں کی تقسيم کا مرحلہ شروع نہيں کيا ليکن مرکزی حکومت ، مقامی تنظيم سازی اور متوقع اميدواروں کو ديکھتے ہوئے يہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ھے کی انتخابی نتائج تحريک انصاف کے حق ميں ھوں گے اور وہ واضح طور پر اکثريتی حکومت بنانے کی پوزيشن ميں ھوں گے ۔خاص کر ويلی اور جموں کے مہاجرين کی چھ چھ سٹيوں کے چلتے يہ مشک اور بھی آسان ھو جاتی ھے جہاں زيادہ تر سيٹيں پاکستان حکمران جماعت کی جھولی ميں جاتی ہيں ۔

چونکہ پی ٹی آئ آزاد کشمير ميں اليکشن دوسری بار لڑ رہی ھے اور پہلی بار منظم انداز ميں تو کچھ غير متوقع نتائج کی وجہ سے پارٹی کی اندرونی کشمکش اورکس جماعت سے اتحاد کیا جائے ، اتحاد کے بغير اليکشن لڑا جائے وغيرہ وغيرہ جيسے معاملات کی وجہ سے دلچسپی خاصی بڑھ گئی ھے ۔
بريسٹر سلطان محمود اسوقت تک سولو فلائيٹ کے حامی تھے وہ نتائج سے پہلے کی بجائے اليکشن نتائج کے بعد کسی اتحاد کے حامی تھے ليکن حالات گزشتہ ايک ڈيڑھ ماہ ميں حالات خاصے تبديل ھوئے ہيں ، اس ميں بڑا کردار رہا ھے سردار تنوير الياس کا اورعتيق خان ليڈ مسلم کانفرنس کا ، يہ کم از کم عمران خان اور مقتدر حلقوں کی حد تک اس بات کو باور کروانے ميں کامياب ھو چکے ہيں کے پی ٹی آئ سردست اکيلے حکومت بنانے کی پوزيشن ميں نہيں اور يہ اتنا بڑا رسک ھے جو عمران خان لېنے کو تيار نہيں ہيں ۔

اتحاد کی صورت ميں سب سے زيادہ فائدہ مسلم کانفرنس کا ھو گا ، اگر ايسا ھوتا ھے تو مسلم کانفرنس اٹھ کے قريب نشستيں اپنے نام کر سکتی ھے اور پھر خواتين کی ملا کر انکے پاس دس کے قريب اسمبلی کی نشستيں ھو سکتی ہيں ، اتنی اسمبلی کی نشستوں کے بعد سردار عتيق صدارت سے کم پر بات نہیں کريں گے بصورت ديگر پی ٹی آئی پر ان ھاوس تبديلی کی تلوار ہميش لٹکتی رہے گی ۔
دوسری اہم پیش رفت سردار تنوير الياس کی کشمیر ميں انٹری ھے ، بيرسٹر ، عمران اور تنوير، عمران ملاقات کے بعد يہ تاثر بھی سامنے ايا ھے کے تنوير الياس نے محض اپنی خدمات پيش کی ہيں پی ٹی آئی قيادت کو اور وہ شائد ڈائريکٹ انتخابات ميں حصہ نہ ليں ہاں وہ قمرازمان ، ضيا قمر اور سکندر حیات وغيرہ سے سب کو يا کچھ بڑی شخصيات کو پی ٹی آئ ميں شامل کريں ۔ دوسری صورت ميں جسکے امکانات کم ہيں کے تنوير الیاس باغ سے خود اليکشن لڑيں اُس صورت ميں افس اینڈ بٹس بہت سے ہيں انہيں ، نہ صرف قمرزمان ، ايم سی اور کچھ مقامی عمائدين کی بھی ضرورت ھو گی بلکہ جماعت اور پی ايم ايل اين کے ممکنہ اتحاد کا سامنہ بھی کرنا پڑھ سکتا ھے ۔

اگر تجزيے کو سميٹا جائے تو اسوقت ممکنہ طور پر پی ٹی آئ ، ايم سی اور ھو سکتا ھے جے کے پی پی بھی تين جماعتی انتخابی اتحاد کی صورت ميں انتخاب لڑيں ، بيرسٹر سلطان محمود ہی پی ٹی آئ کے وزارت عظمی کے اميدوار ھوں گے ، اور اتحاد کی صورت ميں صدارت کا ہما سردار عتيق احمد کے سر بيٹھ سکتا ھے ، تنوير الياس اليکشن ميں ڈائريکٹ حصہ نہيں ليں گے اگر ليتے بھی ہيں تو کم از کم اسوقت تک وہ وزارت عظمی کے اميدوار ہرگز نہيں ہيں اگر پی ٹی آئ سولو فلائيٹ ليتی ھے اور اليکشن سے پہلے سلطان محمود اور تنوير الياس ميں قرابت پيدا ھو جاتی ھے تو صدارتی اميدوار ھو سکتے ہيں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں