تھوراڑکی آن تھوراڑکی شان علاقہ کاہنڈی کی پہچان نمبردار اسلم خان

نمبردار اسلم خان تھوراڑ کی مشہور و معروف اور علاقہ کاہنڈی کی جانی پہچانی شخصیت ہیں نمبردار اسلم خان نے ساری زندگی سیاسی سماجی فلاحی اور تھوراڑ کی عوام کی خدمت میں گزاری دی اس وقت بھی تقریبا 90 سال سے اوپر ان کی عمر ہے اور ابھی تک تھوراڑ کی عوام کے لیے خدمت میں مصروف عمل ہیں عوامی خدمت کرنے کا جذبہ ان کو وراثت میں ملا نمبردار اسلم خان نے تحریک آزادی کشمیر 1947 میں بھی حصہ لیا اور پونچھ محاذ پر سیز فائر ہونے تک جدوجہد جاری رکھی پاکستان فوج میں بھی کچھ عرصہ رہنے کے بعد فوج کی نوکری چھوڑ کر واپس اپنے گاؤں آ گئے تھوراڑ ڈاکخانہ میں بھی عرصہ 10 سال تک پوسٹ ماسٹر کے فرائض بھی انجام دیے تھوراڑیونین کونسل کے دو یا تین مرتبہ چیئرمین بھی رہے اور 1978یا 1979میں ضمنی الیکشن سٹیٹ کونسلر کے الیکشن میں بھی حصہ لیا اور کامیاب بھی ہوئے مرحوم غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی اور مولانا عبدالعزیز تھوراڑوی کی حمایت بھی آپ کے ساتھ تھی آپ خود بھی وسیع حلقہ احباب رکھتے تھے کیونکہ آپ پوسٹ ماسٹر ہونے کی وجہ سے آپ کی دور دور تک لوگوں کے ساتھ جان پہچان تھی اس وقت لوگ ڈاک خانے میں ہی پیسے یعنی منی آرڈر اور خط رجسٹری وغیرہ بھیجا کرتےتھے بینک وغیرہ نہیں ہوا کرتے تھے سٹیٹ کونسلر کا انتخاب موجودہ ایم ایل اے کے حلقے سے بڑا ہوتا تھا سٹیٹ کونسلر کا انتخاب پوری تحصیل کا ہوتا تھا تھوراڑ کی اس وقت تحصیل راولاکوٹ تھی یعنی آپ نے راولاکوٹ کی پوری تحصیل سے سٹیٹ کونسلر کا انتخاب جیتا یہ بھی ایک تاریخی بات ہے شاید آج کل کے نوجوانوں کو اس کے بارے میں نہ پتہ ہو اس وقت اگر تھوراڑ کی کوئی عمرر سیدہ شخصیت ہیں تو میرے خیال میں وہ نمبردار اسلم خان ہیں نمبرداری ان کو وراثت میں ملی ہے مراجہ ہری سنگھ کے دور میں نمبردار ہونا بڑے اعزاز کی بات ہوتی تھی اور تھوراڑ میں 7بڑی برادریاں ہیں مراجہ ہری سنگھ کے دور میں ہر برادری کا اپنا نمبر دار ہوتا تھا شاید آج کل کے نوجوانوں کو اس بات کا بھی علم نہ ہو وہ اپنے بزرگوں سے اپنی برادری کے نمبردار کا معلومات کر سکتے ہیں کوئی ایک فرد واحد پورے علاقے کا نمبردار نہیں ہوتا تھا سردار اسلم خان کو لوگ عزت اور احترام کی وجہ سے نمبردار کے نام سے پکارنے لگے اور آج تک اسی نام سے جانے جاتے ہیں نمبردار اسلم خان اپنے دور کے تھوراڑ کی طاقتور ترین شخصیت تھے تھوراڑ کی 7برادریوں کے سرکردہ لوگوں کی حمایت نمبر دار اسلم خان کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی کسی قسم کی کوئی گروپ بندی نہیں کی اور سب برادریوں کو چاہے وہ اکثریت میں تھیں یا اقلیت میں ساتھ لے کر چلے اور تھوراڑ مرکز کی فضا کو پرامن رکھا اور کبھی بھی اپنی سیاست چمکانے کے لئے تھوراڑ کی عوام کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالا اور نہ ہی کسی سے سیاسی انتقام لیا نمبردار اسلم خان نے جو لڑائی جھگڑوں اور قتلوں کے فیصلے کیے ہیں اگر ان کا ریکارڈ رکھا جاتا تو شاہد ہزاروں یا لاکھوں میں فیصلے ہیں تھوراڑ کی سرحدوں سے باہر بھی جا کر آپ نے لڑائی جھگڑوں اور قتلوں کے فیصلے کیے ہیں کسی کے لیے وقت نکالنا یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے آج کل تو ہر جگہ پر روڈ ہے بہ آسانی گاڑی پر جایا جا سکتا ہے مگر نمبردار اسلم خان نے پیدل کہیں میل سفر کرکے لوگوں کے جرگے کرا کر جھگڑوں کو ختم کرایا تھوراڑ میں شروع سے لے کر ابھی تک جو بھی سرکاری ادارے آئے ہیں آپ کی مشاورت یا عمل دخل ہر حالت میں رہا ہے آپ کے کردار پر کہیں تحریریں لکھی جا سکتی ہیں مگر میں مختصر لکھ رہا ہوں آپ نے بڑا مشکل دور سفید پوشی میں گزارہ آپ کے گھر میں شام کے لیے راشن ہے یا نہیں ہے اس کی پرواہ آپ نے کبھی بھی نہیں کی اور جہاں بھی آپ کو کوئی جرگہ یا منصفی کے لئے بلاتا تو آپ ضرور جاتے کبھی بھی آپ نے لالچ کو اپنے قریب نہیں آنے دیا آپ تین بھائی تھے آپ سب سے بڑے تھے ایک بھائی مرحوم سردار سرور خان جو فوج میں تھے 1974 گلگت کسی جہیل میں کشتی الٹنے سے ڈوب گئے تھے جن کی ڈیڈ باڈی نہیں ملی تھی دوسرے آپ کے بھائی سردار صادق خان جو عرصہ 50 60 سال سے صوبہ سندھ ٹھھٹہ میں قیام پذیر ہیں اپنا بزنس بھی وہاں ہی کرتے ہیں اور آپ کی بھی ہر طرح کی مدد کرتے رہے ہیں نمبردار اسلم خان کے 10 بیٹے ہیں جن میں سے 2 بیٹے عمر حیات اور خضر حیات اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے جا چکے ہیں 8 بیٹے ابھی زندہ سلامت ہیں اور اپنی محنت مزدوری کرتے ہیں نمبردار اسلم خان کے بیٹوں کے پاس اس وقت جو بھی کچھ ہے گھر یا گاڑی وہ انہوں نے اپنی محنت مزدوری کرکے خود بنایا ہے نمبردار اسلم خان کی طرف سے کسی بیٹے کو بھی گھر یا گاڑی تحفے میں نہیں ملی ہے 1990کے بعد آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے تو ایک اصلاحی کمیٹی تشکیل دی گئی جو لوگوں کی آپس میں ناراضگیاں لڑائی جھگڑے ختم کرانے میں اہم رول ادا کرتی تھی نمبردار اسلم خان تھوراڑ اصلاحی کمیٹی کے عرصہ 30 سال سے صدر ہیں تھوراڑمرکزی جامع مسجد کمیٹی کے صدر بھی مولانا عبدالعزیز تھوراڑوی کے دور سے لے کر ابھی تک ہیں تھوراڑعدالت لانے میں بھی آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کا اہم رول ہے جس کا ذکر آئندہ آنے والی کسی قسط میں کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے
تحریر سردار مصطفی خان تعصیل تھوراڑ خاص
2021۔3۔18

اپنا تبصرہ بھیجیں