کیا نون لیگ اور پیپلز پارٹی واقعی جمہوری ہو گئی ہیں؟

یہ مان بھی لیا جائے کہ میاں صاحب نے جان بچانے کے لئے بیماری کا ڈرامہ کرکے اپنے بھائی شہباز شریف کے ذریعے باہر جانے کے لئے ڈیل کی یا ڈھیل لی جس میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ وہ جیل سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ اور اسے قانونی نہیں بلکہ انتقامی کاروائی سمجھتے تھے۔

پھر بھی انقلابی تو دور کی بات اس وقت تک ان کی باتوں پر یقین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اب کبھی اسٹیبلشمنٹ سے ساز باز کر کے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

جب تک وہ جس حکومت کو ایک سال بھی نہیں ہوا تھا اس کے خلاف لانگ مارچ کرنے اور 2011 میں یوسف رضا گیلانی کے خلاف عدالت جانے اور اسے مستعفی ہونے کا کہنے اور اسے عدالت کے ذریعے فارغ کرنے پر اس عدالتی فیصلے کو اپریشئیٹ کرنے کے حوالے سے قوم سے معافی نہیں مانگتے۔

اور جب بلوچستان اسمبلی اور صادق سنجرانی کے چئیرمین سینیٹ بننے کو سازش کہتے ہیں تو سب سے زیادہ مذمت پیپلز پارٹی کی نہیں کرتے اور پیپلز پارٹی کو بھی معذرت کرنے کو نہیں کہتے۔

یہی معاملہ پی پی اور آصف زرداری کا بھی ہے۔

پرانی باتوں کو چھوڑیں 2008 کے بعد ان دونوں جماعتوں نے جب تک عوامی سطح پر اسٹیبلشمنٹ کا کٹھ پتلی بن کر اپنے لئے سہولتیں لینے کا اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی نہ مانگی اور اپنی جماعتوں میں جمہوریت لانے کا عہد نہ کیا تب تک یہ جمہوری کہلانے کے لائق نہیں۔

اور تب تک عام آدمی کی نظر میں یہ مفاد پرستوں کا ٹولا ہی کہلائیں گے۔ جو خود جو کریں وہ صحیح سمجھتے ہیں اور کوئی دوسرا کرے تو اسے غلط سمجھتے ہیں۔

باقی عقیدت مندوں کا کیا ہے وہ انھیں جمہوری سمجھیں یا اس سے بھی اوپر کچھ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں