تہلکہ۔۔۔اللہ والی مسجد کا شاہی فقیر۔۔۔ نسیم شاہد

مجھے پردیس سے آئے ہوئے پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے ۔ اور تقریباً اتنے ہی عرصے سے تواتر کے ساتھ نمازِ جمعہ راولاکوٹ کی معروف اللہ والی مسجد میں ادا کرنے کا اتفاق ہو ہی جاتا ہے ۔ تقریباً ہر جمعے کو یہ شاہی فقیر اُجلے سفید کپڑے ،اُن کے اوپر گہرے نیلے رنگ کی واسکٹ زیبِ تن کیے ، سر پے سفید رنگ کی نمازی ٹوپی رکھے ، ہاتھ میں جائے نماز لیے انتہائی عجز و انکساری کے ساتھ صحن میں داخل ہوتے ہی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی میں مشغول ہو جاتا ہے ۔ اس کے صحن میں داخل ہوتے ہی میری نظر یں بے ساختہ اس شاہی فقیر کے فقیرانہ انداز ، عجز و انکساری پے جم جاتی ہیں کیونکہ میں اسے اپنی جوانی کے اُن ابتدائی ایام سے جانتا ہوں جب یہ اسی ضلعے کا ڈپٹی کمشنر تھا ۔ اپنے عروجِ جوانی اور کمشنری جیسی پروٹوکول اور جاہ و جلال والی اعلیٰ ضلعی انتظامی پوسٹ پے ہونے کے باوجود اس کی چال ڈھال سے عجز و انکساری ، چہرے سے متانت اور انداز سے عمر سے زیادہ سنجیدگی عیاں ہوا کرتی تھی ۔ ہمارے ہاں جب کوئی زندگی کے کسی بھی میدان میں ترقی یا اگلے گریڈ میں پروموٹ ہوتا ہے تو اُس کا بہت کچھ مثبت سے منفی میں بدل جاتا ہے ، انداز و اطوار ، چال ڈھال ، میل میلاپ اور رویوں کے ساتھ اور بھی بہت کچھ بدل جاتا ہے ۔ لیکن حیرت ہے کہ جیسے جیسے یہ شاہی فقیر ریاستی نوکر شاہی یا بیوروکریسی میں ترقی کرتا گیا اگلے گریڈ میں پروموٹ ہوتا گیا تو ساتھ ساتھ اس کی عِجز و انکساری ،حلیم الطبعی ، دیانت ، پاک دامنی ، انسانی اور پیشہ ورانہ اوصاف بھی مزید اُبھرتے اور نکھرتے گئے ۔ جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ جب یہ اس کرپٹ ، راشی ، اقربا پروری اور آپا دھاپی والے نظام سے کسی یوسف کی طرح اپنی شیدائی زلیخا کے مکر و فریب ،الزام اور جال سے اپنا دامن پاک و صاف بچا کے رخصت و ریٹائر ہوا تو بھی یہ بوسیدہ نظام کبھی اسے پبلک سروس کمیشن کی ممبری اور کبھی احتساب بیورو کی چئیرمینی کیلئے پکار رہا ہے ۔ اُس سے بھی مستزاد یہ کہ میری طرح اس کے دوسرے جاننے اور چاہنے والوں کے علاوہ کوئی اجنبی اس شاہی فقیر کی شخصیت ، انداز و اطوار سے یہ اندازہ نہیں کر سکتا کہ یہ کوئی 21 ویں گریڈ کا طاقتور ریاستی بیوروکریٹ رہا ہے ۔
لیکن اس بوسیدہ نظام میں اس جیسے ایماندار ، پاک دامن اور بے باک شاہی فقیروں کو صرف اس نظام کے خلاف ہی نہیں بلکہ اس نظام کے پروردہ اُن کل پُرزوں اور مافیاز کے خلاف بھی نبرد آزما رہنا پڑتا ہے جن کے مفادات کا یہ نظام محافظ ہے ۔ لیکن چونکہ یہ لوگ ملکی یا ریاستی سرونٹس کے زمرے میں آتے ہیں اس لیے ان کے معاملات بہت کم میڈیا کی زینت بنتے ہیں ۔ آزاد کشمیر کے سابق وزیرِ اعظم چوہدری مجید ، جنہیں اس وقت کے وزیرِ امورِ کشمیر ، برجیس طاہر ، پیار سے مجیدے اور بہت ہی زیادہ پیار سے ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰کہہ کر پکارا کرتے تھے کے بیٹے قاسم مجید کا اس شاہی فقیر پے ہاتھ اُٹھانے کا معاملہ ضرور میڈیا کی زینت بنا تھا ۔ پرانی بات ہے واللہ عالم ۔ لیکن اگر ایک وزیرِ اعظم کا بیٹا اس انتہا تک آ جائے تو شاید معاملہ کسی انہونے کام کو ہونے میں بدلنے والا ہی ہوا ہو گا جو ظاہر ہے اس باکردار شاہی فقیر کے پیشہ ورانہ دامن و دیانت کے شایان نہ ہوا ہو گا یا پیشہ ورانہ بے باک و بے داغ کیرئیر پے دھبے کے مترادف ہوا ہو گا ۔
بہرحال اب اس شاہی فقیر کے بے باک و بے داغ کیرئیر کی بدولت اس کے کندھوں پے ایک ایسی احتساب بیورو کی چیرمینی کا بارِ گراں ڈالا گیا ہے جو شروع دن سے ہی نامی گرامی ، دیانتدار اور باکردار چئرمینوں کے باوجود برائے نام یا فائلوں کی حد تک ہی چلی آ رہی ہے ۔ بلکہ یوں کہیے کہ جیسے ولائت کی سابق کالونی پاکستان میں ولائتی جمہوریت اب تک ایک خواب رہی ہے بلکل اُسی طرح نام نہاد پاکی کالونی آزاد کشمیر میں بھی بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود حقیقی احتساب ایک خواب رہا ہے ۔ دعا ہے کہ یہ باکردار ، دیانتدار اور فرض شناس شاہی فقیر کچھ کر سکے نہیں تو اپنا پیشہ ورانہ پاک دامن ہی لے کے واپس گھر لوٹ آئے تو عافیت اور کامیابی ہو گی :
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں ، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قُند

اپنا تبصرہ بھیجیں