تہلکہ۔۔۔۔ایسا آفتاب غروب نہیں ہوتا۔۔۔ تحریر: نسیم شاہد

سنہ 80 اور 90 کی دہائیاں کشمیریوں کیلیے بڑی پر آشوب رہی ہیں ۔ 80 کی دہائی میں مقبول بٹ کی پھانسی کے زخموں نے کشمیریوں کے نظریہ ہائے خود مختاری کو ایک ایسی جِلا بخشی کہ جس کے نتیجے میں کالجز اور یونیورسٹیز سے نوجوانوں کی ایک ایسی کھیپ ابھری جو پڑی لکھی بھی تھی ، جوان بھی اور نظریہ خود مختاری سے کمیٹڈ بھی ۔ ساتھ ہی مقبول بٹ کی پھانسی نے انہیں اس قدر بے خوف کر دیا کہ وہ پھانسی گولی سے بھی بے خوف ھو گئے تھے ۔ اور اسی کے نتیجے میں نوئے کی مسلح تحریک نے جنم لیا۔
اس زمانے میں آزاد کشمیر میں کلی طور پر اور پاکستان کی سیاست و اقتدار میں بھی بڑی حد تک سردار قیوم صاحب مرحوم و مغفور کا طوطی بولتا تھا اور اس قدر بولتا تھا کہ پاکستان کا ایک بڑا حلقہ انہیں “مرشد” مانتا تھا۔ جن میں سیاستدانوں ، دانشوروں اور صحافیوں کے ساتھ ساتھ فوجی اور سول اسٹیبلشمنٹ دونوں کے اعلیٰ عہدوں والے بھی تھے۔ جن میں سے چند ایک کو میں ذاتی طور پے جانتا ھوں اور مل بھی چکا ھوں ۔ سردار صاحب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو “جُجُو” کی طرح ڈرایا کرتے تھے کہ آزاد کشمیر پاکستان کا “دفاعی حصار” اور ہم یعنی مسلم کانفرنس ” نظریاتی حصار” ہیں ۔ کشمیر اور بالخصوص آزاد کشمیر میں “کشمیر بنے گا پاکستان” کے سوا کسی آپشن یا نعرے کا وجود یا گنجائش ہی نہیں ۔ ایسے میں آزاد کشمیر میں حتیٰ کہ پاکستان بالخصوص شہرِ اقتدار اسلام آباد اور فوجی جی ۔ایچ۔ کیو والے شہر راولپنڈی میں بے خوف و خطر”کشمیر بنے گا خود مختار” کے نعروں کی گونج جہاں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کیلیے ناقابلِ قبول تھی وہی یہ سردار صاحب کیلیے بھی دردِ سر تھی ۔ سردار صاحب مرحوم و مغفور بظاہر خود مختاری یا تھرڈ آپشن کو تمسخرانہ انداز میں ذہینی عیاشی” اور بعض اوقات “فتنہ” قرار دیا کرتے تھے۔ ایسے میں خود مختاری کا نعرہ لگانے والوں کیلیے طرح طرح کی مشکلات کھڑی کرنا اسٹیبلشمنٹ اور اقتدار پرستوں کی مجبوری تھی جس کے نتیجے میں ان کیلیے زندگی کی رائیں خاص کر معاشی راہیں کٹھن سے کٹھن ھوتی گئیں ۔ سب سے بڑا مسلہ حصولِ روز گار اور ذرائع آمدن کا تھا کہ زندگی کی گاڑی کیسے چلائی جائے۔ نتیجتاً ان کے پاس تین راستے تھے:
۱)۔۔۔ ملک چھوڑ کے بیرونِ ملک چلے جائیں تاکہ روزگار اور ذرائع آمدن بھی ھو جائیں اور نظریات پے بھی قائم رہ سکیں ۔ آج بھی اگر اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں تو امریکہ، کینیڈا، یورپ ، مشرقِ بعید اور مشرقِ وسطیٰ میں مقیم کشمیریوں کی اکثریت اپ کو خود مختاری کی حامی ملے گی۔
۲)۔۔۔ نظریہ خود مختاری سے منحرف ھو کے اسٹیبلشمنٹ کی ہاں میں ہاں ملا کے کوئی جاب حاصل کی جائے۔ جو اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کیلیے خوشی کا باعث تھا، اور اس کے پاس آزادی پسندوں کو رام کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار بھی ۔ آج بھی اپ کو آزاد کشمیر کی بیوروکریسی اور مختلف محکمہ جات میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ملے گی جو جوانی میں خود مختاری کے کٹر حامی تھے لیکن حالات کی تاب نہ لا سکے اور بظاہر نظریات قربان کرکے یا چھپا کے کئ نہ کئ ایڈجسٹ ھو گئے۔
۳)۔۔۔ تیسرا اور سب سے مشکل و کٹھن راستہ وہ تھا جو سردار آفتاب مرحوم و مغفور کا تھا کہ نہ ملک چھوڑا جائے نہ نظریے کا سودا کیا جائے۔ جو اپنے والدین کا سب سے بڑا بیٹا بھی ھو، بہن بھائیوں کا بڑا بھائی اور اپنی اولاد کا کفیل بھی ھو، اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ھو، لیکن اپنی جوانی، والدین کی امیدیں ، بہن بھائیوں اور اولاد کی خواہشات کو ایک نظریے پے قربان کرنا کتنا مشکل راستہ تھا یہ کوئی سردار آفتاب ہی بتا سکتا ہے جو اس راستے پے چل کے عدم سدھار چکا ھو۔
اور اوپر سے قسمت کی ظریفی یہ کہ جس نظریے اور تنظیم کیلیے سب کچھ قربان کیا وہ بھی اختلافات کا شکار۔ مرحوم و مغفور کے تقریباً سبھی ہمعصر ساتھی جو لبریشن فرنٹ کی صفِ اول کی لیڈر شپ تک پہنچے، تنظیمی اور قومی مفادات و ترجیحات پے ذاتی انا کو قربان نہ کر سکے۔ نتیجتاٍ ذاتی اور چھوٹے چھوٹے تنظیمی اختلافات کی بنیاد پے لبریشن فرنٹ دھڑے بندیوں کا شکار ھو گئ ۔ اور ہر قابلِ ذکر راہنما نے لبریشن فرنٹ کے ساتھ کئ سابقےاور کئ لاحقے کے ساتھ ایک الگ فرنٹ کھڑی کر دی ۔ اور ایک فرنٹ انگنت فرنٹوں اور دھڑوں میں بٹ کے رہ گئ جسمیں شاہد خفیہ ہاتھوں کا بھی بڑا رول تھا۔ سردار آفتاب مرحوم کی عظمت ، اعلیٰ ظرفی اور بڑے پن کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لبریشن فرنٹ کی اعلیٰ قیادت میں شمار ھونے، انتہائی مشہور و معروف ھونے، ہر دلعزیز ھونے اور ایک وسیع حلقہ اثر رکھنے کے باوجود کبھی کوئی دھڑا قائم کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ سب دھڑوں کیلیے یکسان قابلِ قدر ھونے کی وجہ سے ہمیشہ ذاتی پے اجتماعی مفاد کیلیے اختلافات اور دھڑے بندیاں ختم کرنے کیلیے زندگی کی آخری سانس تک کوشاں رہے۔
یہ لائنیں لکھتے ھوئے میری آنکھوں سے آنسوں رواں ہیں کہ ذاتی زندگی کی کٹھن اور ناکام راہیں ، آزادی کا ادھورا خواب اور سفر بھی اُس عظیم انسان کی مسکرائٹ اور تپاک سے ملنا نہ چھین سکی ، جو داعیِ اجل نے ایک ہی آن میں چھین لیا۔ جس کیلیے اپنے پرائے، دوست دشمن سب ہی ترستے رہیں گے۔
ایسا آفتاب ہر روز طلوع نہیں ھوتا اور اگر ھو جائے تو کبھی غروب نہیں ھوتا۔
( آفتاب صاحب مرحوم کی رحلت پے لکھی گئی تحریر)

اپنا تبصرہ بھیجیں