نوجوانوں سے ضروری گزارش

گزشتہ دنوں دورانِ ڈیوٹی دن کے وقت ایک سائیٹ پر جانا ہوا وہاں 40 منٹ رکنے کے بعد میرے کپڑے پسینے سے بھر چکے تھے ایسے میں وہیں ایک ایسے بزرگ کو ہاتھوں سے کام کرتے دیکھا جن کی داڑھی اور سر پر کوئی بال بھی کالا نہیں تھا ان کے سفید بال دیکھ کر حیا شدت سے محسوس ہوئی صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ بزرگ شدید مجبوری کی صورت میں ہی کام کر رہے ہیں۔
لیکن!
جب ان سے تعارف اور ملاقات ہوئی تو بہت ہی عجیب لگا جناب کا تعلق آذاد کشمیر سے نکلا اور ان کے بیٹے سارے صاحبِ روزگار تھے جن میں سے دو بیرونِ ملک بھی تھے جو یقیناً بیرونِ ملک کام کرنے والے مزدور کی مشکالات کو سمجھتے ہوئے ہوں گے لیکن بقول ان کے کسی بیٹے نے کبھی ان سے نہیں کہا کہ اب وہ جاب چھوڑ کر گھر آجائیں اس لیے وہ خود کسی پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔
یہ ہمارے معاشرے کا اجتماعی المیہ ہے کہ پردیس میں رہنے والوں کو ہم لسٹ سے ہی نکال لیتے ہیں کبھی بھی ان کی مشکلات کا احساس نہیں ہوتا، اس واقعہ کو دیکھنے کے بعد میں ہاتھ جوڑ کر ان لوگوں سے خاص کر ان نوجوانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ جو برسرِ روزگار ہو جاتے ہیں پہلا کام یہ کیا کریں کہ اپنے بزرگوں کو اس مشقت سے آذادی دلا دیا کریں انہوں نے آپ کے لیے شدید مشقت برداشت کی ہوتی ہے
خاص کر جن کے بڑے عرب ممالک میں مزدوری کرتے ہیں انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرنا چاہیے کہ اپنے بڑوں کی گردن سے پردیس کی مشقت بھرا طوق نکالنا چاہیے!!!!!!
عرب میں گزرے اپنے تجربے کی بنیاد پر میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے %90 لوگ یہاں شدید مشقت بھرا کام کرتے ہیں اور اس مشقت سے ان کی صحت پر برے اثرات مرتب ہو جاتے ہیں اس لیے ہم اپنی عیاشیوں کو کنٹرول کر اور اپنے احساسِ ذمہ داری کو بیدار کر کے بھی انہیں تپتی دھوپ سے چھاؤں میں لا سکتے ہیں۔
تفہیم اقبال کیانی

اپنا تبصرہ بھیجیں