نارویجئین پاکستانیوں کا فیسبک پر ایک گروپ

نارویجئین پاکستانیوں کا فیسبک پر ایک گروپ ہے جس کے نام کا مطلب ہے کہ اس گروپ میں لوگوں کو یہاں کے “معاشرتی مسائل اور معاملات” کی پرواہ ہے۔ الگ بات ہے کہ پچاس فیصد پوسٹس پاکستان کی سیاست کے بارے میں ہوتی ہیں۔
گروپ میں اکثریت تحریک انصاف کے لوگوں کی ہے، اکثر کپتان کی سپورٹ میں اور باقی سیاستدانوں کی مخالفت میں “اے آر وائی” اور پی ٹی آئی کے پیجز سے پوسٹیں شئیر ہوتی رہتی ہیں۔ ایڈمنز کی ہمدردیاں بھی تحریک انصاف کے ساتھ ہیں.
کل کسی ایڈمن نے کپتان کی گوجرانوالہ میں جلسے کے بعد والی تقریر پوسٹ کی تو میں نے کمنٹ کیا کہ “رات میاں صاحب کی تقریر نے اس مسخرے کی مت مار کے رکھ دی ہے”۔
کمنٹ کچھ دیر بعد ڈیلیٹ کر دیا گیا اور ساتھ میں گروپس کی ٹرمز اور کنڈیشنز کا بتایا گیا کہ ان کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا کہ ایک پبلک فگر کو مسخرہ کہنے سے کون سے شرط کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو جواب آیا کہ “یہ ذاتی حملہ ہے”۔
میں نے پوچھا باقی سیاستدانوں کو ملک دشمن، غدار کہنے سے “ذاتی حملے” نہیں ہوتے؟ جواب آیا کہ ہم وہ کمنٹ بھی ڈیلیٹ کریں گے، “جب ہمیں نظر آئیں گے”۔
کچھ دیر بعد ایک ایڈمن نے ان باکس میں رابطہ کیا اور تصدیق کی کہ کیا میں واقعی ناروے میں رہتا ہوں اور میرا پاکستان سے کوئی تعلق ہے؟ شاید ان لوگوں کا کا خیال ہے یہاں رہنے والا ہر پاکستانی پی ٹی آئی کا سپورٹر ہے۔
خیر کچھ دیر بعد میں نے ایک پوسٹ کی جس میں کپتان نے وہی باتیں کی تھیں جو نواز شریف نے اپنی موجودہ تقریر میں کیں ہیں، وہ پوسٹ البتہ منظور نہیں کی گئی۔
آج صبح ایک اور پوسٹ نواز شریف کے خلاف کی گئی، جس پر میں نے کافی لتے لیے ہیں ایڈمنز کے اور اب تحریک انصاف والوں کے گالیوں بھرے کمنٹس ڈیلیٹ کیے جا رہے ہیں۔

خیر کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ناروے یا مغرب میں مقیم پاکستانیوں کی دوسری اور تیسری نسل کی اکثریت کے لیے پاکستان ایک سستی تفریح گاہ سے زیادہ کچھ نہیں، البتہ “کیول” لگنے کے لیے پاکستان سے وابستگی کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ پاکستان کے بارے میں ان کی ساری معلومات اے آر وائی اور مطالعہ پاکستان سے حاصل شدہ ہے، زمینی حقیقتوں سے جن کا کوئی تعلق نہیں، اور جس بیانیے پر یہ یقین رکھتے ہیں، بقول راجہ ریاض اس کے پوشٹر پانچ منٹ میں پاڑے جا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں