بائیس اکتوبر اسلامی اخوت کی شاندار مثال۔۔۔سردار محمد حلیم خان

جب ریاست جموں و کشمیر کے ارباب فکر و دانش نے دیکھا کہ مہاراجہ تقسیم ہند کے اصولوں کے مطابق ریاست کا الحاق پاکستان سے کرنے میں پس و پیش کر رہا ہے تو وہ بے چین اور پریشان ہو گے۔ڈوگرہ مہاراجہ کے سرپرست انگریزوں کے برصغیر چھوڑنے کے اعلان سے سو سالہ ڈوگرہ استبداد کے خاتمے کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ دم توڑنے لگی۔ریاست میں ہونے والے واقعات اور مہاراجہ کے اقدامات صاف بتا رہے تھے کہ وہ تقسیم ہند کے اصولوں کے برخلاف ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کی جھولی میں ڈالنے کے لیے نہ صرف وقت حاصل کر رہا ہے بلکہ ریاست کے مسلمانوں کی قوت مزاحمت کو بھی وقت سے پہلے کچلنا چاہتا ہےاس مقصد کے لیے انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے باؤنڈری کمیشن کے ممبر اور کٹر متعصب مہاسبائی میری چند مہاجن کو وزیراعظم اور ار ایس ایس کے شدت پسند رام لال بٹرا کو نائب وزیراعظم مقرر کیا گیا۔یہ دونوں تقرریاں ہندوستانی وزیر داخلہ سردار پٹیل کی نامزدگی اور حکم سے ہوئیں پٹیل کے حکم سے ہی شیخ عبداللہ کو رہا کیا گیا کوئی شک نہیں رہ گیا تھا کہ مہاراجہ ہندوستان کی کٹھ پتلی بن چکا ہے۔اس نے مسلمانوں کو جاری کردہ لائسنس منسوخ کر کے اسلحہ ضبطی کا حکم دے دیا۔حتی کہ مسلمانوں کے گھروں سے چھری چاقو اور کلہاڑی تک ضبط کی جانے لگی۔دوسری طرف جموں ریجن میں ہندووں اور سکھوں کو نئے لائسنس دے کر ان کو ڈیفنس کمیٹیوں کے نام سے منظم کیا جا رہا تھا۔بظاہر ریاستی مشینری کی مدد کے نام پر کٹر ہندو قوم پرست مہاراجہ پٹیالہ کی فوجوں کو تعینات کیا جا رہا تھا۔یہ سلسلہ اس نے اگست سے بھی پہلے شروع کر دیا تھا۔شیخ عبداللہ کا جھکاؤ واضح طور پر ہندوستان کی طرف تھا۔مہاراجہ نے نہ تو پاکستان کے ساتھ الحاق کیا اور نہ ہی ریاست کو آزاد رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کا رخ کیا۔3 جون کو تقسیم بر صغیر کا اعلان ہوا تو 11 جون کو ریاست حیدر آباد نے اپنے اعلان آزادی کے لیے اقوام متحدہ کا رخ کر دیا لیکن مہاراجہ نے اس سارے عرصے میں نہ تو ریاست کو آزاد رکھنے کے حوالے سے کوئی بیان دیا نہ اقوام متحدہ کا رخ ہی کیا۔مطلب واضح تھا کہ مہاراجہ ریاست کو بھارت کی گود میں ڈال کر اپنے مستقبل کے حوالے سے سودے بازی کر رہا ہے۔تاکہ کشمیریوں پر اس کےظلم کی چکی بدستور چلتی رہے۔ایسے حالات میں پونچھ کے نڈر بہادر افراد نے ایک دلیرانہ فیصلہ کیا کہ اگر مہاراجہ ریاست کا الحاق پاکستان سے نہیں کرتا تو اس کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی جائے۔اس فیصلے کا اعلان 15 اگست 1947 کو راولاکوٹ کے مقام پر کیا گیا۔پھر اسی کے تسلسل میں مری کے مقام پر ریاست جموں و کشمیر کے چیدہ اور چنیدہ افراد جمع ہوے اور سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں سابقہ فوجیوں اور سیاسی رہنماؤں پر مشتمل وار کونسل قائم کر دی گئی۔وار کونسل کے سربراہ سردار ابراہیم خان نے پاکستان کے حکمرانوں سیاستدانوں اور سیاسی سماجی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور وار کونسل کی مدد کے لیے ان سے تعاون مانگا۔وہ خود بھی قبائلی علاقوں میں گئے اور قبائلی عمائدین سے اسلحہ اور افرادی قوت مہیا کرنے کی اپیل کی۔اس معاملے میں خان عبدالقیوم خان نے ان کی بھرپور مدد کی۔خان عبدالقیوم ایک کشمیری تھے جن کا خاندان پشاور میں مقیم تھا موجودہ ممبر اسمبلی ماجد خان کے رشتہ میں دادا تھے۔ان کا قبائل میں بہت اثر و رسوخ تھا۔انھوں نے سردار ابراہیم خان کو ساتھ لے کر قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں کیں ان کے اسلامی جذبے کو ابھار کر ان کو وار کونسل کی امداد پر امادہ کر لیا۔حکومت پاکستان نے براہ راست مدد کا وعدہ تو نہ کیا لیکن مسلم لیگی رہنما سردار شوکت حیات کو وار کونسل اور حکومت پاکستان کے مابین رابطہ کار مقرر کر دیا۔
ادھر پندرہ اگست کے فیصلے کے بعد پونچھ کے سابقہ فوجیوں نے اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کر دیا اور دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ راستوں کو کلئیر کرنے کے لیے مہاراجہ کی فوج پر حملے شروع کر دیے۔20 اکتوبر تک کیپٹن حسین خان کی قیادت میں مجاہدین پلندری منگ تھوراڑ ڈوگرہ فوجیوں کو پسپا کرتے راولاکوٹ تک پہنچ چکے تھے۔میرپور محاذ پر خان آف منگ کی قیادت میں مجاہدین برق رفتاری سے آگے بڑھ رہے تھے جبکہ کوٹلی کے محاذ پر راجہ سخی دلیر اور کرنل شیر احمد دشمن کو پسپائی پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر چکے تھے۔یہ سب لوگ سابق برطانوی فوجی تھے۔جو آزادی کی خاطر بہادری کے جوہر دکھا رہے تھے۔مظفرآباد کی طرف خاموشی تھی۔ کیونکہ اس علاقے میں سابقہ فوجی نہ ہونے کے برابر تھے۔ایسے میں وار کونسل نے قبائلی مجاہدین اس محاذ پر بروئے کار لانے فیصلہ کیا۔قبائلی مجاہدین آندھی اور طوفان کی طرح جھپٹے اور ڈوگرہ فوجیوں کو پہلے یی روز مظفرآباد سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔22 اکتوبر کو مظفرآباد فتح ہو گیا اس کے بعد ڈوگرہ فوج سر پر پاوں رکھ کر بھاگنا شروع ہو گئی۔ البدر مجاہدین کے کمانڈر بخت زمین کے بزرگ اس جہاد میں شامل تھے ۔بخت زمین صاحب نے سنایا کہ مجاہدین تو لڑنے کے لیے آئے تھے لیکن ڈوگرہ فوج ٹک ہی نہیں رہی تھی۔یہ لطیفہ بھی ہوا کہ کچھ پرجوش لوگوں نے یہ دعا مانگی یا اللہ دشمن کو استقامت عطا فرما تاکہ اس سے دو دو ہاتھ کیے جائیں۔ایک ہفتے کے اندر مجاہدین اوڑی اور بارہمولہ میں بھی فتح کے جھنڈے لہراتے مہورہ کے پاور سٹیشن تک پہنچ گئے اور باور ہاوس تباہ کر دیا۔ہری سنگھ دسہرے کی رسم کے طور پر سری نگر میں خوشامدیوں اور حواریوں سے نذرانے وصول کر رہاتھا رقص و سرود کی محفل جاری تھی کہ دفعتا اندھیرا چھا گیا اور اس کے ساتھ ہی سو سال ڈوگرہ دور جبر بھی ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔بارہمولہ کے مقام پر پہنچ کر قبائلی لشکر کے سربراہ میجر خورشید انور نے یہ مطالبہ کیا کہ سری نگر پر قبضے سے پہلے اس کے مقام کا تعین کیا جائے۔اسی رسہ کشی میں چوبیس گھنٹے گزر گئے اور انڈین فوج سری نگر ائیرپورٹ پر قابض ہو گئی۔شیخ عبداللہ کی نیشنل گارڈ کے دستوں نے مجاہدین پر حملے شروع کر دیے وہ کہیں تو حملے کرتے اور کہیں عورتوں بچوں سمیت سڑک پر لیٹ جاتے۔ان کے اس طرز عمل کی وجہ سے مجاہدین کو مین شاہراہ کا راستہ ترک کرنا پڑا۔نیشنل گارڈز میں ہندو اور سکھ پیش پیش تھے انھوں نے مجاہدین پر حملے شروع کیے تو جواب میں مجاہدین اور عوام نے بھی بارہمولہ میں سکھوں کے مکانات کو آگ لگا دی۔ اس موقع پر لوٹ مار بھی ہوئی لیکن اس میں مجاہدین سے زیادہ نیشنل کانفرنسی ملوث تھے۔
دوسرے محاذوں جیسے کے پونچھ کوٹلی اور میرپور میں قبائلی نہیں گئے بلکہ وہ سابق فوجیوں اور مقامی مسلمانوں نے اپنے جذبہ ایمانی کی بنیاد پر آزاد کروائے۔پونچھ شہر کا محاصرہ کر لیا گیا غازی محمد امیر خان ریاست کے صدر دفتر یعنی مہارانی کے محل تک پہنچ گئے اور شدید زخمی ہو گئے۔کرنل ہدایت خان کی قیادت میں مجاہدین دیوی گلی ہجیرہ اور مہنڈر کو فتح کرتے ریاسی تک پہنچ گئے۔یہ سارے علاقے فضائی مدد نہ ہونے کے باعث مجاہدین کے ہاتھ سے نکلے اور موجودہ آزاد کشمیر بچ گیا۔
اگر قبائلی نہ آتے تو جہاد تو ان سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔آج کے آزاد کشمیر کا صرف پچیس فیصد آزاد کشمیر ہوتا۔جس میں صرف پونچھ اور میرپور ڈویژن شامل ہوتے۔جو لوگ کہتے ہیں قبائلی مجاہدین کی وجہ سے بھارت کو حملے کا موقع ملا وہ نا انصافی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔قبائلی نہ بھی آتے تو جب پونچھ میرپور پلندری کوٹلی ہجیرہ مہنڈر راجوری ریاسی اس کے ہاتھ سے نکلتے تو کیا بھارت جس کا پہلے سے مہاراجہ سے گٹھ جوڑ موجود تھا خاموش ہو کے بیٹھ رہتا۔قبائلی آزاد کشمیر سے کچھ لے کر نہیں گے بلکہ اپنا خون بہا کر درجنوں قبرستان اباد کر کے گئے۔آج کا پورا مظفرآباد ڈویژن قبائلی مجاہدین کا تحفہ ہے۔
اس سارے علاقے میں جو ہزاروں مربع کلومیٹر ہے دس گھرانے بھی ایسے آپ نہیں دکھا سکتے جو گواہی دیں کہ قبائلی مجاہدین نے کوئی لوٹ مار کی۔پونچھ اور میرپور میں تو آئے ہی نہیں۔
ریاست کی تقسیم کا الزام قبائلی مجاہدین پر دھرنے والے اس سوال کا جواب بھی نہیں دے سکتے کہ کیا گلگت بلتستان پر بھی قبائلی مجاہدین نے حملہ کیا تھا نہیں بلکہ گلگت سے راولاکوٹ تک یہ سو سالہ ڈوگرہ بربریت اور تقسیم ہند کے فارمولے کے خلاف عوام کی بغاوت تھی۔قبائلی مجاہدین کا اعزاز یہ ہے کہ وہ ان نہتے مظلوموں کی مدد کو آئے جو پختونوں کا خاصہ ہے۔
مجاہدین کے خلاف پروپیگنڈے کی بنیاد ہری سنگھ کے مظفرآباد میں مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہونے والے ڈپٹی کمشنر اشوک مہتہ کی بیوہ کرشنا مہتہ کے پروپیگنڈے کو بنایا جاتا ہے۔کرشنا مہتا کی زندہ سلامت ہندوستان واپسی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمت کرنے والے ڈپٹی کمشنر کی بیوی ہونے کے باوجود اس کو اس لیے نہیں چھیڑا گیا کہ وہ ایک عورت تھی۔ہندوستان پہنچ کر وہ را اور ار ایس ایس کے ہتھے چڑھ گئی اور وادی کشمیر کے مسلمانوں کو پاکستان سے بر گشتہ کرنے کے مشن میں شامل ہو گئی۔جس پر شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے قوم پرست پہلے ہی عمل پیرا تھے۔وہاں را کی ہدایت کاری میں اس نے اپنی مظلومیت کے پروپیگنڈے والی کتاب بھی لکھی جس کو مقبوضہ کشمیر میں تو کوئی پذیرائی نہ مل سکی لیکن آزاد کشمیر میں کچھ لوگ اسے بائبل کا درجہ دیے ہوے ہیں
کشمیر میں قوم پرستی کے بانی اپنی خود نوشت آتش چنار کے صفحہ 393 دوسرے پیرا گراف میں یوں رقمطراز ہیں
“قبائلی حملے کے بعد جب ہم نے دوبارہ ان علاقوں پر قبضہ کر لیا جہاں قبائلی وقتی طورپر چھا جانے میں کامیاب ہو گے تھے تو ہم نے دیکھا کہ گلمرگ میں ہوٹلوں اور دیگر سرکاری مکانات کا تمام مال و اسباب لوٹ لیا گیا تھا۔اس مال میں کٹلری کراکری قیمتی قالین اور دوسرا ارائشی سامان شامل تھا۔یہ لوٹ مار قبائلیوں نے نہیں کی تھی بلکہ اوڑی اور بارہمولہ کے اس پاس کے لوگ قبائلیوں کے بھیس میں یہاں آئے تھے اور ہر چیز پر ہاتھ صاف کر گئے تھے۔چونکہ ان لوگوں نے گلمرگ کے ہوٹلوں اور دیگر مکانات میں چوکیداروں یا بیروں کی حیثیت سے کام کیا تھا۔اس لیے انھیں سامان کے محل وقوع اوراس کی قیمت کا پورا علم تھا”
اکا دکا واقعات بے اعتدالی کے کہاں نہیں ہوتے کوئی منظم سے منظم فوج بھی ان سے مبرا نہیں۔آج کی دنیا میں فرینڈلی فائر کا نام دے کر ان واقعات کو دفنا دیا جاتا ہے۔لیکن چند واقعات کی بنیاد پر قبائلی مجاہدین کے اس احسان کو نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ آج کا مظفرآباد وادی نیلم اور ہٹیاں بالا اگر انڈیا کی بربریت سے بچے ہوے ہیں تو یہ ان عظیم قبائلی مجاہدین کی وجہ سے ہے ورنہ آج کوہالہ کے مقام پر بھی بھارتی ترنگا لہرا رہا ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں