ماں کی گود اجڑ گئی۔۔۔۔ تحریر: سردار کامران غلام

آفتاب کو پیار سے سب چَنی کہتے تھے، آفتاب کے نام کیلئے سورج سے استہارہ نہیں لیا گیا ، اُس کی ماں نے اُسے چاند اور پھر پیار سے چَنّی کہہ کر پکارہ، ماں کی محبت نے انتہا چَنّی لفظ تک لے گئی۔ جو لوگ پبلک ٹرانسپورٹ پرسفر کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ چَنّی کون تھا؟ وہ ایک ایسا تارہ زمین پر تھا جو کبھی گاڑی کے پیچھے گرتے ہوئے نظر آتا اور کبھی گاڑی کی چھت پر پڑا نظر آتا۔ ہر وقت مسکراتے ہوئے بات کرتا، مسافروں سے کرایہ لینے کا طریقہ بھی مودبانہ اور عاجزانہ تھا۔ سیکرٹری سجاد صاحب چھپڑابان والے کی گاڑی پر زیادہ عرصہ اپنی روشنی آفتاب اور چَنّی بن کر بکھیرتا رہا۔ اچانک سے چھت سے گر گیا اور اِسی سال جسے غم کا سال لکھا جائے تو غلط نہ ہو گا، مفلوج ہونے کے بعد دنیا کی رنگینیوں کو خیر باد کہتے ہوئے کہیں غروب ہو گیا۔
اسی سال سابق سپیپکر اسمبلی سردار غلام صادق صاحب، سابقہ وزیر تعلیم چوہدری مطلوب انقلابی اور سابقہ مشیر حکومت سردار محمد حلیم خان اس دنیا کو چھوڑ کر سفر آخرت اختیار کیا۔ سیّد منور حسین شاہ صاحب جو کہ ایک عالم دین تھے ، بھی ہمیں چھوڑ کر رخصت ہو گئے۔ اسی طرح راولاکوٹ کے مشہور تاجر سردار افتخار خان نے بھی جوان عمری میں زندگی سے منہ موڑ لیا۔ اس سال کو غم کا سال نہ کہیں تو کیا کہیں؟اسی طرح آزاد کشمیر کے بے شمار ہونہار ڈاکٹرز ،جن میں ڈاکٹر صادق حسین صاحب نے بھی ہم میں نہ رہے۔
ہماری سیاست کے بڑے کردار ہوں، تجارت کے ہوں، شعبہ صحت عامہ کے ہوں یا عام زندگی سے ، اس دھرتی ماںکو چھوڑ کر اجل کے ساتھ سفر کرتے ہوئے کسی دوسرے جہان میں چلے گئے۔ یہ بڑے بڑے کردار ، یہ بڑے بڑے خزانے زمین نے اپنے اندر سمو لیے۔

غلام صادق صاحب مرحوم نے عام زندگی سے لے کر سیاست کے بلند پائیدانوں پر اپنے قدم جمانے تک کا سفر نہایت ، ہمت ،حوصلہ اور استقامت سے طے کیا۔ اسی طرح مطلوب انقلابی صاحب نے کم عمری میں اپنی طلسماتی شخصیت کا جادو جگاتے ہوئے سیاست کے بلند اعوانوں میں روشنی بکھیری ۔ سردار محمد حلیم خان نے اپنے شعبہ صحت عامہ سے بھی منسلک رہتے ہوئے اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کی خاطر ، خدمات کا لازوال سلسلہ بھی جاری رکھا۔ جب بھی ملنا، خوش مزاجی سے ملنا، جب بھی بولنا، اپنے نام کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے حلیمی سے ملنا۔ کبھی بھی کسی کیلئے اپنے دروازے ہمیشہ کھولے رکھنا، ہمہ وقت لوگوں کی خدمت میں کھڑے رہنا، اُن کا وطیرہ بن چکا تھا۔ڈاکٹر صادق حسین صاحب نے شعبہ صحت عامہ میں لازوال خدمات سرانجام دیں.

سردار افتخار خان کو دیکھ لیجیے کہ 35ہزار سے کاروبار کا آغاز کرتے ہوئے اُس کو اتنے وسیع پیمانے پر پھیلانا، اُن ہی کے حصے میں آیا، نوجوانوں کو یہ پیغام کہ یہاں رہ کر بھی اگر اپنے پروفیشن کے ساتھ لگن رکھی جائے تو اِسی دھرتی کے اندر روزگار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ سیّد منور حسین شاہ صاحب کی شخصیت کو لے لیجیے ، ساری عمر زہد وتقویٰ ، اللہ کے ساتھ لو لگائے رکھنا، مذہبی رہنمائی فراہم کرنا، قرآن پاک سکھانا، علم کی شمعیں روشن رکھنا، اخلاق و کردار کو آئینہ بنا کر رکھنا تاکہ باقی لوگ بھی راہ نہ بھٹک سکیں۔ ہائے یہ کیسی شخصیات تھیں کہ جن خزانوں کو زمین نے اپنے اندر سمو لیا۔بقول مرزا اسد اللہ خاں غالب:
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لعیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
یعنی: اگر میں خوش قسمت یا اہل اقتدار ہوتا تو میں زمین سے پوچھتا کہ اے خسیس (کنجوس) تو نے وہ بیش بہا قیمتی خزانوں کا کیا کیا؟
وہ سارے خزانے زمین نے اپنے اندر سمو لیے اور ہمارے لیے ویرانیاں ہی بچی ہیں۔ اتنے عالی شاں لوگ اس میں دفن ہو گئے کہ جو ہمارے اردگرد کم خزانے بچ چکے ہیں۔ ہمارا المیہ تو یہ ہے کہ جیتے جی ہمیں ان کی قدر نہیں ہوتی، اب جب ہم اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ہم جیسے بے وقعت لوگ زمین کے سینہ پر قدم دوڑاتے ہیں، جن کے قدم زمین کو چومنے چاہییں تھے اُن کو شاید زمین نے محبت میں اپنی گود میں ہی جگہ دے دی۔
اسی طرح بقول اسداللہ خاں غالب:
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
یہ وہ سارے لوگ ہیں جو ہمیں پیارے تھے، اس دھرتی ماں کو پیارے تھے، وہ اُن کے کتنے پیارے ہوئے ہوں گے جو اُن کے بہت اپنے تھے، ہم بھی اُن کے اپنے ہی تھے بلکہ یوں کہیے کہ وہ ہمارے تھے، لیکن جن کے وہ تھے اُن کی تو گودیں اُجڑ چکی ہیں۔اُن مائوں کی گود کے ساتھ اس دھرتی ماں کی گود بھی اجڑ چکی، 2020؁ء غم کا سال رہا، اجڑی ہوئی مائوں کی گودیں ، اُجڑی ہوئی دھرتی ماں کی گود۔

اپنا تبصرہ بھیجیں