انیس جولائی عہد وفا

سردار محمد حلیم خان

تین جون 1947 کو تقسیم ہند کے قانون ساتھ ہی انگریزوں کی طرف سے طفیلی ریاستوں کے ساتھ کیے گے معاہدے بھی ختم ہو رہے تھے۔اگر مسئلہ صرف اتنا شا ہوتا کہ انگریز ہندوستان چھوڑ کر جا رہے ہوتے تو طفیلی ریاستوں کا معاملہ بڑا آسان تھا کہ وہ انگریزی سرکار کی جانشین حکومت سے ویسے ہی معاہدے کر کے اس کی اطاعت قبول کر لیتے جیسے انھوں نے انگریزوں کی کر رکھی تھی لیکن یہاں معاملہ مختلف تھا۔برصغیر کے مسلمانوں نے دو قومی نظریے کو انگریزوں اور ہندووں سے منوا لیا تھا اس لئے انگریزوں کے جانے کے بعد برصغیر دو مملکتوں میں تقسیم ہونے جا رہا تھا تو سوال یہ تھا کہ انگریزوں کی باجگزار ریاستوں کا مستقبل کیا ہو گا۔پانچ سو ستر ریاستوں میں سب سے بڑی تھیں جموں و کشمیر سکم حیدرآباد اور جو نا گڑھ۔سکم نے انگریزوں کے ساتھ کیے گے معاہدے کے عین مطابق معاہدہ مجوزہ نئی مملکت انڈیا کے حکمرانوں سے کیا۔جو نا گڑھ نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا جبکہ حیدرآباد نے آزاد ملک کے طور پر رہنے کا اعلان کرتے ہوے اقوام متحدہ سے نئے ملک کو تسلیم کرنے کی درخواست بھی کر دی۔
صرف کشمیر کا ہندو مہاراجہ لیت ولولے کر رہا تھا۔وہ کانگریس کے رہنماوں سے یہ گارنٹی چاہتا تھا کہ ایسا بندوبست کیا جائے کہ بھارت سے الحاق کے باوجود اس کی شخصی اور خاندانی حکمرانی پر کوئی زد نہ پڑے بلکہ سکم کی طرح ایسے ہمیشہ تحفظ کی گارنٹی دی جائے۔یہ گارنٹی نہ ملنے کی وجہ سے وہ دم سادھے بیٹھا تھا اور ہندوستانی لیڈروں سے خفیہ ملاقاتیں کر رہا تھا۔ایسے میں ریاست کے مسلمانوں کی حقیقی ترجمان آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے آگے بڑھ کر صورتحال کا جائزہ لینے اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے جنرل کونسل کا اجلاس سری نگر میں بلایا۔ایک عینی شاہد بشیر قریشی لکھتے ہیں ک ریاست کے مستقبل کے لئے تین آپشن پر تفصیلی غور کرنے کے بعد مہاراجہ سے مطالبہ کیا گیا کہ ریاست کا الحاق پاکستان سے کیا جائے۔مسلم کانفرنس نے اسی منشور کے تحت الیکشن میں حصہ لیا تھا اور اسی وجہ سے اسے اس قدر پزیرائی ملی تھی کہ اسمبلی کی منتخب نشستوں میں سے اسی فیصد پر اس کے نمائندے کامیاب ہوے تھے۔اس طرح اس اجلاس اور اس میں پاس ہونے والی قرارداد کی وہی حیثیت ہے جو مسلم لیگ گے دہلی کنونشن کی قرارداد کی ہے۔یہ قرارداد عوام کے جذبات کی اس قدر حقیقی ترجمانی تھی کہ آج ستر سال بعد بھی پاکستان کے تمام تر جان راجہ ہتھکنڈا اور پاکستانی حکمرانوں کی بے عملی کے ساتھ لاکھوں شہداء کی قربانیوں کے باوجود ریاست کا شہید ہونے والا اپنے لئے کسی تمغے کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ صرف پاکستانی پرچم میں دفن ہونے کی آرزو رکھتا ہے۔
یہ وہی عہد وفا ہے جو کشمیریوں نے 19 جولائی 47 کو سردار محمد ابراہیم کے گھر باندھا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں