کورونا وائرس۔بقائے بہترین یا بقاے امیر ترین ؟ انیس قمر عباسی/نقطہ نظر

وبا کے اس دور میں کہ جہاں تقریبا 3 مہیے سے کاروبار دنیا بری طرح نہ صرف متاثر ہے بلکہ اگر یہ کہا جاے کہ بند ہے تو غلط نہ ہو گا۔ ذرا آج سے 3 ماہ پہلے پر غور کیجیے ہم سب اپنے آپ کو کتنا مصروف محسوس کرتے تھے ۔ کسی کی بات تک سننے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔ دولت کمانے کے چکر میں دنیا ایسی مشغول تھی کہ شاید واحد مقصد زندگی یہی بن گیا تھا۔

مغرب میں تو خیر فیملی سسٹم پہلے ہی ختم تھا لیکن گزشتہ 2 عشروں سے یہ نظام مشرق میں بھی تقریباً ختم ہوتا جا رہا تھا۔ ہر کوئی بھاگم بھاگ لگا ہوا تھا ، نہ اولاد کے پاس ماں باپ کے لیے وقت تھا اور نہ ماں باپ کے پاس بچوں کے لیے (دیگر رشتہ دار تو دور کی بات ہے)۔
لیکن پھر ایسا ہوا وہ دنیا کہ جو آج بڑی بڑی تخلیقات کر رہی، انسانوں کی کاپی (Clones) مشینیں بنا رہی تھی، مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجی کے استعمال سے دنیا کی ہر ایک چیز کو ممکن کر دیا تھا۔ زمیں میں موجود چیزوں پر کنٹرول تو معمولی بات بن گئی تھی، اب دیگر سیاروں و ستاروں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی جنگ ہو رہی تھی کہ اچانک ایک ایسی چیز کہ جس کا کوئی باقاعدہ وجود بھی نہیں ہے ، جو خود سے زندہ بھی نہیں رہ سکتی اور نہ ہی پھل پھول سکتی نے اس سارے انسان کو گھر تک محدود کر کے رکھ دیا۔

وہ دنیا کی ساری چکا چوند، وہ مارکیٹوں میں خریداروں کا رش، وہ ہوٹلوں ، ریستورانون، چاے خانوں ، کلبوں اور بارز میں لوگوں کی محفلیں ، وہ تعلیمی اداروں میں اٹھکلیاں کرتے طلبا و طالبات، وہ سکولوں میں کھیلتے ، کودتے بچے ، وہ فیکٹریوں میں کام کرتے مزدور، وہ حکومتی اداروں میں کام کرنے والے بیورو کریٹ ، وہ عوام کے ہجوم میں زندہ رہنے والےسیاستدان، وہ لوگوں سے کچھا کھچ بھرے ہوے ہوائی جہاز، ریلیں، بسیں اور سڑکوں پر کاروں کا ہجوم ، غرضیکہ ہر ایک چیز بند ہو کر رہ گئی اور اور بقائے انسانی کو تہنائی سے مشروط کر دیا گیا۔

پوری دنیا میں یہ کوشش کی گئی اور کی جا رہی کہ گھر بیٹھ کر اس وائرس سے جان چھڑائی جاے۔ یہ بات اپنی جگہ درست کہ اس سے بہت فائدہ ہوا اور اس بیماری کا پھیلاو کسی حد تک کم تو ہوا پوری دنیا پر قابض اشرافیہ آخر کب تک اپنے کاروبار کو بند کر سکتی ہے کیونکہ ان کے نزدیک تو زیادہ سے زیادہ مال بنانا ہی اول آخر زندگی کا مقصد ہے چاہے وہ ادویات بیچ کر کمایا جائے یا اسلحہ بیچ کر (کتنی خوبصورت بات ہےنہ جس چیز سے زندگیاں ختم ہو رہی وہ بیچ کر بھی پیسا کمایا جا رہا اور جس چیز سے زندگیا بچ رہی وہ بیچ کر بھی)۔
دنیا کے بڑے بڑے بین الاقوامی ادارے اب Herd Immunity ( یعنی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کا شکار ہونے دیں اور پھر ان کے اندر خود سے قوت مدافعت پیدا ہو جاے) کے اصول کو اپنانے پر آمادہ ہیں کیونکہ اس کے موثر علاج اور ویکسین کی تیاری میں بھی کم از کم ایک سال تو لگے گا اور بقول نصرت جاوید “سادہ ترین الفاظ میں عالمی اشرافیہ نے اتفاقِ رائے سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بتدریج لاک ڈائون میں نرمی لاتے ہوئے کاروبار بحال کردئیے جائیں۔ وباء کا موسم جاری رہا تو لاک ڈائون میں نرمی لانے کی وجہ سے مزید اموات یقینا ہوں گی۔کرونا کے ممکنہ شکار مگر گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران اس کی زد میں آکر اس جہاں سے رخصت ہوچکے ہیں۔ اموات اب نسبتاَ کم ہوں گی۔آفت کا نقطۂ عروج یعنی Peakگزرگیا۔ایک Peakبھگتالینے کے بعد اگر ایک اور Peakبھی آگئی تو پریشان کیوں ہوں۔موت بہرحال برحق ہے۔ دُنیا میں آئے ہوتو یہاں سے جانا بھی ہے۔ وباء کی ایک اور Peakکی زد میں آکر مزید انسان ہلاک ہوگئے تو سوائے صبر کے اور کوئی چارہ نہیں۔ زندگی رواں رکھنا بھی تو ضروری ہے۔

ذراٹھنڈے دل سے دُنیا بھر کی حکمران اشرافیہ کے ذہنوں پر حاوی نئی منطق پر غور کریں تو انسانی آبادیوں پر جنگل کا قانون نافذ کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔ جو بچ گیا وہ خوش نصیب والی سوچ درحقیقت ڈارون کی دریافت کردہ Survival Of The Fittestکی بازگشت ہے”۔

لیکن جیسے کہا جاتا کہ غریب ہر طرف سے مارا جاتا ہے اسی طرح اگر وبا کے اس دور میں لاک ڈاوں کومزید سخت کیا جاے تو وہ لوگ تو جن کے پاس مناسب وسائل موجود ہیں انہیں تو کئی مسلہ نہیں وہ گھر بیٹھ کر بھی اپنے گھر کا نظام چلا لیں گے لیکن وہ غریب جو پہلے ہی غریب تھا اور روز کما کر روز کھاتا تھا اس کی نصیب میں تو پھر یہ بیماری نہ صیح لیکن بھوک کی بیماری سے مر جاے گا۔ اور دوسری صورت میں کہ لاک ڈاون کو نرم کر کے کاروبار زندگی بحال کیے جائیں اس صورت میں اگر غریب کو اس طرح کی بیماری لگ جاتی تو وہ ہسپتال کا خرچہ کیسے اٹھائیں گے، امیر تو اپنا مدافعتی نظام بھی مختلف قسم کی خوراکوں سے مضبوط کر سکتے لیکن غریب جو کہ صرف دو وقت کی روٹی کمانے کے چکر میں ہوتا اپنا مدافعتی نظام کیسے مظبوط کرے گا کہ وہ خود سے اس وائرس کا مقابلہ کر سکے۔
یوں ہر دو صورتوں میں یہ “بقائے بہترین” (Survival of the Fittest) نہیں بلکہ “بقاے امیر ترین ” (Survival of Richest) ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں