آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے لبرل / سیکیولر اور کمیونسٹ طبقے کی منافقت

وزیرستان جہاں درجنوں انتہائی مضبوط مسلح گروپ پاکستان کے خلاف لڑ رہے ہیں اور افغانستان سے بارڈر کراس کر کے مسلح لوگوں کا اندر آنا اور سیکیوریٹی فورسز پر حملے کرنا بھی ایک معمول ہے۔ اور وہ مسلح گروپ اتنے سفاک ہیں کہ انھوں نے اے پی ایس میں 150 بچے بھی شہید کئے۔ پاک فوج کے جوانوں کے سروں سے فٹ بال بھی کھیلے۔ بازاروں، ہوٹلوں، مسجدوں، امام بارگاوں، مدرسوں، سکولوں، پولیس کالجوں ہر جگہ دھماکے کئے۔ یعنی انھوں نے کوئی تفریق نہیں کی مارنے میں۔
اگر وزیرستان میں کوئی سیویلین شخص نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہو جائے تو ہمارے یہ آزاد کشمیر کے سیکیولر لوگ جو زیادہ تر جھوٹ بول کر یورپ، کینیڈا، امریکہ گئے ہوئے ہیں پاک فوج یا پاکستان کی ایجنسیوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ دھماکے کرکے لاکھوں لوگوں کو مارنے والے کسی مسلح گروپ کی جانب ان کی نظر نہیں جاتی۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں جہاں 9 لاکھ انڈین فورسز تعینات ہیں۔ مسلح جدوجہد اس وقت انتہائی کمزور ہے۔ آزاد کشمیر سے کسی کا داخل ہونا باڑ کی وجہ سے ناممکن نہ سہی انتہائی مشکل ہے۔ وہاں برسر پیکار مسلح جدوجہد کرنے والے حریت پسندوں کا یہ اصول رہا ہے کہ کبھی کسی عام شہری چاہے وہ بھارت کا حمایتی ہی کیوں نہ ہو نہیں مارنا ہے۔ انھوں نے کبھی دھماکے نہیں کئے۔ کبھی عام لوگوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ لیکن وہاں اگر کوئی سویلین شخص نامعلوم افراد کے ہاتھوں مارا جائے تو یہ سیکیولر طبقہ کہتا ہے کہ یہ حریت پسندوں کی کاروائی ہے۔ یعنی یہ انڈین ایجنسیوں اور انڈین فوج کو معصوم سمجھتے ہیں۔

بابر قادری کو قتل کس نے کیا اس کا اندازہ آپ خود لگائیں کہ انڈین نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر ہندوستان مردہ باد کہنے والے، آزاد کشمیر راولاکوٹ کے مرد حر کی کشمیر کی عدالتوں میں وکالت کرنے والے، کشمیر کے معصوموں کے لئے عدالت میں لڑنے والے بابر قادری کو کون قتل کر سکتا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں